Urdu News and Media Website

دنیا کی بلندترین عمارت برج خلیفہ کی چوٹی پر اشتہار کیسے بنا؟

حال ہی میں خلیجی ائیرلائن ایمریٹس نے دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کی چوٹی پر اشتہار کی عکس بندی کی ہے۔

ایمریٹس نے تصدیق کی ہے کہ برج خلیفہ کے ٹاپ پر کریو ممبر کے یونیفارم پہنے عکس بند کیا جانے والا اشتہار کسی بھی قسم کے خصوصی ایفیکٹس پر عکس بند نہیں کیا گیا بلکہ یہ اشتہار حقیقی طور پر عمارت کے ٹاپ پر شوٹ کیا گیا ہے۔

تاریخ کا بلند ترین اشتہار

حال ہی میں مختلف میڈیا پلیٹ فارم پر 30 سیکنڈ پر مشتمل تاریخ کے بلند ترین اشتہار کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں معروف اسٹنٹ خاتون اور پروفیشنل اسکائی ڈائیونگ انسٹرکٹر نکول اسمتھ لڈوک کو بطور کیبن کریو ممبر دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ کے سب سے اونچے مقام پر کھڑے دکھایا گیا ہے، ان کے ہاتھ میں ایمریٹس کے پیغام والے کچھ کارڈز بھی موجود ہیں۔

اشتہار میں نکول اسمتھ کے عقب میں دبئی اسکائی لائن کا شاندار نظارہ بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

تاہم اب نجی ائیر لائن ایمریٹس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر اشتہار کی شوٹنگ کی ایک ویڈیوبھی شیئر کی گئی ہے ، ویڈیو میں اسٹنٹ خاتون کو برج خلیفہ پر کی جانے والی شوٹنگ کے لیے تربیت لیتے اور چڑھتے دکھایا گیا ہے۔

اشتہار فلمایا کیسے گیا؟

عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اشتہار درحقیقت بہترین منصوبہ بندی، سخت حفاظتی اقدامات، تربیت اور جانچ کے بعد شوٹ کیا گیا جب کہ پورے اشتہار کی شوٹنگ کے دوران حفاظت پہلی ترجیح تھی۔

اشتہار کے لیے مختص مقام برج خلیفہ پر خاتون انسٹرکٹر کو دو مختلف اور براہ راست چوٹیوں سے منسلک کیا گیا تھا، چوٹی سے منسلک کی جانے والی تاریں عقب سے خاتون کی وردی کے نیچے چھپائی گئی تھیں۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ اشتہار کی شوٹنگ کے لیے طلوع آفتاب کا وقت منتخب کیا گیا تھا جب کہ برج خلیفہ کے ٹاپ پر پہنچنے میں ٹیم کو ایک گھنٹہ 15 منٹ کا وقت لگا، ٹیم عکس بندی کے لیے تقریباً 5گھنٹوں تک مینار پر رہی جب کہ فوٹیج کو ایک ہی تسلسل سے عکس بند کرنے کے لیے شوٹنگ کے دوران ایک ہی ڈرون کا استعمال کیا گیا۔

ایمریٹس کا یہ اشتہار تاریخ کا واحد بلند ترین اشتہارقرار دیا گیا ہے جس کی شوٹنگ زمین سے 828 تک میٹر کی بلندی پر کی گئی۔

دبئی(ویب ڈیسک)

تبصرے