Urdu News and Media Website

مٹھو کی یاد آ رہی ہے

تحریر:عتیق الرحمان خاں۔۔
پھلتا پھولتا اور ترقی کی بلندیوں پر اپنی اولاد کو دیکھنا ہر والدین کی اولین خواہشات میں شامل ہےاپنی اس خواہش کو پایا تکمیل تک پہنچانے کیلئےانسان زندگی میں ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہےزندگی کی کہانی پر نظر ڈالیں تو ہر طرف ہر سطح پر والدین کی قربانیوں کے واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہےمگر ان قربانیوں کو سمجھنے اور محسوس کرنے کیلئے بہت وقت درکار ہوتا ہےان کا احساس انسان کو اس وقت ہوتا ہے جب یہ سایہ سر سے ہٹ جاتا ہے اور انسان کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں رہتایہ فقرہ تو عام مشہور ہے کہ زیادہ تر والدین کو اولاد کی طرف سے یہ الفاظ سننے کو عام ملتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہےتھوڑا سا کوئی ڈھنگ کا کام کر لیتے تو آج ہم ترقی کی بلندیوں پر ہوتےچونکہ اللہ تعالی نے والدین کو بہت بڑا دل اور حوصلہ عطا کیا ہوتا ہے تو وہ یہ سب باتیں خندہ پیشانی سے سنتے ہی اور ہلکی سی مسکراہٹ سے سب ٹال دیتے ہیںامیر ہو یا غریب ہر والدین اپنی اولاد کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر سہولیات دینے کی کوشش کرتے ہیںاپنی اس خواہش کوپورا کرنے کیلئےبعض والدین ٹریک سے ہٹ کر بھی کئی کام کرنے کیلئے تیار ہوجاتے ہیں مگر جن کو اللہ تعالی ہدایت دے تو وہ اس قسم کی برائیوں سے بچے رہتے ہیں مٹھو نے بھی ایک دین دار گھرانے میں آنکھ کھولی مٹھو کے ماں باپ پانچ وقت کے نمازی اور پرہیز گار تھےبیٹے کی پیدائش کے بعد مٹھو کے والد نے بھی مٹھو کے روشن مستقبل کیلئے پاکستان سے ہجرت کرنے کا فیصلہ کیامزدوری کی غرض سے ان کے ملک سے باہر جانے کے بعد گھر اور بچے کی تمام ذمہ داری مٹھو کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑی مگر چونکہ ان کے والد کو باہر بھیجنے کا فیصلہ دونوں میاں بیوی کا مشترکہ تھا تو انھوں نے اپنا کام بخوبی سنبھال لیا اور اپنے خاوند کو ہر طرح سے سپورٹ کرنے کیلئے مردوں کی طرح گھر کی نگرانی کی،وقت گزرنے کیساتھ مٹھونے قرآنی تعلیمات کیلئے مسجد جانا شروع کر دیا چونکہ مذہبی رنگ اس کو ماں کی گود اور گھر کے ماحول سے ملا تھاسونے پہ سوہاگہ اللہ تعالی نے اس کو ایک خوبصورت مقرر جیسی خصوصیات سے بھی نوازہ تھا جس کا اظہار مسجد میں ہونے والی نعت خوانی اور تقاریر میں اپنے فن سے کا مظاہرہ کرکے اساتذہ اور عوام کی آنکھ کا تارا بن گیامعاشرے میں ملنے والی پذیرائی نے اس کے حوصلے بلند کئے اور مسجد سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ سکول کی سطح پر عروج پکڑ گیاکسی بھی دینی محفل خاص کر طلبائ کی سطح پر ہونے والی محافل اور اجتماعات میں مٹھو کے نام کے ڈنکے بجنے لگےمٹھو کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے اسے مقامی سطح پرطلبا تنظیم کا صدر مقرر کر دیا گیاجہاں سے اس کی زندگی کا ٹریک تبدیل ہوتا چلا گیاطلبا تنظیمیں اس وقت کافی متحرک تھیں اور علاقے کے سیاست دان ان نئی کونپلوں کو اپنے مذموم مقاصد کےحصول کیلئے استعمال کرنے میں کافی مہارت رکھتے تھےچونکہ اس کا جھکائو دین کی طرف تھا جس تنظیم کا اس کو صدر بنایا گیا وہ بھی ایک مسلک کیساتھ اٹیچ تھی تو اس کی ہمدردیوں کو مسلکی رنگ دینا کوئی مشکل نہیں تھاسیاسی وڈیروں کو یہ ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا کہ ایک سفید پوچھ اٹھ کر ان کے مقابلے میں مقبولیت کے زینے طے کرتا ہوا ایک دن ان کے مقابل نہ آکھڑا ہواس کو اپنے کاموں سے باز رکھنے کیلئے اس کے گھر پیغام آنے شروع ہوگئے کہ اپنے بیٹے کو تنظیمی کاموں سے دور رکھیں نہیں تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہونگےبیٹے کے حالات کا علم ہونے پر مٹھو کے والد نے واپسی کا راستہ اختیار کیاپاکستان آکر انھوں نے تمام حالات دیکھتے ہوئے اس بات کا فیصلہ کیا کہ مخالفین کی نظر بد سے بچے کو بچانے کا صرف ایک ہی چارہ ہے کہ اس کے ملک سے باہر بھیج دیا جائے کیونکہ مٹھو اب کالج پہنچ چکاتھا اور یہاں پر بھی اس کی تنظیمی سرگرمیوں میں کمی آنے کی بجائےتیزی ہی کاعنصر پایا جاتا تھامخالفین کادبائو بھی عروج پر تھا اسی دوران انھوں نے پریشر بڑھانے کیلئےمٹھو کے گھر پر فائرنگ کرنےسے بھی گریز نہ کیاحالات کی سنگینی کے پیش نظر والدین نے مٹھو کو یورپ کیلئے روانہ کر دیااگرچہ اپنے بچے کو اپنے آپ سے دور کرنا کافی مشکل مرحلہ تھا مگر اس کی جان کی سلامتی کیلئے انھوں نے یہ قدم بھی خوشی سےاٹھا لیامٹھویورپ کی بے رحم لہروں میں کھو گیا اس دوران مٹھو کے والددل کی بیماری کیوجہ سے اپنے خالق حقیقی سے جا ملےمگر سفری دستاویزات نہ ہونے کیوجہ سے مٹھو اپنے والد کو قبر میں اتارنے کی سعادت سے بھی محروم رہ گیاایک بار پھرخاندان کی تمام ترذمہ داریاں اس کی والدہ کے کندھوں پر آن پڑیںمگر انھوں نے ہر حالات کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے چھوٹے بچوں کی پرورش کو جاری رکھاانھوں نے ایک بار پھر مردوں کی طرح اولاد کو باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی چھوٹے بچوں کو اچھی تربیت کیساتھ اچھی تعلیم سے بھی سرفراز کیاوقت کا گھوڑا سرپٹ دوڑ رہا تھا پتا ہی نہ چلا کہ کب جوانی گزر گئی اور بڑھاپے نے آن دستک دی ڈھلتی عمر کیساتھ بیماریوں نے بھی لاغر ہوتے جسم میں بسیرا کرنا شروع کر دیااگرچہ اس دوران مٹھو کے سفری دستاویزات تو بن گئے وہ اپنی والدہ کے پاس آیا کچھ عرصہ والدہ کی خدمت کی اور واپس جانا ہی اس کا مقدرٹھہرا۔چند ہفتہ قبل اچانک ان کی طبیعت کی ناسازی نے ان کو ہسپتال کی دہلیز پر پہنچا دیامٹھوکے تنظیمی دوستوں نے ماں جی کی خیریت دریافت کرنے کی غرض سےہسپتال کا رخ کیاماں جی کی طبیعت کافی ناساز تھی اور پہاڑ جیسا حوصلہ رکھنے والی خاتوں آج بے بس سی نظر آرہی تھی اپنے بیٹے کے دوستوں کو اپنے پاس پاکر ان کے منہ سے بے اختیار نکل گیا کہ مٹھو کی بہت یاد آرہی ہے میں نے ہمیشہ اپنے بیٹے کو آپ کیساتھ دیکھا ہے مگر آج تم میں موجود نہ ہونے کیوجہ سے میرا دل بھر آیا ہے آج مجھے اس کی یاد نے بے بس کر دیا ہےیہ الفاظ سن کراس کے دوستوں کی آنکھوں میں بھی بے اختیار موتی جھلک پڑے وہ سب بے بس تھےکیونکہ کورونا کی وبائ کی وجہ سے مٹھو کا پاکستان آنا ناممکن بن چکا تھااسی بے بسی میں انھوں نے سب جانتے ہوئے بھی ماں جی کو جھوٹی تسلیاں دینے کی ایکٹنگ کی مگر وہ تو ماں تھی سب جانتی تھیں یہ آس ختم نہ ہوئی تھی کہ اللہ تعالی کی طرف سے بلاوا آگیااور اماں جی مٹھو کی یاد دل میں لئے اپنے خالق حقیقی سے جاملیںاس خبر کی اطلاع فورامٹھو کو دی گئی بتانے والے مٹھو کو یہ درد بھرا پیغام پہنچانے کو اپنا فرض جانا کہ مٹھوکی یاد آرہی ہےبہادر عورت نےاپنے اوپر سب مصیبتیں سختیاں برداشت کیں مگر اپنی اولاد کوہردنیاوی آفتوں سے بچانے کیلئے ڈھال بن گئیں

تبصرے