Urdu News and Media Website

موٹرویز پر تذلیل اور لوٹ مار

تحریر:صابر مغل۔۔
Sabir Mughal
گذشتہ کئی سالوں سے بذریعہ موٹر وے براستہ فیصل آباد آسلام آباد آنے جانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے ، فیصل آبا دسے پنڈی بھٹیاں کے قریب سے گاڑی موٹر وے 2جو لاہور سے اسلام آباد تک جاتا ہے پر سیال موڑ ،بھیرہ ،کلر کہار اور چکری کے قریب عوامی سہولت کے لئے قیام گاہیں بنی ہیں یہیں پر پبلک ٹرانسپورٹ اپنی مرضی سے رکتی ہیں ،اپنی گاڑیٰ ہو توبھی طویل سفر کے دوران کسی نہ کسی جگہ رکنا ہی پڑتا ہے،یہاں رکنے والی بسوں میں بہت سے مسافر ایسے ہوتے ہیں جو یا توپہلی بار ادھر سفر کر رہے ہوتے ہیں یا کبھی کبھار اس موٹر وے پر سفر کرنا پڑتا ہے،ان چاروں قیام گاہوں پر جو بھی پبلک ٹرانسپورٹ رکتی ہے ان کے سٹاف کا مو ٹر وے پر کھانا پینا سب فری ہوتا ہے مگر جو مسافر ذاتی طورپر یا اپنے بچوں کی وجہ سے کچھ نہ کچھ اشیائے خوردنوش خریدنے پرمجبور ہوتے ہیں انہیں ایک طرح سے لوٹ لیا جاتا ہے،انتہائی غیرمعیاری چیزیں یہاں دھڑلے سے انتہائی مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں ،یہاں کسی بڑے ،کسی چھوٹے ہوٹل ،اسٹالزنے لوٹ مار مچا رکھی ہے ،یہاں مساجد کے باہرکھڑے سیکیورٹی گاردز نمازیوں سے پیسہ مانگنے میں کوئی عار نہیں سمجھتے،یہاں مسافر نہ احتجاج کر سکتے ہیں نہ کسی کے آگے فریاد کرسکتے ہیں ،سمجھ سے باہر ہے یہ ایریاز کسی نہ کسی ضلع کی حدود میں آنے کے باوجودہر قسم کے چیک اینڈ بیلنس سے مبرا ہیں موٹر ویز پر آخر کس نے مسافروں کی حالت زار پر توجہ دینی ہےکون ہو گا وہ جواس لوٹ مار سے عوام کو بچا سکے،کیا عجب تماشہ ہے ایک طرف مضر صحت اشیاء اوپر سے ان کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کرتے ہوئے، ذمہ داران منتھلی لیتے ہیں یا ان کا وقت بہت قیمتی ہوتا ہے کہ ادھر آنا یا اس لوٹ مار کو چیک کرنے سا ان کے پاس وقت ہی نہیں ہوتایہ جس جس بھی ضلع کے حلقہ میں آتے ہیں وہاں کی ضلعی انتظامیہ کی خاموشی کسی مجرمانہ غٖلت سے کم نہیں ،پاکستان میں انتہائی بہتر شہرت یافتہ پولیس بھی اس بابت کوئی رپورٹ نہیں کرتی شاید انہیں بھی یہاں سے کھانے کو کچھ مل جاتا ہو،شہر اقتدار میں وفاق کی وجہ سے ہر محکمہ میں دو چھٹیاں ہوتی ہیں یہی وجہ سے جمعہ ،ہفتہ اسلام آباد سے لاہور یا فیصل آباد کے لئے انتہائی رش ہوتا ہے اور یہی صورتحال اتوار اورسوموار کو دوسری جانب سے ہوتی ہے ،تب چند بہتر کمپنیوں کے علاوہ باقی سب بسوں میں فولڈنگ سیٹوں پر بھی لوگوں کو بٹھا رکھا ہوتا ہے نان ا ے سی گاڑیوں میں مسافروں کی لائینیں لگی ہوتی ہیں مگر اس بابت انہیں کوئی ڈر خوف نہیں ہوتا پہلی بات تو یہ کہ انہیں روکا ہی نہیں جاتا اگر روک بھی لیا جائے تو ان کی سفارش اتنی ہوتی ہے کہ نہایت معمولی سے جرمانے کا چالان انہیں تھما دیا جاتا ہے، اگر موٹر وے پولیس کا کوئی اہلکار بس میں بیٹھا ہو توپھر وہ موٹر وے پر شہنشاہ، کسی روک ٹوک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاموٹر وے پولیس اہلکار اپنے ساتھیوں کو انہی بسوں میں مفت سفر کرانے کا فریضہ بھی سر انجام دیتے ہیں تمام بس کمپنیاں کرائے اپنی مرضی سے طے کرتی ہیں فیض آباد میں ایک بہت بڑے بس ٹرمینل پر ہر نکلنے والی بس سے فی مسافر150روپے بھتہ وصول کیا جاتا ہے جو بظاہر ٹکٹ کی قیمت میں شامل ہوتا ہےخدا جانے اتنی اندھیر نگری کیسے ہے اور وہ بے شرم کردار کہاں غرق ہیں جن کی ایسی ذمہ داریاں ہیں ،لاہور اسلام آباد موٹر وے سے آگے پشاور وغیرہ کے لئے موٹروے ۔ 1پر پنجاب سے لوگ جانور بڑے اور منی ٹرکوں کے ذریعے لے کر جاتے ہیں ان بے زبان جانوروں کے ساتھ دوران طویل سفر جو سلوک ہوتا ہے اس پر ہر محکمہ کی نظریں اندھی ہیں ،ٹرک عملہ سمیت پولیس وغیرہ میں جیسے خدا کا کوئی خوف نہیں سینکڑوں کلومیٹر سفر یہ جانور ناک سے بندھے اور زیادہ تعداد میں لادے ہوتے ہیں مگر یہ بے زبان ہیں نا کسی کو کیا ٹینشن ،چند روز قبل الراقم ایوان عدل لاہور میں اپنے لائرز دوستوں میاں حسنین رضا،سید عمران حیدر ،ملک سرفراز احمد اعوان ،ملک محمد شفیق،رانا نوید اور اعجاز احمد ایڈووکیٹس سے ملنے کے بعد بادمی باغ اڈہ سے اپنے آبائی گھر براستہ موٹروے ۔ 3سیدوالا انٹرچینج سے سید والا اور دریائے راوی پر پاکستانی تاریخ کے انوکھے ترین پل (یہ پل پاکستانی تاریخ کا انوکھا ترین پل کیوں اور کیسے ہے اس پرپھر بات ہوگی جو بہت دلچسپ ہے)سے گذر کر جندراکہ اور پھر صدر گوگیرہ میرے گھر کے بالکل سامنے سے گذرتی ہے پر سوار ہوا،یہ بس گذشتہ ایک سال سے اسی روٹ پر روزانہ کی بنیاد پر فکس ٹائم پر آتی جاتی ہے ،اب بھی آ جا رہی ہے اس بس کو پہلے موٹر وے پولیس نے روکا سواریاں کم تھیں مگر نہ جانے کس بات پرجرمانہ کر دیاگیا کچھ کلومیٹر آگے شرقپور انٹر چینج کے قریب ہر بس کے کاغذات چیک کرنے کے لئے ایک چھوٹی سی چیک پوسٹ بنی ہے وہاں بھی روک لیا گیا، تقریباً30منٹ بعدبس عملہ کے ساتھ بحث و مباحثہ اور ہزار روپے جرمانہ کے بعد آگے چلنے کی اجازت ملی ،اسی بس میں ایک ایسی فیملی بھی تھی جسے ایک جنازہ میں شرکت کرنا تھی ان بے چاروں کی پریشانی دیکھی نہیں جا رہی تھی الراقم کے ساتھ بھی فیملی تھی مگر اس ملک میں ہم عوام بہت مجبور ہے ،یہ بس موٹر وے سے اتر کر آگے جس روٹ پر دیہاتوں کی جانب جاتی ہے ان کا کوئی اور متبادل ذریعہ بھی نہیں ہے ،شدید گرمی اور حبس کے اس موسم میں ان با اختیاروں نے تمام بس مسافروں کو خوب ذلیل کیا،بعد میں معلوم ہوا کہ روٹ نہ ہونے پر بس کو اس قدرروکا گیا تو سوال پیدا ہوتاہے کہ کیا پبلک ٹرانسپورٹ جس میں ہرطرح کے مسافر ہوتے ہیں کسی کو کچھ کسی کو کچھ مصیبت یامجبوری ہوتی ہے کسی نے بس سے اتر کر مزید کہیں آگے والے گاؤں جانا ہوتا ہے کیا یہ بسوں کے روٹس چیک کرنے والوں یا ایسی گھٹیا پالیسی بنانے والوں کو کچھ اور نہیں سوجھا ، اس بس کو موٹر وے پر آنے ہی کیوں دیا جاتا ہے جس کا روٹ نہیں ہوتایہ کون سا طریقہ ہے،یہ چیکنگ شروع میں ہی کر لی جائے تاکہ لوگ کوئی متبادل انتظام کر لیں ، سفرکے دوران اور وہ بھی درمیان اور ویرانے میں کسی بس کو روک کر اسے نہیں بلکہ مسافروں کو ذلیل کیا جائے ایسے گھٹیا پن کا ذمہ دار کون ہے آخر موٹر وے پولیس کے آنے پر تو عوام نے سکھ کا سانس لیا تھا یہ کون لوگ ہیں جو عوام کو سکھ دینے کی بجائے اذیت سے دوچار کر کے لذت محسوس کرتے ہیں ،پاکستان بھر کی بیشتر موٹرویز کے روٹس سیاسی بنیادوں استوار ہوئے دنیا بھر میں یہ خیال کھاجاتا ہے کہ ان کے ذریعے سفر کم اورموٹر وے کاریوینیو زیادہ ہو مگر یہاں چونکہ کرپشن کی برسات سارا سال کیا کبھی ختم ہی نہیں ہوئی تو پھر ایسا تو ہونا ہی ہے جیسے اس ملک کی باگ دوڑ عوام دوست لوگوں کے پاس نہیں بلکہ عوام دشمنوں کے پاس ہوتی ہے،بہرحال یہ شرمناک کہانی بھی الگ سے ہے،موٹر وے3جس کا سروے پہلے راوی پار اوکاڑہ ،ساہیوال سائیڈ ہوا تھا اگر اس روٹ کو سیاسی بنیادوں پر تبدیل نہ کیا جاتا تو آج اسی موٹر وے کا ریونیو دگنا بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ ہوتا،آئی جی موٹر ویز ایسی قباحتوں کا جلد نوٹس لیں اور وہاں تعینات عملہ نا خدا بنا بیٹھاہے یا کہیں بھی مسافروں کو ذلیل کرنے کی ناقص پالیسی ہے اس کاتدارک کریں ۔

تبصرے