Urdu News and Media Website

نازیہ حسن( میڈ ان پاکستان )

تحریر:ثناء آغا خان۔۔۔

وطن عزیز کی ہردلعزیز، مقبول، محبوب، خوب صورت اور خوش مزاج عالمی شہرت یافتہ پاپ گلوکارہ، ماہر معاشیات، سماجی شخصیت، ماہر قانون اور ثقافتی سفیر نازیہ حسن کا 13 اگست 2000ء کو 35 برس کی عمر میں لندن میں انتقال ہوگیا تھا۔

وہ پھیپھڑوں کے سرطان( کینسر) کے موذی مرض میں مبتلا تھیں۔ نازیہ حسن 3 اپریل 1965ء کو پاکستان اور قائد اعظم رحمتہ اللّہ علیہ کے شہر کراچی میں ایک ثروت مند خاندان میں پیدا ہوئیں۔

ان کے والد کا نام بصیر حسن اور والدہ کا نام منیزہ ہے۔ نازیہ حسن تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی تھیں۔ بھائی زوہیب حسن اور بہن زارا حسن ان سے بڑے ہیں ۔

نازیہ حسن نے برطانیہ سے اعلی تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے دیگر علوم کے علاوہ معاشیات اور قانون کی تعلیم بھی حاصل کر کے ماہر معاشیات اور ماہر قانون کی ڈگری حاصل کی۔

نازیہ حسن کو بچپن سے ہی موسیقی سے گہری دلچسپی تھی اسلئے انہوں نے دس سال کی عمر میں ایک چائلڈ آرٹسٹ کے طور پر موسیقی کے پروگراموں میں حصہ لینا شروع کردیا۔

وہ 15 سال کی عمر میں باقاعدہ گلوکارہ بن گئی تھیں ۔ انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز پاکستان ٹیلی وژن( پی ٹی وی ) کے پروگرام ” سنگ سنگ چلے ” سے کیا لیکن 1980ء میں ان کو بھارتی فلم ” قربانی ” کیلئے گائے جانیوالے گانے ” آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے ” سے راتوں رات بین الاقوامی شہرت حاصل ہو گئی تھی۔

وہ اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کر گیت اور گانے گایا کرتی تھیں۔ ان کا یہ گانا ان کے پہلے البم میں شامل کیا گیا تھا۔

پاکستان اور ہمسایہ ملک ہندوستان میں نازیہ حسن کے پاپ میوزک کے سب سے زیادہ البم ریلیز اور فروخت ہوتے تھے۔

نازیہ حسن نے اپنے کل 6 البم ریلیز کئے۔ ان کے البمز کی چھ کروڑ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں جو کہ پاکستان اور ہندوستان میں پاپ میوزک کے حوالے سے ایک ریکارڈ ہے۔

نازیہ حسن کے بعد علیشا چنائے نے پاپ میوزک میں بڑی شہرت حاصل کی ہے۔ نازیہ حسن کا ایک البم انگریزی میں لندن میں ریلیز ہو چکا ہے جس کو اردو میں ” ڈسکو دیوانے ” کا نام دیا گیا ہے۔

ہندوستان کے ایک معروف موسیقار بدو نے نازیہ حسن کو ” میڈ ان انڈیا ” کے نام سے گیت گانے کی پیش کش کی لیکن نازیہ نے یہ گیت گانے سے دوٹوک الفاظ میں انکار کر دیا اور کہا کہ میں صرف ” میڈ ان پاکستان ” ہوں۔

اسلئے اپنے وطن کے علاوہ خود کو دوسرے کسی بھی ملک سے منسوب نہیں کر سکتی۔ نازیہ حسن پاکستان اور ہندوستان میں یکساں طور پر مقبول و محبوب تھیں۔

ایک بار ہندوستان کے شہر کلکتہ کے ایئرپورٹ پر پچاس ہزار سے زائد بھارتی شہریوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا جو کہ اپنے ملک سے باہر کسی بھی پاکستانی شخصیت کی یہ پہلی اور واحد مثال ہے۔ 1989ء میں ہندوستان کے ” ٹو ڈے میگزین ” نے نازیہ حسن کو ہندوستان کی پچاس بااثر ترین شخصیات میں شامل کیا جنہوں نے بھارت کا چہرہ تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

نازیہ حسن سماجی، اصلاحی اور فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتی تھیں جس کے پیش نظر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف نے انہیں پاکستان کی جانب سے اپنا ثقافتی سفیر مقرر کیا۔

نازیہ حسن 30 مارچ 1995ء میں شہر قائد میں ایک معروف ٹریڈر اور کالم نگار مرزا اشتیاق بیگ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی تھیں، ان کی شادی کی تقریب اسلامی طریقے سے سادگی کے ساتھ منعقد کی گئی تھی۔ 1997ء میں ان کا ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام انہوں نے عریز حسن رکھا تاہم نازیہ حسن کی یہ شادی ناکام ثابت ہوئی ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔

نازیہ حسن پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا ہو چکی تھیں اور وہ لندن کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھیں کہ ان کی موت سے صرف دس روز قبل 3 اگست 2000ء کو ان کے شوہر نے انتہائی سنگدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا اپنی بیمار اہلیہ کو طلاق دے دی۔ 13 اگست 2000ء کو نازیہ حسن اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔

ان کی زندگی میں ہی ان کو ملک اور بیرون ممالک سے متعدد اعلیٰ ایوارڈز مل چکے تھے لیکن ان کی وفات کے بعد 2007ء میں پاکستان کے صدر مملکت جنرل(ر) پرویز مشرف کی جانب سے ان کو پاکستان کے اعلیٰ ایوارڈ ” پرائڈ آف پرفارمنس” سے نوازا گیا جو کہ ان کی والدہ منیزہ حسن نے وصول کیا تھا۔

ان کی وفات کے کچھ عرصہ بعد ان کے بھائی زوہیب حسن نے اپنی بہن کے شوہر مرزا اشتیاق بیگ پر ان کی بہن نازیہ حسن کو زہر دے کر قتل کرنے کا الزام لگایا تھا لیکن مرزا اشتیاق بیگ نے ان کے اس الزام کو مسترد کردیا تھا۔

چونکہ نازیہ حسن ایک سماجی کارکن بھی تھیں چنانچہ ان کے والدین اور بہن بھائیوں نے ” نازیہ حسن فاؤنڈیشن ” کے نام سے ایک فلاحی ادارہ قائم کیا ہے جس کے تحت غریب اور مستحق افراد اور بچوں کی مختلف طریقوں سے مدد کی جاتی ہے۔ آج نازیہ حسن ہم میں نہیں لیکن کوئی انہیں فراموش نہیں کرسکتا۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے