Urdu News and Media Website

نقیب اللہ محسود ۔پاکستانی نظام پر سوالیہ نشان

تحریر:صابر مغل ۔۔اقتدار اور اختیار ہی وہ بنیادی وجوہات ہیں جو کسی بھی انسان میں فرعونیت،رعونیت ،بربریت ،حیوانیت اور سفاکیت جیسے عناصر پیدا کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں،جب کسی شخص یا فرد میں ایسی خرافات جنم لے جائیں تو اپنی اوقات اور بساط کے مطابق ہر وہ کام کر ڈالتا ہے جس پر نہ صرف انسانیت شرمسار ہوتی ہے بلکہ معاشرہ یا ریاست اس کی ایسی مکروہات کی وجہ سے تہمت زدہ بن جاتی ہے،وہ جتنا زیادہ اقتدار ،اختیار اور دولت کے نشہ میں چور ہوتاچلا جائے گا اتنا ہی اس کا بدبودار اور تعفن زدہ کردار پنپتا چلا جائے،اس کے خبیث ذہن میں یہ بات پختہ ہو جاتی ہے کہ اس کے لئے ہر وہ کام جس سے مخلوق خدا کو اذیت پہنچے وہ اس کا بنیادی حق ہے وہی ہے جو معاشرتی زندگی میں اعلیٰ و ارفع ہے،ایسا انسان انتہائی زہریلابن کرسامنے آنے والی ہر رکاوٹ کا قلع قمع کرنا ضروری تصور کرتا ہے، کسی کی عزت،عصمت،عزت نفس حتیٰ کہ جان و مال کو چکنا چور کر دینا بھی وہ اپنا حق سمجھتا ہے،عام طور پر جنگل میں درندوں کی درندگی پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان جتنی سفاکیت شاید کہیں اور نہیں ہو گی ،زہریلے ترین ناگ سے خطرناک بھی کوئی ہیں ہو گا مگر ان سب سے بڑکر اس روئے زمین پر جو سب سے زیادہ خطرناک،سفاک،زہریلا اورظالم انسان ہے اس حوالے سے دنیا کا ہر جانور اس کے مقابل کچھ بھی نہیں،جنگل میں درندے اپنی خوراک کے لئے کسی دوسرے جانور کی تکہ بوٹی کرتے ہیں مگر انسان خود کو دیگر انسانی مخلوق سے برتر ثابت کرنے کے لئے نہ صرف قتل و غارت کرتا ہے بلکہ وہ اس سے لذت بھی حاصل کرتا ہے ایسا کر کے اس کی سوچ کو سکون ملتا ہے،اصل میں انسانی زہر اس کی زبان،دانتوں وغیرہ میں نہیں ہوتا بلکہ اس کے دل میں ہوتا جسے وہ اپنے غلیظ ذہن کے ساتھ دوسروں کی تباہی و بربادی کے لئے استعمال کرتا ہے،ویسے تو دنیا کے ہر خطہ میں ایسے لعنتی کردار عام ہیں مگر پاکستان میں بھی ایسوں کی کمی نہیں ،اس اسلامی ریاست میں جہاں ایک طرف دنیا کے بہترین انسانوں کی کمی نہیں وہیں زہرآلود انسانوں کی بھی کمی نہیں ستم یہ کہ ایسے گندے کرداروں کو مسلنے،کچلنے کے لئے وہ لوگ کردار ادا کریں جن کے ہاتھ میں اس مملکت خداداد کی باگ دوڑ ہے الٹا وہی ان کے رکھوالے اور ان داتا ہیں،یہاں با اختیاروں کاوضع کردہ نظام حیات ہی اس قدر پیچیدہ اور غریب دشمن ہے جس کا احاطہ بھی نہیں کیا جا سکتا،ملک میں افراتفری،بد امنی ،قتل و غارت کی یہی بنیادی وجہ ہے یہ کردار ہر قسم کے قانون سے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں یہ اپنے راستے میں آنے والے ہر ایک کو تہہ تیغ کرتے چلے جاتے ہیں،نئے سال کا آغاز اس کی موت کا سندیسہ لے کر آیا، پاکستان کے قبائلی علاقہ کا شہزادہ دل میں ان گنت خواب سجائے سہراب گوٹھ میں اپنی بیوی،دو بیٹیوں اور ایک بیٹے کے ہمراہ گھر میں تمام تفکرات سے آزاد ہنسی خوشی کھیل رہا تھا کہ اچانک سول کپڑوں میں موت کے سوداگر اس کے گھر کی دہلیز پار کر کے اندر داخل ہو گئے ،بیوی اپنے سہاگ اور ننھے منے بچے اپنے باپ کو بے بسی کے عالم میں ان کے ساتھ جاتے دیکھتے رہے انہیں کیا پتا تھا کہ چار روز بعد ہائی وے سے باہر شاہ لطیف ٹائون کے علاقہ عثمان خاص خیلی گوٹھ کے ایک ویران پولٹری فارم میں اس کی لاش دہشت گرد کے طور پر پڑی ہوئی ملے گی،کراچی یا سندھ ہی نہیں اس وقت کے ملکی سطح پرشہرت کی بلندیوں پر فائز ماورائے عدالت قتل کرنے والے انکائونٹر سپیسلشٹ ایس ایس پی ملیر رائو انوار نے ہر دوسرے چوتھے دن کی طرح بتایا کہ آج اس نے دہشت گرد تنظیم کالعدم پاکستان تحریک طالبان کے اہم ترین کارندوں جن کا تعلق داعش سے بھی تھا کو انٹیلی جنس بنیادوں پر پکڑنے کی کوشش کے دوران پولیس مقابلہ میں پار کر دیا ہے،دیگر تین دہشت گردوںکے ساتھ جیسے ہی اس کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ملک کے کونے کونے میں کہرام مچ گیا ساری قوم کو پتا چل گیا کہ اس نام نہاد پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا نسیم اللہ عرف نقیب اللہ جو کئی سال قبل خاندان کے ہمراہ کراچی محنت مزدوری کے سلسلہ میں آیا تھا یہاں وہ ایک مل میں کام کرتا اور چند روز قبل یو ای اے سے اس کے بھائی نے پیسے بھیجے تو اس نے کپڑے کے کام کے لئے دکان کرایہ پر حاصل کی ابھی وہ اپنے مزید ارادوں میں ہی تھا کہ دنیاوی عزرائیلوں نے اسے دبوچ لیا،نقیب اللہ محسود ایک انتہائی خوش شکل نوجوان تھا ،سوشل میڈا پر اس کی ان گنت ماڈلز کی طرح تصویریں اپنی مثال آپ ہیں،نقیب کو ماڈلنگ کا جنون کی حد تک شوق تھا وہ جو بھی کماتا فیملی ضروریات کے بعد باقی سب اپنے اوپر خرچ کر ڈالٹا،نقیب اللہ کی بطور دہشت گرد ہلاکت کے بعد جب عوامی ری ایکشن آیا تو اسے نوچنے والے درندوں نے اسے دہشت گرد ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر کیسے اگر اس کا کوئی کریمنل ریکارڈ ہوتا تو ملتا،صوبائی وزیر داخلہ سندھ سہیل انورسیال نے بھی میڈیا پر کہا تھا کہ چار دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے ہیں مگر بہت جلد وہ بھی Uٹرن لے گئے،بلاول بھٹو زرداری جن کا بیشتر وقت ہی سوشل میڈیا پر گذرتا ہے حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے ٹویٹ کے ذریعے اس ماورائے عدالت قتل کا نوٹس لے لیا،سندھ پولیس کے آئی جی اے ڈی خواجہ نے تفتیشی ٹیم مقرر کر دی،سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اس المناک واقعہ کا از خود نوٹس لیا مگر رائو انوار جس نے 1981میں بطور کلرک پولیس جوائن کی اور آج سندھ پولیس کا طاقتور ترین اور دہشت کی علامت پولیس افسر بن چکا ہے اسے کچھ فرق نہیں پڑا کروڑوں روپے کی جائداد کا مالک ہونا الگ بات ہے،اس نے کسی بھی انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے یکسر انکار کر دیا،اسے اس کے خاص ساتھیوں کو ان کے عہدوں سے معطل کر دیا گیا کراچی کے ضلع ملیر کے تمام تھانوںکے ایس ایچ اوز بدل دئے گئے، رائو انوار کے بیرون ملک فرار کے یقینی خدشے کے باوجود سندھ حکومت نے ان کا نام ای سی ایل میں نہ ڈالا،پہلے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور اب صوبائی وزیر سہیل انور سیال کو کہنا پڑ رہا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کا رائو انوار کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ،انہیں ایسی وضاحتوں کی ضروت نہ جانے اب کیوں پیش آ رہی ہے ؟طویل عرصہ سے سندھ میں بر سر اقتدار پارٹی کا عزیر بلوچ سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا،کہتے ہیں جنگلوں کا بھی کوئی قانون ہوتا ہے مگر اس دھرتی پر قانون کا اگر نظارا کرنا ہے تو ماتحت عدالتوں،جیلوں اور تھانوں میں نظر آئے گا جہاں غربت اور دنیاوی خدائوں کے ہاتھوں ذلیل ہونے والے لاکھوں افراد دھکے کھاتے،سڑتے،بے عزت ہوتے ،لتر کھاتے نظر آئیں گے،حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وہ شخص جو ساری حکومت اور نظام کو سر عام جوتی کی نوک پر رکھ رہا ہے جعلی پولیس مقابلوں پر وہ مطلوب ہے اس کے باوجود سندھ کا چیف سیکرٹری چھٹی کے روز اس کی چھٹی بھی منظور کر لیتا ہے بیرون ملک جانے کے لئے این او سی بھی سیکرٹری کی جانب سے جاری ہوتا ہے جس پر دستخط سیکشن آفیسر کے ہیں وہی مطلوب شخص ویزہ لگوا کر انکوائری کمیٹیوں کو ٹھینگہ دکھاتا ہوا نہ صرف اسلام آباد ائر پورٹ پہنچ جاتا ہے جبکہ بورڈنگ کارڈ حاصل کر کے رات1.10بجے جانے والی غیر ملکی پرواز ای کے615پر سوار بھی ہو جاتا ہے مگر جب امیگریشن حکام کے افسر تیمورنے رائو انوار کے کاغذات پر مزید غور کیا تو اسے ہوش آیا جس پر اسے جہاز سے آف لوڈ کر دیا گیا،رائو انوار کراچی کیسے پہنچا؟ویزہ اور ٹکٹ حاصل کرنے کے باوجود ادارے کہاں تھے؟چیف سیکرٹری در حقیقت حکومت ہی ہوتا ہے نے اس کی چھٹی کیسے منظور کی؟اسے بیرون ملک فرار کرانے میں کس کس کا ہاتھ ہے ؟ حالانکہ کراچی پولیس کی جانب سے ان کی گرفتاری کے لئے چھاپوں کا بتایا جا رہا تھا،لگتا ہے رائو انوار کو نہ صرف مکمل سیاسی پشت پناہی حاصل ہے بلکہ بیوروکریسی بھی اس پر شفقت اور محبت کا سایہ کئے ہوئے ہے،رائو انوار کے بیرون ملک فرار کی کوشش پر سپریم کورٹ کے حکم پر اس کا نام اب ای سی ایل میں ڈالا گیا ہے ،رائو انوار جس کی بیوی اور بچے پہلے سے ہی دوبئی میں مقیم ہیں نے کہا ہے کہ وہ ہر حالت میں دوبئی پہنچ جائے گا اسے کسی کا کوئی خوف نہیں،یہ بات بھی مبینہ طور پر سامنے آئی ہے کہ اس نے اپنے سیاسی باپ پر واضح کر دیا ہے کہ اگر اسے کچھ ہوا تو وہ کئی راز فاش کر دے گا،گذشتہ سال صرف کراچی میں 146افراد کا ماورائے عدالت قتل ہوا جن میں سے 140پویس نے کئے اس حوالے سے سندھ پولیس پنجاب سے بھی کئی ہاتھ آگے نکل گئی،کوئی شک نہیں کہ اکثر جرائم پیشہ عناصر ریڈ کے دوران پولیس یا سیکیورٹی فورسز پر حملہ آور ہو جاتے ہیں جن کے لئے مقابلہ نا گزیر بن جاتا ہے مگر آن دی سپاٹ جسٹس کے نام پر کئی بے گناہ پار کر دئے جاتے ہیں،دنیا کا کوئی قانون ،دین اسلام کا کوئی ضابطہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ قانون نافذ کرنے والے قانون ہاتھ میں لے کر کسی ملزم کی سزا کا فیصلہ کریں،کہتے ہیں عدالتیں سزا نہیں دیتیں یہ مت بھلا جائے کہ عدالتیں صرف صفحہ مثل پر فیصلہ سناتی ہیں اور یہ مثلیں تفتیشی افسران ہی لکھتے ہیں اور اگر پولیس میں بھرتی ہی سیاسی بنیادوں پر ہو اور بعد میں بھی انہیں مکمل آشیر باد حاصل رہے تو ایسا ہونے کو نہیں روکا جا سکتا،انہیں جب بھی کسی بڑی شخصیت کی جانب سے بندے مارنے کا لائسنس ملتا ہے تو پھر وہ اپنے مخالفین ،بھتہ نہ دینے والوں اور معاوضہ لے کر کسی بھی بے گناہ کو مار دیتے ہیں،فی زمانہ ہر وہ شخص جس نے داڑھی رکھی ہو،اس کی شلوار کچھ اونچی ہو اسے لازمی دہشت گرد سمجھا جائے گا،بہرحال پہاڑوں کی آغوش میں پلنے والاانتہائی خوش شکل27سالہ نقیب اللہ محسود کو ہلاکت کے بعد پہاڑوں کے دامن میں ہی سپرد خاک کر دیا گیا ہے،نقیب اللہ محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا جوفاٹا کی سب سے بڑی ایجنسی ہے جس کا صدر مقام وانا اور اس ایجنسی میں رہنے والے قبائل میں سب سے زیادہ تعداد محسود قبیلے کی ہے سپریم کورٹ کے ا ٓر ڈر پر اس کے والد سمیت دیگر ورثاء کو اندراج مقدمہ کے لئے کراچی بلوایا گیا جہاں وہ سہراب گوٹھ میں پشتون بھائیوں کے پاس ٹھہرے ہوئے ہیں،کراچی میں پشتون بہت بڑی تعداد میں بستے ہیں، سندھ پولیس کی نااہلیوں کا اندازہ لگایا جائے تو وہ ناممکن ہے ابھی حال ہی میں انتظار احمد اور ساہیوال کے مقصود احمد کا قتل تازہ ترین مثالیں ہیں،چند ماہ قبل کراچی میں ہونے والی چھرا مار کاروائیوں میں نا اہلی چھپانے میں وزیر اعلیٰ سمیت اعلیٰ پولیس افسران نے ساہیوال کے رہائشی وسیم کو ان واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا کر اس کے خاندان پر زمین تنگ کر دی وہ تو پنجاب پولیس نے جب اپنی ہر قسم کی تفتیش میں وسیم کو مکمل بے گناہ پایا تو اسے کراچی پولیس کے حوالے کرنے سے انکار دیا ورنہ آج وسیم بھی شاید رائو انوارجو نواز شریف کی طرح دوبئی کا اقامہ ہولڈر اور جس کے بچے لندن میں زیر تعلیم ہوںجیسے بھیڑئیے کے ہاتھوں لگ چکا ہوتا،ذمہ داران کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہو چکا ہے مگر وہ تو چلا گیا جہاں سے کبھی کوئی واپس نہیں آیا،نقیب اللہ کی خواہش تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو پاک فوج میں بھیجے گا مگر ظالموں نے باپ بیٹے کے درمیان منوں مٹی اور قیامت تک دوری حائل کر دی،

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے