Urdu News and Media Website

ٹریفک نظام کا کو لہو

تحریر: محمد صفدر سکھیرا

ہر گزرتے دن کے ساتھ ٹریفک مسائل بڑھتے ہی جا رہے ہیں ،سمجھ نہیں آتی اتنے ہائی کوالیفائیڈافسران ،ٹریفک ماہرین کیوں خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں یا پھر ٹریفک قوانین کا مکمل اور سختی سے اطلاق اس لئے نہیں کیا جا تا کہ کمائی کم ہو جائے گی ۔شہریوں کو پتہ ہو ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری نہ کرنے پر گاڑی،موٹر سائیکل سڑک پر نہیں لا سکتے تو حادثات اور بلاوجہ ٹریفک جام نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کی پابندی محفوظ سفر کے لئے انتہائی ضروری ،اس سے انکار کسی طور ممکن ہی نہیں ہے۔ٹریفک حادثات خاص کر موٹرسائیکل سوار جب حادثے کا شکار ہوتا ہے تو زیادہ تر چوٹ سر پر ہی لگتی ہے جو اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے مگر ٹریفک حکام کو چاہئے صرف سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کو تر جیح بنانے کی بجائے دیگر پہلوو ¿ںپر بھی توجہ دیں جو حادثات اور ٹریفک جام کی بنیادی وجوہات ہیں۔ لاہور کی زیادہ تر شاہراہوں پر گاڑی چالیس کلومیٹر سے زیادہ سپیڈ پر چل ہی نہیں سکتی وہاں سیٹ بیلٹ سے زیادہ لین ، ون وے ،ٹریفک سگنل کی پابندی ضروری ہے۔شہر میں سب سے زیادہ حادثات ٹریفک سگنل کی پابندی نہ کرنے سے ہو رہے ہیں۔صوبائی دارالحکومت کے باسی سگنل توڑنا ،ون وے کی خلاف ورزی کرنا ”فرض “ سمجھتے ہیں۔طویل عرصے سے تماشا دیکھا جا رہا ہے سال میں ایک دو بار ہلچل ہو تی ہے کبھی سیٹ بیلٹ کی پابندی کے نا م پر دھڑادھڑ چالان کئے جاتے ہیں تو کبھی ہیلمٹ لازمی مہم کے نام پر کروڑوں روپے اکٹھے کر نے کے بعد خاموشی چھا جاتی ہے اس کے بعد پھر وہی بھیڑ طال ہوتی ہے۔لاہور کے کسی بھی ٹریفک سگنل پر کھڑے ہو کر مشاہدہ کر لیں سگنل توڑنے والوں کو روکا ہی نہیں جا تا اور یہی لوگ حادثات کی وجہ بنتے ہیں۔گزشتہ روز ہی سیف سٹی کے کیمرے کی ویڈیو جاری کی گئی جس میں ٹریفک سگنل پر موٹر سائیکل سوار اور رکشہ میں ٹکر ہوئی۔کیا ایسے عادی مجرمونںکو کوئی لگام ڈالنے والا نہیں ہے، لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے،تریفک سگنل پر پولیس اہلکار کو ڈنڈا پکڑا کر کھڑا کر دیں کسی مین خلاف ورزی کی ہمت نہیں ہو گی ۔اگر ٹریفک حکام سمجھتے ہیں پوسٹر تقسیم کرنے سے یہ لوگ سدھر جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے،ہم ذمہ داریاں نبھانے اور اخلاقی طور پر دن بدن پستی کی طرف جا رہے ہیں۔کچھ عرصہ قبل مال روڈ پر سٹیٹ بنک ٹریفک سگنل پر دیکھا مو ٹر سائیکل سوار دو نوجوانوں نے سگنل کھلنے پر پانی بوتل سائیڈ پر کھڑی لیڈی ٹریفک وارڈن پر انڈیل دی اور قہقہے مارتے یہ جا وہ جا۔یہ ہیں ہم میں اخلاقیات ۔نئی نسل کو جب خواتین کی عزت واحترام کرنا ہی نہیں سکھایا جا تا وہ ٹریفک قوانین کی پاسداری خاک کریں گے،جب تعلیمی اداروں میں ناچ گانے کی محفلوں کی کھلی چھٹی اور مذہبی شخصیات کے داخلے پر پابندی ہوگی تو پھر ایسے نتائج ہی سامنے آتے ہیں۔صوبائی دارالحکومت میں چلنے والی ویگنوں ،رکشوں،چنگ چی میں ستر فیصد سے زائد انڈیکیٹر ہیں نہ ہی سائیڈ ویو مررز۔جہاں دل کرتا ہے بریک لگا دیتے ہیں ،بغیر پیچھے دیکھے دائیں بائیں مڑ جاتے ہیں اور زیادہ تر ڈرائیورزبھی نو عمر لڑکے ہیں۔کونسا مافیا ہے جو ان کے خلاف ایکشن نہیں لینے دیتا یا منتھلیاں زبان اور ہاتھوں پر تالے لگا دیتی ہیں۔شہر میں ون ویلنگ کا خونی کھیل دن بدن بڑھتا جا رہا ہے متعلقہ حکام قابو پانے میں مکمل ناکام ہیں۔زیادہ زور اسی بات پر ہے ون ویلر کو پکڑ کر حوالات میں بند کر و،اگلے دن عدالت سے ضمانت ہو جا تی ہے اور ہزار روپے جرمانے میں جان چھوٹ جاتی ہے ۔ان ناقص اور بوسیدہ گھسے پٹے قوانین کی وجہ سے ایسے خونی کھیلوں میں شدت آتی ہے،سدباب کے لئے اصلاحات ضروری ہیں،سسٹم کو تبدیل کرنا ہو گا ،ون ویلنگ کرنے والے زیادہ تر نو عمر لڑکے ہیں جو حد سے زیادہ جذباتی ہوتے ہیں ۔پکڑے جانے کے بعد حوالات کی ہوا کھاتے ہیں بے عزتی ہوتی ہے تو ان میں اور شدت آتی ہے۔اس مسئلے میں جب تک والدین کو شامل نہیں کیا جاتا قابو پانا ممکن نہیں ۔ون ویلنگ کے حوالے سے قوانین بھی اتنے سخت کت دینے چاہئے کہ والدین نو عمر بچوں کو بائیک دینے سے پہلے ہزار بار سوچیں جب تک بلا تفریق سختی نہیں برتی جائے گی مسائل بڑھتے ہی جا ئیں گے۔ٹریفک قوانین پر عملدرآمد نہ کرنے والوں کے چالان کرنے سے آگے بڑھنا ہو گا۔عادی مجرموں کی گاڑیاں ،موٹر سائیکلیں مہینے دو کے لئے ضبط کی جائیں۔ڈرائیونگ لائسنس معطلی کی تجویز دے ہی نہیں سکتے کیونکہ اکثریت کے پاس لائسنس ہیں ہی نہیں۔گاڑیاں ،موٹرسائیکلیں ضبط ہونے سے عقل ٹھکا نے آجائے گی۔دو چا ر سو کے چالان سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی رکتی نہیں بڑھتی ہے جب تک ٹریفک کا گھساپٹا سسٹم تبدیل نہیں ہوتا آپ ترکی کے ماہرین ٹریفک کو لائیں یا کسی ترقی یافتہ ملک کی معاونت حاصل کریں تبدیلی ممکن نہیں۔آئے دن ٹریفک وارڈنز اور شہریوں میں جھگڑوں کی بنیادی وجہ قوانین کا یکساں نفاذ نہ ہونا ہے۔لاہور کے شہریوں کے لئے ایک اور مصیبت رات گیارہ بجے شروع ہوتی ہے۔ٹرک ٹرالر شہر میں داخل ہوتے ہی اندھا دھنددوڈ لگا تے ہیں۔ٹریفک سگنل پر رکنا جانتے ہی نہیں نتیجتاً دن کی نسبت صوبائی دارالحکومت میں رات کے وقت ٹریفک حادثات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ہیوی ٹرانسپورٹ کے شہر مین داخلے کے وقت زیادہ تر ٹریفک سگنلز پر وارڈن تعینات نہ ہو نے اور سگنلز کی خلاف ورزی کرنے پر ٹرک شہریوں کو کچل رہے ہیں۔ٹریفک حکام سے التماس ہے صرف سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کو کلی ٹریفک قوانین نہ جانیں اصل مسائل کے خاتمے کے لئے جامع حکمت عملی بنائیں ،حادثات ،ٹریفک جام کی بنیادی وجہ دیگر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔شہر میں ٹریفک سگنل ،لین ،ون وے کی خلاف ورزی رک جائے ،پبلک ٹرانسپورٹ ،گاڑیوں ،موٹرسائیکلوں کے انڈیکیٹر ،سائیڈ ویومرر لازمی قرار دیئے جائیں تو حادثات پر بڑی حد تک قا بو پایا جا سکتا ہے۔عادی مجرموں کے ساتھ سختی کے ساتھ نمٹا جائے عام لوگ خود بخود سیدھے ہو جائیں گے۔٭

تبصرے