Urdu News and Media Website

نااتفاقی لے ڈوبتی ہے

تحریر:عتیق الرحمٰن خاں۔۔۔۔۔۔۔۔

چوہدری
ہوش سنبھالتے ہی بچہ یہ سبق سنناشروع کر دیتا ہے کہ بیٹا اتفاق میں برکت ہےوقت گزرنے کیساتھ ساتھ اس بات کوبچے کے ذہن پرنقش کرنے کیلئے والدین مختلف مثالیں دیکر بچے کے وائٹ پیپر پر مثبت اور پکا رنگ چھوڑنے کی کوشش کرتے ہیں

والدین کی گود سے نکل کر مدرسے کی دہلیز پار کرتے ہی اسی سبق کو ایک بار پھر دہرایا جاتا ہےسبق کو مکمل طور پر یاد کروانے کیلئے اتفاق میں برکت کی اہمیت کو اجاگر کرنے کیلئے کلاس کے سلیبس میں بطور کہانی شامل کردیا جاتا ہے

امیر ہو یا غریب ہر کسی کو اس سبق کو یاد کروانے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے کیونکہ معاشرے میں امن اور کامیابی کیلئے اس سبق پر عمل کرنا انتہائی ناگزیر ہوتا ہے

مگر جوکوئی بھی جس مقام پر بھی ہو اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس پر ایمانداری کیساتھ عمل کرتا ہے تاریخ کے اوراق میں وہ امر ہو جاتاہے اور آنے والی نسلوں کو ان کی مثالیں دیکر اس سبق کو سچ ثابت کیا جاتا ہے

معاشرے میں کسی گھر کو لے لیں کسی محلہ کو لے لیں برادری ہو یا شہر حتی کہ ملکی اور انٹرنیشنل لیول پر بھی اس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آج کل عالمی سطح پر نظر دوڑائی جائے تو مسلمانوں کی ناکامی کیوجہ بھی آپ کو نااتفاقی ہی نظر آئیگی

اگر وسائل کو دیکھا جائےتو پوری دنیا میں مسلمانوں کو اللہ تعالی نے تیل کی دولت سے مالا مال کر رکھا ہے سب سے پہلے عربوں کی اندرونی نا اتفاقی اور اس کے بعد عالمی سطح پر دوسرے ممالک سے دوری کی وجہ سے ہمیشہ غیر مسلم کو اپنے اوپر حکمرانی کی دعوت دی گئی ہےجس کا غیر مسلم نے ہر موقع پر خوب فائدہ اٹھایا ہے

اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا جبکہ انگریز کا یہ کہاوت مشہور ہے کہ ڈیوائیڈ اینڈ رول۔اس کا مطلب ہے کہ انگریز نے اتفاق میں برکت کے سبق کو اپنے پلے باند ھ لیا ہےپاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ 1971میں مشرقی پاکستان کا بنگلہ دیش بننا بھی بنیادی طور پر نااتفاقی کا ہی شاخسانہ تھا

جب ادھر ہم ادھر تم کا نعرہ نے جلتی پر تیل کا کام کیاکسی بھی منزل کو پانے کیلئے مشترکہ کوشش ہو تو منزل کا حصول آسان ہو جاتا ہےاسی تناظر میں اگر ملک کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو کچھ علیحدہ سے نظر نہیں آئے گا

ہر پارٹی اپنے اپنے مفادات کے گرد گھومتی نظر آئے گی حکومتی پارٹی پر نظر ڈالی جائے تو اس کے اتحادیوں نے مفادات کے حصول تک اپنی وفاداریاںحکومت کیساتھ جوڑے رکھیں جہاں ان کے مفادات کیخلاف تھوڑا سے بھی جھول آیا انھوں نے فورا حکومت سے علیحدگی کا بگل بجا دیا حکومتی اتحاد کے مفادات اپنی جگہ تحریک انصاف کے اندر بھی حالات کچھ اس سے مختلف نہیں رہے

تحریک انصاف کے سب سے پاور فل کارکن سمجھے جانے والے جہانگیر ترین اور ان کے زیر سایہ کارکنان نے بھی حکومت کیخلاف محاذ کھڑا کرنے میں دیر نہیں لگائی اور حکومت تک کو گرانے کی باتیں گردش کرتی رہیں

موقع کو غنیمت جانتے ہوئے اور ناتفاقی سے فائدہ اٹھانے کیلئے حکومت مخالف پارٹیوں نے بھی ان کو مہرہ کے طور پر استعمال کرنے کی بھر پور کوشش کی

مگر شاید ان کے مفادات کا حصول ہی حکومت کے اندر رہنے میں تھا اس لئے انھوں نے کسی کا بھی مہرہ بننے کی بجائے ایک الگ گروپ بنانے میں ہی فائدہ جانااور کسی حد تک وہ کامیاب بھی ہوگئے

اگرچہ اس گروپ کے کارکنا ن کی کھینچاتانی کی ہلکی پھلکی موسیقی چلتی رہی جس کی مثال نذیر چوہان کی گرفتاری اور ضمانت پر رہائی ہےہاں سمجھدار لوگ اس کو جمہوریت کا حصہ قرار دیکر اپنے مفادات کا دفاع کرتے ہیں

جمہوریت ایک اچھا لفظ ہے جس کو ضرورت کے تحت اور موقع کی مناسبت استعمال کرنا ہی سیاست کہلاتا ہے

بلکہ اگر تھوڑا سا اور گہرائی میں جایا جائے تو پارٹیوں کے اندر بھی ہر سر کردہ رکن نے اپنے مفادات کا حصار بنا رکھا ہے جب تک اس کے مفادات وابستہ رہتے ہیں وہ پارٹی کے نعرے مارتا ہے اور جہاں اسکے مفادات کیخلاف بات ہوئی اس نے پارٹی سے اڑجانے میں ہی عافیت جانی۔

جس کی مثالیں عام دیکھنے کو ملتی ہیں کچھ سیاسی کھلاڑی ہر حکومت میں حکومت کا حصہ بننے کا فن خوب جانتے ہیں اور اسی قابلیت کی وجہ سے وہ ہر حکومت میں آپ کو حکمرانی کرتے نظر آئیں گے۔

جمعہ کا دن مسلم لیگ ن کیلئے خاص اہمیت کا دن تصور کیا جانے لگا ہے میاں نواز شریف کی نااہلی سے لیکر بہت سے دوسرے فیصلے جمعہ والے دن ہی کو آئے

جس میں ن لیگ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔

جمعہ کےدن ہی سارا دن میاں شہباز شریف کی ن لیگ سے علیحدگی کی خبریں میڈیا پر گردش کرتی رہیں

آزاد کشمیر کے الیکشن کی کمپین میں بھی میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز شریف نے سلیپنگ پاٹنر کا کردار ادا کیاالیکشن کے دوران مریم نواز شریف ہی کمپین کولیڈ کرتے ہوئے دکھائی دیں

کہیں بھی یہ بات اس بات کا تاثر نہ ملا کہ میاں شہباز شریف حمزہ شہباز اور ان کے ہم خیال کو بھی کمپین کے لئے موقع دیا جائے

یہ پارٹی کی سیاست بھی ہو سکتی ہے کہ شہباز شریف اور ہم خیال لوگ حکومت اور فوج کیساتھ مفاہمت مفاہمت کھیلیں اور مریم نواز حکومت مخالف بیانیہ کا بھر پور پرچار کرتے ہوئے حکومت پر اپنا دبائو بڑھاتی چلی جائیں

اور عام عوام میں یہ تاثر دیا جائے کہ ہم حکومت کی مخالفت میں ڈٹ کر کھڑے ہیںاس طریقہ سے عوام کی نظر میں بھی مسلم لیگ ن کی قیادت کی ساکھ کو بحال رکھا جائےمگر یہ سیاست مسلم لیگ ن کے گلے کی ہڈی بن گئی جب آزاد کشمیر الیکشن میں بڑے بڑے جلسے کرنے کے باوجود بھی ن لیگ کچھ مناسب سیٹیں حاصل کرنے میں ناکام رہی

اسکے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی نے عوام اور پارٹیوں کو سرپرائز دیا اور 11سیٹوں پر کامیابی سمیٹتے ہوئی آزاد کشمیر کی دوسری بڑی پارٹی کے روپ میں ایک بار پھر ابھر کر سامنے آگئی باقی پارٹیوں کی نسبت پاکستان پیپلز پارٹی میں اختلافات قدرے کم دیکھنے میں ملیں گے

ن لیگ کا پردہ کچھ اس وقت بھی چاک ہو گیا جب سیالکوٹ ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی پر مریم نواز شریف سمیت کچھ ن لیگی رہنمائوں نے دھاندلی کا شور مچایا مگر میاں شہباز شریف ہم خیال رہنمائوں ملک احمد خان اور سیدہ نوشین افتخار نے نہ صرف اس بات کو تسلیم کیا کہ کہیں سے بھی دھاندلی کے ثبوت نہیں ملےبلکہ پی ٹی آئی کے کامیاب امیدوار کو جیت پر مبارکباد بھی دی

مسلم لیگ ن پارٹی ایک اور لیڈر زیادہ ہونے کی وجہ سے اس وقت کارکنان بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ وہ کس کے بیانیہ کو پارٹی کا بیانیہ سمجھیںشریف خاندان میں اختلافات کی باتیں ہر خاص و عام کی زبان پر آنے کی وجہ سے پارٹی کا مورال بھی گر رہا ہے

جس کا ناقابل تلافی نقصان پارٹی کارکنان کو اٹھانا پڑےگااب جبکہ ملک میں الیکشن کی باتیں گردش کرنے لگی ہیں جس کا تاثر کچھ پاکستان پیپلز پارٹی کے دورہ امریکہ کے بعد الیکشن کمپین کے دوران اعلان کرنا کہ الیکشن کا بگل بج گیا ہے پارٹی کارکنان الیکشن کی تیاری کریں۔

مسلم لیگ ن کو سیاست میں اپنی ساکھ بچانے اور مخالفین کا مقابلہ کرنے کیلئے اتفاق میں برکت ہے کے یونیورسل ٹروتھ پر یقین رکھتے ہوئے اتحاد کی شمع کو روشن کرنا ہوگاوگرنہ بڑھتی ہوئی نا اتفاقی ان کو لے ڈوبے گی۔

 

نوٹ:نیوزنامہ پرشائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہوناضروری نہیں۔

تبصرے