Urdu News and Media Website

نواز شریف کی دھمکیاں اور نظام عدل

تحریر:امتیاز احمد شاد۔۔
پاکستان جب معرض وجود میں آیا تو لوگوں کو یہ امید تھی کہ جن نا انصافیوں کا سامنا دور غلامی میں کرنا پڑا ان سے اب چھٹکارا مل جائے گا،آج کے بعد انصاف دہلیزپر ملے گا۔آغاز سے ہی جھوٹھے کلیم جمع کروائے گئے حقداروں کو ان کے حق سے محروم کیا گیا اس وقت لوگ آزادی کے سحر میں مبتلا تھے سب نظر انداز کر دیا ،ملکی ترقی کیلیئے شبانہ روز خود کو مصروف کر لیا،یہ سوچ کر کہ اگر اللہ نے آزادی کی نعمت سے نوازا ہے تو ایک دن عدل کا بھی راج ہو گا،وہ صابر اور شاکر بزرگ اس جہان فانی سے کوچ کر گئے جن کی آخری خواہش نظام عدل کا قیام تھی مگر اپنی نسلوں کو یہ درس دے کر گئے کہ ناامیدی کفر ہے ایک دن آئے گا کہ ہر طرف عدل کا بول بالا ہو گا،ظالم اگر پاتال میں بھی چھپا ہو گا تو اسے انصاف کا عمل گردن سے دبوچ کر چوراہے پر لٹکائے گا۔وطن عزیز کی جمہورنے جمہوری دور بھی دیکھے اور آمریت کا مزا بھی چکھا ۔ہر دور میں طاقتور کے دروازے پر انصاف پہرے دار بن کر بیٹھا رہااور مظلوم،بے کس جمہور کو انصاف کی جھلک تک سے محروم رکھا گیا۔بدقسمت عوام اس وقت بھی انصاف سے محروم رہی جب یہ ٹکے ٹوکری سر بازار بکتا رہا کیونکہ اسے وہ ٹکے بھی میسر نہ تھے۔اشرافیہ جب ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر چلتے ہوئے ملکی خزانے لوٹ کر بیرون ملک لے جارہی تھی اس وقت نظام عدل نہ صرف خاموش تھا بلکہ سہولت کار کے فرائض بھی سرانجام دے رہا تھا،نوبت یہاں تک آگئی کہ دنیا ہمارا تمسخر اڑانے لگی،کرپٹ کرپٹ کی صدائیں ہر سو ہمارے کانوں کے پردے پھاڑنے لگیں مگر نظام عدل لمبی تان کے سوتا رہا۔سویس بنک ہمارا منہ چڑاتا رہا،لمبی چوڑی جائیدادوں اور محلات کی بلندوبالافصیلیں جمہور کے ننگے پائوں سے مٹی تک کھینچ کر تعمیر کی گئیں مگر صدافسوس کہ انصاف کا مجسمہ ان بلند و بالا دیواروں سے اندر نہیں جھانک پایا ۔ اس کے باوجود جب عوام کی بجائے عدل کا نظام چیختا ہوا اپنے وقار کی دوہائیاں دیتا ہوا سڑکوں پے آیا تو اسی مایوس اجڑی ہوئی جمہورنے اسے کندھوں پر بیٹھایا،شہر شہر ،گائوں گائوں گھمایا،کئی گھر اجڑے،مگر اشرافیہ کی چند میل رفاقت نے اسے یوں محسوس کروایا کہ اس کا وقار اسی اشرافیہ کی وجہ سے جیسے بحال ہوا ہو۔پھر انصاف انہی کے ہاتھ کی چھڑی بن گیا،پی آئی اے لٹا،سٹیل مل برباد ہوئی،کرپشن کر کے اشرافیہ نے دولت کے انبار لگا لیئے،لانچوں سے اربوں روپے برآمد ہوئے،آیان علی نے جلوے دکھائے،دانیالوں نے وہ وہ تبرے کسے کہ الامان الاحفیظ مگر عدل سائیکل اور بکری چوروں کو نشان عبرت بنانے پر مصروف رہا۔اشرافیہ جمہور کو بار بار یہی بتاتی رہی کہ اب نہ صرف عدلیہ آزاد ہے بلکہ عدل ہوتا ہوا نظر بھی آ رہا ہے۔اس سب میں اچانک پانامہ کا ہنگامہ ہوا نظام عدل نے انگڑائی لی جمہور نے عدل ہوتا دیکھا طاقتور کو گٹھنے ٹیکتے دیکھا تو اشرافیہ چلائی ،شور مچایا،جو منہ میں آیا کھل کر کہا سڑکوں پر تماشہ لگایا عدل کے چوبوترے پر بیٹھے منصفوں کو للکارا مگر عدل نے وہ کر دکھایا جو جمہور ستر سالوں سے مانگ رہی تھی،لوگوں میں امید کی کرن جاگی،پنامہ کی زد میں آنے والوں کا شور تو سمجھ میں آتا ہے مگر موجودہ وزیر اعظم کا بیان کہ عدلیہ کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے، سن کر اندلس کے اس تاجر کا قصہ یاد آگیاجس نے عدلیہ کا فیصلہ یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ منصف حسب و نسب ،جاہ و جلال،مال و دولت اور زور بازو کے لحاظ سے مجھ سے کم ہے مگر وہی تاجر جب دیار غیر میں اپنا سرمایہ ڈوبنے کی شکایت لیکر وہاں کے منصف کے سامنے حاضر ہوا تو اسے کہا گیا کہ اگر تمہارے شہر کا قاضی تمہاری ایمانداری کی گواہی دے دے تو ہم تمہیں تمہارا نقصان حکومت کے خزانے سے پورا کر دیں گے۔واپس آ کر دوستوں سے مشورہ کیا ایک مخلص دوست نے کہا کاش آپ نے منصف اور عدلیہ کی تذلیل نہ کی ہوتی تو آج آپ کے اپنے ملک کا منصف آپ کے لیئے لڑرہا ہوتا ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ جب کسی حکومت کا سربراہ اپنی ہی عدالتوں کے فیصلوں کو ردی کی ٹوکری میں پھینک رہا ہو،عدلیہ نے جس کو نا اہل کیا اسے اپنا وزیر اعظم قرار دینے پر بضد ہواس ملک کے نظام عدل پر دنیا کیوں اعتبار کرے گی۔ریاست اگر کہیں جاگ رہی ہے تو اسے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ورنہ یہ بھانت بھانت کی بولیاں عدل کو اس حد تک رسوا کر دیں گی کہ خدانخواسطہ ریاست کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا،میاں صاحب کی دھمکیاں اب اس حد تک جا پہنچی ہیں کہ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کی باتیں بہت چھوٹی دکھائی دینے لگی ہیں ۔اس بات سے کون انکاری ہے کہ ملک کی رگوں سے خون تک نچھوڑا گیا ،خزانے خالی ہوئے،ملک سر سے پائوں تک قرضوں میں دھنس چکا۔ملک نے ستر سالوں میںسے نصف عمر آپ کی راہبری میں گزاری پھر بھی آپ غصے میں آ کر یہاں تک فرما جاتے ہیں کہ مجھے مجیب الرحمن کی طرح باغی بننے پر مجبور نہ کرو،چیف جسٹس آف پاکستان کو نام لے کر للکارنا اور ساتھ یہ بھی کہنا کہ اگر مجھے چار سال پہلے پتا ہوتا کہ نظام عدل ٹھیک کام نہیں کر رہا تو میں اسے کب کا ٹھیک کر چکا ہوتا،تین دفعہ ملک کا وزیراعظم رہنے والے میاں صاحب آپ کی نااہلی کے لیئے تو اتنا ہی کافی ہے آپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ جس ریاست کی عوام نے آپ کو منتخب کیا اسے عدالتوں سے انصاف مل بھی رہا ہے یا نہیں۔آپ کو کیسے معلوم ہوتااس سے پہلے تو عدل آپ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز تھاپہلی دفعہ عدل کی زنجیر نے آپ کے قدموں کو بوسہ دینے کی بجائے جکڑا ہے تو آپ تلملا اٹھے ہیں اور اس حد تک جا پہنچے ہیں کہ اگر آپ کو مزید حساب کتاب کے مرحلے میں لایا گیا تو اپ چپ نہیں رہیں گے ،سارے راز اگل دیں گے۔آپ دنیا کو بتائیں گے کہ ٹرمپ کا ٹویٹ ٹھیک تھا،انڈین الزامات درست ہیں ،سقوط ڈھاکہ بلکل درست عمل تھا،آپ اس زعم میں کیوں مبتلا ہیں کہ آپ ہیں تو ملک ہے آپ نہیں تو ملک کی کوئی ضرورت نہیں؟؟؟آپ کو شاید معلوم نہیں کہ آپ غصے میںعدالت کے فیصلے کی تصدیق کر چکے ہیں،جب آپ نے یہ کہا کہ مجھے مزید تنگ نہ کروورنہ سب راز اگل دوں گا تو سب کو سمجھ آ گئی کہ آپ صادق اور امین نہیں ہیں،آپ کی دھمکیاں یہ ظاہر کر رہی ہیں کہ آپ کو جج صاحب نے سیسلینین مافیا کا لقب کیوں دیا۔جس قوم کو سڑکوں پر لانے کی آپ بات کر رہے ہیںوہ ستر سال سے اس بوسیدہ نظام عدل کو بھگت رہی ہے جس کے ٹھیک نہ ہونے کا آپ کو چند دن پہلے علم ہوا۔گائوں میں سیلاب آیا تو سب کچھ بہا کر لے گیا گائوں کے چوہدری کی سامان اکٹھا کرتے ہوئے جب درخت پر بیٹھے حقہ پیتے مراثی پر نظر پڑی تو چلاتے ہوئے کہا کہ ہم سب ڈوب رہے ہیں ،ہمارا سب کچھ پانی میں بہہ گیا اور تم آرام سے حقہ پی رہے ہو تو میراثی نے کہا حضور ہمارے پاس جو تھا وہ تو آپ نے پہلے ہی چھین لیا اب ہمارے پاس بچا ہی کیا ہے جس کے بچائو کے لیئے پانی میں ڈبکیاں لگائو غریب ہونے کا تو مزا ہی آج آیا ہے۔میاں صاحب عدالت کے وقار کو ردی کی ٹوکری میں پھینکنے سے آپ کی دستار کا شملہ بلند نہیں ہو گا۔آج اگر آپ کی جگہ کوئی مہاجر،بلوچ یا قبائیلی ہوتا تو غدار کا تمغہ سینے پر سجائے کہیں غاروں میں روپوش ہو چکا ہوتا۔ہمدردوں سے گزارش ہے کہ میاں صاحب کو نادان دوستوں کے نرغے سے نکالوں ورنہ ان کی حالت متحدہ کے سابق راہنماء سے کسی صورت کم نہیں ۔

تبصرے