Urdu News and Media Website

مختاراں مائی سے زینب انصاری تک

تحریر: محمد مدثر چوہدری

مختاراں مائی ۔۔۔۔2002 کے وسط میں ایک خبر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنی۔ مختاراں مائی سے اجتماعی زیادتی کی اس خبر کو ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے بھرپور طریقہ سے کوریج دی،” زیادتی اور اجتماعی زیادتی کیا ہوتی ہے اور اس کا نشانہ خواتین ہی کیوں ہیں؟ ” ہر روز‘‘مختاراں مائی اجتماعی زیادتی کیس’’ اخبارات اور ٹیلی ویژن کے ذرائع ہونے والی پیشرفت سے متعلق خبریں میرے لئے دیگر عام خبروں کی طرح ہی ایک خبر تھی جسے پڑھا، سنا اور بھلا دیا اس وقت بالکل بھی یہ شعور نہیں تھا کہ یہ کس قدر سنگین اور سنجیدہ مسئلہ ہے اور یہ ہمارے سماج کو کس طرف دھکیل رہا ہے۔ میری طرح اور بھی بہت سارے لوگوں کو آہستہ آہستہ نہ صرف اس معاملہ کی حساسیت اور سنگینی کا اندازہ ہوا بلکہ یہ شعور بھی اجاگر ہوا کہ اس فرسودہ نظام کے تحت ہم ان حادثات اور سانحات کے خلاف کوئی عملی کام نہیں کر سکتے۔
اگر مختاراں مائی کے کیس کو بغور سمجھا جائے تو یہ ہمارے پولیس اور عدالتی نظام کی غیر معیاری کارکردگی کی ایک روشن مثال ہے۔ یکم ستمبر 2002 میں انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے مختاراں مائی سے اجتمائی زیادتی کرنے والے چھ ملزمان کو سزائے موت سنائی۔ 2005 میں لاہور ہائی کورٹ نے چھ میں سے پانچ ملزمان کو عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا اور چھٹے ملزم کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا گیا، یہ ذہن میں رہے کہ ان تمام ملزمان کو مختاراں مائی نے خود شناخت کیا اور اس کی تصدیق عدالت کے روبرو بھی کی گئی۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف مختاراں مائی نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی اور وہاں یہ کیس ایک طویل عرصہ تک چلنے کے بعد 2011 میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلہ کو برقرار رکھا۔ بنیادی طور پر مختاراں مائی کا کیس ایک دہرا کیس ہے۔ سب سے پہلے مختاراں مائی کے بارہ سالہ بھائی عبدالشکور کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس پر متاثرہ خاندان کی طرف سے پولیس کی مدد طلب کی گئی لیکن متاثرہ خاندان کی مدد کرنے کی بجائے پولیس نے ملزمان کا ساتھ دیا اور عبدالشکور کے خلاف ایک با اثر خاندان کی لڑکی سے زیادتی کا مقدمہ درج کیا اور اس مقدمہ کی بنیاد پر مقامی پنچایت نے مختاراں مائی سے اجتماعی زیادتی کا حکم دیا۔ پنچایت کے فیصلہ کے مطابق موقع پر ہی چار افراد نے دس گواہان کی موجودگی میں مختاراں مائی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں اسے برہنہ حالت میں پورے گاؤں میں گھمایا گیا۔مختاراں مائی کے ابتدائی طبی معائنہ کی رپورٹ اور موقع واردات سے اس کے ملنے والے کپڑے بھی ثبوت کے طور پر عدالت میں پیش کئے گئے۔ مختاراں مائی کے کپڑوں پر پائے جانے والے جنسی مواد کے کیمیائی تجزئیے سے بھی ان افراد کے ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی جو متاثرہ خاتون کے دعویٰ کو سچ ثابت کرنے کے لئے کافی تھا۔ لیکن ان تمام شواہد کے باوجود حیرت انگیز طور پر تمام ملزمان کو باعزت بری کیا گیا۔ قصور کی رہنے والی کلاس اول میں پڑھنے والی ننھی پری زینب انصاری ۔۔۔ مجھے آم بہت پسند ہیں یہ وہ الفاظ ہیں جو معصوم سے پھول زینب انصاری نے اپنی ہوم ورک بک میں لکھے تھے۔ یہ الفاظ پڑھتے ہوئے آنسو اُمڈ آئے کلیجہ منہ کو آ رہا تھا اوردماغ جیسے ماؤف اور الفاظ ساکت ہو گیا۔ایسے المناک منظراور ایسی معاشرتی بے حسی پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ حکمرانوں،سیاست دانوں اور ان کا اعلی کاربنی ریاستی مشینری کی بے حسی کے باعث ریاستی نظام مفلوج اور بد بو دار ہو چکا ‘ کیا حکومتی کارکردگی بس سڑکیں اور پل بنانے میں ہی نظر آتی ہے؟ ‘ حکومت چل رہی ہے نظام کام نہیں کر رہا مگراب حکمران اور سیاستدان طبقہ کو یقین ہو چکاہے کہ عوام ان کے اعلانات اور اقدامات کو سنجیدہ نہیں لیتے بلکہ ڈرامہ بازی سے تعبیر کرتے ہیں۔
پنجاب کے نام نہادخادم اعلیٰ عوام کے ردعمل سے چھپتے چھپاتے دن کی بجائے رات کے اندھیرے میں زینب انصاری کے گھر پہنچے اور گھسے پٹے اعلان کئے‘ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں ایک مرتبہ پھر کمر بستہ ہو کر میدان میں آ گئیں اور احتجاج کے نام پر اپنی سیاست چمکانے لگیں۔مگر روز محشر وہ معصوم کلی ان سب کا گریبان پکڑ کر بولے گی کہ یارسول اللہ یہ وہ ظالم و جابر حکمران ہیں جومیری لاش پر سیاست کرتے رہے‘ پولیس افسران شرمندہ ہونے کی بجائے ڈھٹائی سے انعامات مانگتے رہے‘میرے معاشرے کے علمائکرام ظلم کے خلاف جنگ کرنے کی بجائے امریکہ کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی دعا مانگتے رہے۔ ختم نبوت کے مسئلے پر تجارت کرنے میں مشغول رہے‘ یارسول اللہ میں آپ سے شکایت کرتی ہوں کہ مجھ پر و دیگر حوا کی تمام بیٹیوں پر ظلم بے حسی اور خود غرضی میں ڈوبی آپ کی امت نے کیا ہے، جس نے سیاست کو تجارت ، عہدوں کو کاروبار، حرام و حلال برابر کر دئیے ہیں۔ رسول اللہ ؐایک لیڈر کو اپنی پڑی تھی کہ مجھے کیوں نکالا ایک لیڈر تیسری شادی کی پیشکش کے جواب میں بیٹھا تھا ایک لیڈرایک بار پھر سیاست میں ان ہونے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا اور ایک اپنی ڈوبی ہوئی ناو کو پیوند لگنے پر جشن مناتا اورشادیانے بچاتا رہا۔اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمرانوں نے اس کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر نوچ ڈالا۔حکمرانوں کی بے حسی اور اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف سیاستدانوں کا اعلی کار بنی پولیس ناکام اور ناکارہ بن چکی ہے سیاست کا نام اور کام غنڈا گردی بن چکا ہے۔معاشرہ تباہ حال اور چاروں طرف جنگل کا قانون اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عملی تصویر بنا ہوا ہے۔ حکمران و سیاستدان اقتدار کی بندر بانٹ میں مصروف ملکی مسائل سے مکمل بے نیاز ہو چکے ہیں۔ خواتین اور بچیوں کیخلاف تشویشناک حد تک بڑھتے ہوئے ظلم و زیادتی کے واقعات سے شہری خوفزدہ ہو چکے ہیں۔ پاکستان کا وقار بلند کرنے کے بجائے خواتین کی تذلیل کے بڑھتے ہوئے واقعات سے چشم پوشی کے باعث اس کی ساکھ کو مجروع اور ملک کو دنیا بھر میں بدنام کیا جا رہا ہے۔وطن عزیز میں خواتین کی تذلیل و استحصال اشرافیہ کا شیوہ بن چکا ہے تحفظ حقوق نسواں اور چائلڈ رائٹس ایکٹ صرف کاغذی کاروائی تک محدود ہیں :چنبہ ہاوس میں قتل ہونے والی سمعیہ سے لے کر قصور میں قتل ہونے والی زینب :حوا کی ہر بیٹی انصاف مانگتی ہے کیونکہ ان کم بختوں کامحض طریقہ واردات مختلف ہے مگر حوا کی ہر بیٹی کوباالآخر تذلیل کا نشانہ بنا کر ظلم وبربریت کا شکار کیاجاتا ہے ۔ریاست اور ریاستی ادارے خواتین کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔وطن عزیز کے حکمران وسیاستدان اقتدار کی بندر بانٹ میں مشغول اور عوام بالخصوص خواتین ا ور بچیوں کے استحصال کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ تشویشناک ہے۔ سال 2017ء میں خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کی تعداد میں سال 2016ء کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ حادثاتی نہیں بلکہ اسلام اور پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ اپنے مفادات کے حصول کے لیے سرگرم سیاستدانوں اور حکمرانوں کو عوامی مسائل سے کوئی غرض نہیں خواتین و بچیوں کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ حکمرانوں، سیاستدانوں و ریاستی اداروں کی بے حسی اورکرمنل جسٹس سسٹم کو مضبوط نہ ہونیکے باعث ہے جس کی وجہ سے انسانیت شرمسار ہے۔نام نہاد خادم اعلیٰ کے صوبہ پنجاب میں گزشتہ برس خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے2700 مقدمات رپورٹ ہوئے جن میں 2850 ملزمان کو گواہوں کے اپنے بیان سے منحرف ہونے کی وجہ سے باعزت بری کیا گیا۔ صوبہ پنجاب کی ماتحت عدالتوں میں خواتین اور بچیوں سے زیادتی کے 6600 مقدمات زیرِ التواء ہیں۔ بچوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعا ت میں اضافہ پولیس کی جانب سے کاروائی میں تاخیری حربے اختیارکر کے ایسے جرائم کا ارتکاب کرنے والے ملزمان کی فوری گرفتاری کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنائے جانیکے بجائے ان کو بچانے کے باعث ہے۔ خواتین اوربچوں پر جنسی تشدد کے کیسز میں کاروائی میں تاخیری حربے استعمال کرنے والے افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جانی اشد ضروری ہے تاکہ عصمت فروشی اور اقدام قتل کے اس گھناونے دھندے میں ملوث مجرمان کو قرارواقعی سزا دلوا کر اس بڑھتی ہوئی معاشرتی لعنت سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔خواتین کی تذلیل اور استحصال اشرافیہ کا شیوہ بن چکا ہے۔قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی کے بغیر ہم اپنی نئی نسل کوترقی یافتہ معاشرہ فراہم نہیں کر سکتے۔چند امیر زادوں،وڈیروں اور سرمایہ داروں کے تحفظ کیلئے قوانین بنانا حکمرانوں کیلئے شرمندگی کا باعث ہے۔ملک و قوم کے حقوق تحفظ اور ریاست کے ساتھ غداری نے کرنے کا حلف اٹھانے والے خود سب سے بڑے قانون شکن ہیں۔جب تک ان اصل عوام کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا ہر روز چنبہ ہاوس میں مردہ پائی جانے والی سمیعہ ،مختاراں مائی ،زینب،کائنات،سیمل راجہ،کنول نصیر،شمیم کیانی،سونیا نعمان ،عائشہ احد اور سپنا خان جیسی حوا کی بیٹیوں کی تذلیل کا سلسلہ کبھی تھم نہیں سکتا۔

تبصرے