Urdu News and Media Website

"من گھڑت” سکرین شارٹس دکھائیں ۔ زندگیاں تباہ کریں

پروفیسرز قابو کرنے ۔ ڈرانے دھمکانے کے نئے انداز

تحریر:محمد عاصم حفیظ
آج ایک ایسے حربے اور گھٹیا حرکت کا پتہ چلا کہ جس کے بارے سوچ کر ہی آپ کے ہوش اڑ جائیں ۔ ایک دوست نے بتایا کہ اب ایک نیا ٹرینڈ چلا ہے جس کے ذریعے خصوصا پروفیسرز کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ ذرا طریقہ کار سمجھیں

” اپنے ہی موبائل میں دو واٹس ایپ اکاؤنٹ بنائیں ۔ ایک نمبر کسی معزز پروفیسر صاحب کے نام پر سیو کریں ۔ اپنے ہی دوسرے واٹس ایپ اکاؤنٹ کے ساتھ چیٹ کریں ۔ فیس بک سے تقاریب کی تصاویر لیکر آپس میں شئیر کریں ۔ روزانہ کی بات چیت ۔ کلاس میں جو ہوا ۔ کلاس فیلوز کی باتیں۔ کالج یا یونیورسٹی کے واقعات ۔ ساری چیٹ اوریجنل لگے گی ۔”
اب یہ سکرین شارٹ پروفیسر صاحب کو بھیجیں کہ آپ کلاس کی فلاح لڑکی سے چیٹ کر رہے تھے ۔ اگر تو بندہ گھبرا کر فوری آپ کی بات مان جائے تو ٹھیک ورنہ یہ چیٹ سٹوڈنٹس کے گروپس میں شئیر کر دیں ۔ ہمارے ہاں چسکا لینے کا شوق سب کو ہے ۔ بہت سے یقین کر لیں گے کہ کچھ نہ کچھ تو ہوا ہی ہو گا ۔ ہر کوئی رازداری سے ثواب سمجھ کر شئیر کرے گا ۔
بس مقصد پورا ۔ بدنامی ہو گئی ۔ اب بیچارے پروفیسر صاحب کہاں کہاں وضاحت دیتے پھریں گے ۔ آفیسرز بھی مزے لے لے کر سکرین شارٹس دیکھتے ہیں ۔ انکوائری میں ہی تو آفیسری دکھانے کا موقع ملتا ہے ۔
مجھے جس نے بتایا کہ ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ۔ یعنی خود سے ہی بنائے سکرین شارٹس کئی زندگیاں اجاڑ چکے ہیں ۔

ایسی کہانیاں آپ روز دیکھتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جہاں صنف نازک کی بات ہو وہاں شکوک اور ” دال میں کچھ کالا” ۔
” کچھ نہ کچھ تو ہوا ہی ہو گا” کے جملے سامنے آ ہی جاتے ہیں ۔ بڑا بن ٹھن کے آتا تھا ۔ کچھ تو عینی شاہد بن جاتے ہیں کہ انہوں نے بہت کچھ ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوتا ہے

خدارا کچھ ایسا سامنے آئے تو خودساختہ تفتیشی اور جاسوسی سوچ کی بجائے تحمل سے انتظار کر لیا کریں ۔ ہر سکرین شارٹ سچا نہیں ہوتا اور ہر الزام سچا نہیں ہوتا

اور اگر بات میڈیا تک پہنچ جائے تو پھر مسالے دار خبریں اور دھواں دار تبصرے ۔۔۔ ریٹنگ مل جاتی ہے۔ ۔لیکن کسی کی زندگی بھر کی عزت اور بعض اوقات جان بھی چلی جاتی ہے

تبصرے