Urdu News and Media Website

لاہورچڑیا گھر ۔۔۔جانور بھی جنگل کے قانون کا شکار ہو گئے

تحریر:عمارہ کلیمﷲ
دنیا بھر میںچڑیا گھر سیر کے لیے بچوں کی پسندیدہ جگہ ہے،جہاں وہ طرح طرح کے جانور دیکھ کر خوب محظوظ ہوتے ہیںیہ ہی وجہ ہے کہ والدین بھی اپنے بچوں کو چڑیا گھر لے جانا پسند کرتے ہیں کیونکہ مختلف جانوروں کو دیکھ کر جب بچے خوش ہوتے ہیں تو یہ منظر دیدنی ہوتا ہے ۔وہ جانور جو وہ اپنی کتابوں میں دیکھتے ہیں جب حقیقت میں دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھوں کی چمک ہی الگ ہوتی ہے، وہ ان کے ساتھ انسیت محسوس کرتے ہیں ۔والدین بھی جانتے ہیں کہ یہ ایسی تفریح ہے جس کے ذریعے وہ اپنے بچوں کے علم میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں اس لیے تقریباً ہر چھٹی پر وہ اپنے بچوں کو چڑیا گھر سیر کے لیے لے جانے میں مضائقہ نہیں سمجھتے۔ اور کیوں نہ لے جائیں لاہور چڑیا گھر ہے ہی ایسی جگہ جہاں بچے بار بار جانا پسند کرتے ہیں۔گزشتہ ہفتے اپنی بیٹی کے پر زور اصرار پر اور اپنی روٹین کی مصروفیت سے وقت نکال کر جب لاہورچڑیا گھر جانا ہوا تو یقین جانیں بہت افسوس ہوا کہ یہ وہی چڑیا گھر ہے جہاں بچے بہت شوق سے جاتے تھے۔ بچپن میںتو ہم بھی چڑیا گھر جاتے تھے لیکن اس وقت حالات شاید زیادہ بہتر تھے اور ہماری خوشی کی کوئی حد نہیںہوتی تھی لیکن چونکہ آج کے بچے زیادہ سمجھدار ہیں اس لیے جب وہ چڑیا گھر جاتے ہیں تو خوش ہونے کے بجائے سوچتے زیادہ ہیں، وہ سوال زیادہ کرتے ہیں جیسے یہ بندر اداس کیوں بیٹھا ہے؟یہ شیر کمزور کیوں لگ رہا ہے ؟سوزی کیوں مر گئی؟ہمارے چڑیا گھر میں زرافہ کیوں نہیں جو ہم جانوروں والے چینل پر دیکھتے ہیں؟اب انھیں کون اور کس طرح سمجھائے کہ یہ جو جنگل کا قانون پورے پاکستان میں چل رہا ہے اس نے ان جنگل کے جانوروں کو بھی نہیں بخشا۔۔چڑیا گھر میںزیادہ تر جانور اداس اور پریشان نظر آئے جیسے اپنی آنکھوں سے اپنی داستان سنا رہے ہوں کہ ہم کہاں پیدا ہوئے اور کہاں لا کر پھینک دئیے گئے؟ ۔زیادہ تر اپنے ٹھکانوں میں چھپتے ہوئے نظر آئے جیسے انسانوں سے بیزار ہوں۔صرف وہ ہی جانور بولتے ہوئے نظر آئے جنھیں کچھ نادان تنگ کر رہے تھے ۔ جہاں سوزی کو رکھا جاتا تھا اپنی وابستگی کی وجہ سے وہاں بھی گئے ۔وہاں ایک ہو کا عالم تھا۔ اکثرشیر بھی دنیا سر بیزار نظر آئے جو پڑے ہوئے گوشت کو منہ نہیں لگا رہے تھے اور اس قید میں اپنے شیر کے بادشاہ ہونے پر نوح کناں بھی ۔شاید ان جانوروں کی زبان ہوتی تو یہ بھی ینگ ڈاکٹرز،رکشہ ڈرائیورز،نابینا افراد،پی آئی اے کے ملازمین،لیڈی ہیلتھ ورکرز،لا پتہ افراد کے لواحقین،نرسزغرض پورے پاکستان میںجاری احتجاج میں ایک احتجاج ان جانوروں کا بھی ہوتا کہ ’’یا تو ہمیں واپس بھیج دو یا ہمارا خیال رکھا جائے ‘‘۔ہمارے کھانے،صفائی اور رہنے کی جگہ کے علاوہ ہمیں مختلف بیماریوں سے بچانے کا انتظام کیا جائے ہمیں بھی جاندار سمجھا جائے ناکہ حالات پر چھوڑ دیا جائے ۔
چڑیا گھر لاہور اپنا ایک شاندار ماضی رکھتا ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب میں واقع ہے، 1872ء میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ براعظم ایشیا کے بڑے چڑیا گھروں میں شمار کیا جاتا ہے۔یہ چڑیا گھر شروع میں چند پرندوں کی مدد سے شروع کیا گیا تھا جو لعل ماہندرا رام نے فراہم کیے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جانوروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا، آج اس چڑیا گھر میں تقریباً 136 مختلف اقسام کے جانور ہیں جس میں سے 82 قسم کے 996 پرندے، 8 اقسام کے رینگنے والے 49 جانور اور 45 اقسام کے مما لیہ جانور شامل ہیں۔ یہ چڑیا گھر 1872ء سے 1923ء تک لاہور میونسپلٹی کے زیر انتظام رہا اور اس کے بعد 1962ء تک لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو اس کے انتظامات حوالے کیے گئے۔ اس کے بعد سے یہ 1982ء تک یہ چڑیا گھر صوبائی محکمہ امور حیوانات اور اس کے بعد سے اب تک یہ محکمہ جنگلی حیات کے زیر انتظام چلایا جارہا ہے۔ محکمہ جنگلی حیات کے حوالے ہونے کے بعد اس چڑیا گھر میں کئی مثبت تبدیلیاں کی گئیں تھیں جن میں نئی عمارات اور سہولیات کی فراہمی تھا۔لیکن موجودہ دور میں چڑیا گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں۔صفائی کے ناقص انتظامات کی وجہ سے چڑیا گھر میں ہر وقت تعفن پھیلا رہتا ہے اور آلودگی کے باعث سیاحوںکی تعداد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔چڑیا گھر کی انتظامیہ کی ملی بھگت سے ہارس رائیڈنگ ٹھیکیداروں نے اوور چارجنگ کی انتہا کر رکھی ہے اور آنے والوں کو دونوں ہاتھوں سے لو ٹا جا رہا ہے۔بچوں کی کار رائیڈنگ کے ٹھیکیدار ٹریک کے دو چکر لگا کر باہر نکال دیتے ہیں۔چڑیا گھر انتظامیہ نے نر سری کو ختم کر کے بس سٹینڈ بنا دیا ہے۔بفر ذون ختم ہونے کے باعث ٹرانسپورٹ کا شور بڑھ گیا ہے۔کاربن کی زیادتی سے بیش قیمت نایاب پرندے بیمار پڑ گئے ہیں اور ان کی افزائش نسل بھی رک گئی ہے۔ نر سری کی جگہ بس سٹینڈ بنا دیا گیا ہے جس سے آلودگی میں اضافہ ہوا ہے ۔چڑیا گھر میں ہارس اینڈ کیمل الیکڑک جھولوں کے ٹھیکیدار بیس اور تیس کے بجائے پچاس روپے وصول کر رہے ہیں اور روزانہ ہزاروں روپے بٹور رہے ہیں اور انتظامیہ نے چپ سادھی ہوئی ہے۔چڑیا گھر کے ڈائریکٹر محمد حسین سکھیرا سے جب چڑیا گھر کی حالات زار کے بارے میں بات کی گئی تو ’’انصاف‘‘سے بات کرتے ہوئے ان کاکہنا تھا کہ ہفتے میں دو دفعہ تالابوں میں سپرے کیا جا رہا ہے۔ہارس رائیڈنگ کے ٹھیکیداروں کے خلاف بھی شکایت موصول ہوئی ہے اور اس پر فوری کاروائی کا حکم جاری کیا ہے جبکہ گزشتہ ہفتے اوور چارجنگ پر جرمانے بھی کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چڑیا گھر میں مزید جانور آتے رہیں گے تاکہ رونق بحال ہو سکیں۔چڑیا گھر مینجمنٹ کمیٹی کے مطابق جانوروں کی خریداری کے لیے طلب کر رکھے ہیں تا کہ چڑیا گھر کی رونقوں کو بحال کیا جا سکے۔اس مد میں بجٹ مختص کر دیا گیا ہے۔لیکن حالیہ حالات یہ ہیں کہ دس جانور ’’اضافی ‘‘کہہ کر پشاور زوو کوبیچ دئیے گئے ہیں۔
زیادہ عرصہ نہیں گزرا چڑیا گھر کی واحد ہتھنی سوزی کی موت کی خبر اس سے پیار کرنے والوںپر پہاڑ بن کر ٹوٹی ۔چھ سال کی عمر میںجب وہ لاہور چڑیا گھر لائی گئی ہو گی تو سوزی ایک بہت پیاری سی نٹ کھٹ ہتھنی ہوتی ہو گی لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ جس دیس میں وہ لائی گئی ہے اس دیس میں جانور تو دور کی بات انسانوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہاں اسی فیصدمردو عورت بس زندگی گزار رہے ہیں اور پھر بھوک افلاس، نا انصافی، انتظامی نا اہلی، کوئی ظلم ،کوئی حادثہ ،کب کسی کو جہان فانی کوچ کرنے پر مجبور کر دے کسے معلوم اور یہ ہی سوزی کے ساتھ ہوا ۔سوزی سے پہلے چڑیا گھر کے ہاتھیوں کی جوڑی شہ زور اور لکھی رانی کی کہانی نے بھی لاہور کے لوگوں کو آٹھ آٹھ آنسو رلایا تھا۔شہ زور جب اپنی فطرت کی وجہ سے مشتعل ہوا تو چڑیا گھر کی انتظامیہ نے اسے بے ہوش کرنے کے بجائے لکھی رانی کے سامنے کھڑے کھڑے گولی مار دی اور پھر شہ زور کے غم میں لکھی رانی بھی جلد اس دنیا سے کوچ کر گئی شاید دکھی دل کے ساتھ لوگوں کو خوش کرنا اس کے بس کی بات نہیں رہی تھی ۔سوزی کا تماشا بھی پوری دنیا دیکھتی تھی لیکن کبھی کسی نے اس کے دکھ کو نہ سمجھا کسی نے نہیں سمجھا کہ وہ بھی احساسات رکھتی ہے۔وہ تیس سال تک روزانہ لوگوں کو خوش کر کے اپنے پنجرے میں بند ہوتی رہی اور پھر ایک دن خود بھی ختم ہو گئی۔۔ ویٹرنری ڈاکٹر کے مطابق اکیلے رہنے کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور موٹاپا ہی عموماً وہ دو وجوہات ہیں جو چڑیا گھر کے جانوروں کی موت کا سبب بنتی ہیںجبکہ لاہور چڑیاگھر کی افریقی نسل کی سوزی کی تنہائی کی وجہ یہ تھی کہ جب وہ چڑیا گھر میں لائی گئی تو اس کے ساتھ رہنے کے لیے اس کے کسی ہم عمر ہاتھی کو نہیں لایا گیا۔ان تمام باتوں کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے کہ سوزی اپنی طبعی موت نہیں مری بلکہ اسے لاہور چڑیا گھر انتظامیہ اور چڑیا گھر مافیا نے اپنے فائدے کی خاطر موت کے گھاٹ اْتارا ۔ اس سے قبل بھی لاہور چڑیا گھر کے زرافہ، گینڈا،دریائی گھوڑا جیسے قیمتی جانور اپنی جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ چڑیا گھر کا واحد زرافہ’’ سنی2011‘‘ میں مر گیا تھا۔اس ہفتے جب فیری نامی شیرنی چل بسی تو عوام میں ایک تاثر ابھرا کہ یہ تو روز کی ہی بات ہو گئی ہے ۔لاہور کے چڑیا گھر کے ترجمان نے بتایا کہ 18 سالہ فیری کافی عرصے سے بیمار تھی۔ شیرنی کو آٹھ سال قبل فالج ہوا تھا اور وہ بہت تکلیف میں تھی۔اسی تکلیف کو ختم کرنے کے لیے لاہور چڑیا گھر کی انتظامیہ اس کو ابدی نیند سلانا چاہتی تھی۔انتظامیہ کے مطابق فیری کی تکلیف کم کرنے کے لیے چڑیا گھر کی انتظامیہ نے خون کے نمونے بیرون ملک بھی بھیجے لیکن وہاں سے رپورٹ آنے سے قبل ہی شیرنی مر گئی۔فیری لاہور کے چڑیا گھر ہی میں 1999 میں پیدا ہوئی تھی۔ دو مہینے پہلے ایک شیر کا بچہ لقمہ اجل بنا جو کہ ایک سال میں ہلاک ہونے والا تیسرا شیر تھا۔ چھے مہینے پہلے بھی ایک شیر کا بچہ مر گیا تھا جبکہ تین مہینے پہلے ہاگ ڈئیر کی ہلاکت کی خبر تھی۔ایک رپورٹ کے مطابق لاہور چڑیا گھر میںمجموعی طور پر ایک سال میں 56جانور اور 493پرندے ہلاک ہوئے جبکہ رواں سال 32جانور اور108 پرندے ہلاک ہوئے۔ خوراک،ادویات اور عملے کی غفلت کے باعث چڑیا کے حالات دوگرگوں ہیں۔
لاہور چڑیا گھر انتظامیہ کی غفلت، نااہلی اور کرپشن کی خبریں بھی پچھلے کئی سال سے میڈیا کی زینت بن رہی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ چڑیا گھر میں بااثر مافیا نے نا جائز کمائی کا بازار گرم کر رکھا ہے جس پر پنجاب کے محکمہ جنگلی حیات نے بھی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔جن ممالک میں احتساب کا نظام کمزور ہوتا ہے وہاں کرپشن کو پھلنے پھولنے کے مواقع ملتے ہیں اور جن ممالک میں یہ نظام مضبوط ہوتا ہے اور حکام اور عوام کو ذہنی طور پر بدعنوانی سے اجتناب کے لئے تیار کیا جاتا ہے وہاں صورتحال برعکس ہوتی ہے۔ اس میں کوئی دو آراء نہیں پائی جاتیں کہ جس ملک میں کرپشن کا راج ہو، وہاں اداروں کا کام کرنا دشوار ہوجاتا ہے۔معاشی ماہرین گورننس کے نقائص ، ڈسپلن کے فقدان ، احتساب کے عملی طور پر موثر نہ ہونے، سرکاری محکموں میں تاخیر سے فیصلے ہونے ، حکومتی فیصلوں پر عملدرآمد کی مشینری کی کمزوری ، میرٹ سے صرف نظر جیسے اسباب کی کرپشن کے مسئلے کے حوالے سے برسوں سے نشاندہی کرتے چلے آرہے ہیں۔ اس کے حل کے لئے مالیاتی ڈسپلن اپنانے اور احتساب کے ادارے مضبوط کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں۔ اس سلسلے میں ضروری قانون سازی کرکے اور اس کے موثر نفاذ کے اقدامات کرکے فوری طور پر پیش قدمی ممکن ہے۔ جن حلقوں پر حالات سدھارنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ان کے رویے سے ایسا معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کرپشن سے ملک کو پہنچنے والے نقصان یا عوام کے مسائل میں روز افزوں اضافے کی کوئی پروا ہے۔ اگر ہمارے حکمراں اپنی شاہ خرچیوں اور غلط بخشیوں سے اجتناب کرتے،سیاسی ضروریات اور ذاتی مفادات کے لئے سرکاری اداروں پر نااہل ملازمین اور انتظامیہ کا بوجھ نہ بڑھاتے اور ہر معاملے میں میرٹ کو مقدم رکھتے تو ملکی حالات اتنے خراب نہ ہوتے نہ معیشت کی صورت حال اتنی ابتر ہوتی کہ عالمی ادارے قرضے دینے سے گریزاں ہیں۔ بدعنوانی کے سدباب کیلئے اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ماتحت عدالتوں میں کرپشن سے متعلق مقدمات کے فیصلے جلد ہوں۔ دراصل یہ ایک ایسا سلسلہ ہے حقوق، ضروریات اور ذمہ داریوں کا جو ریاست سے لے کر عام آدمی تک پھیلا ہوا ہے۔ جن ملکوں میں کرپشن نہیں ہے وہاں سب اپنا اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ وطن عزیز کو بھی غربت ، بدعنوانی اور افراتفری کی کیفیت سے نکالنے کے لئے تمام عناصر کو اپنا اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کرنا ہوگا۔ یہ وقت ،کہ کرپشن کے خلاف عمومی نفرت پائی جاتی ہے، اس ضمن میں قانون سازی اور عملی اقدامات کے لئے بہت مناسب ہے۔ اس حوالے سے سیاسی پارٹیوں اور سماجی تنظیموں کو اپنا اپنا کردار موثر طور پر ادا کرنا چاہئے۔یہ افسوس ناک مقام ہے کہ میں اور میرے جیسے اور والدین اپنے بچوں کو کیا بتائیںکہ ان جانوروں کو مارنے کے لیے خود کش حملوںکی ضرورت نہیں ہوتی ملک کے اداروں میں رائج ماحول ہی ان کے لیے کافی ہے۔۔۔ لیکن شاید اسے بتانے کی ضرورت نہیں یہاں کا نظام انھیں خود بتا دے گا،روز ٹی وی پر چلنے والی ہیڈ لائنز اسے بہت جلد بتا دیں گی کہ یہاں جانور تو کیا انسانوں کے لیے بھی بنیادی ضروریات مہیا نہیں۔یہ افسوس ناک ہے کہ ہم اپنی آئند نسلوں کو ایسا پاکستان دینے جا رہے ہیں۔شاید اسی میں عافیت ہے کہ ہم ان سے پہلے ہی معافی مانگ لیں۔

حفاظتی اقدامات کا فقدان
دہشت گردی اور ملک کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر عوامی مقامات پر سکیورٹی پر زور دیا جارہا ہے خاص طور پر جب سے لاہور میں تفریحی مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے تو حکومتی اداروں کی طرف سے یہ دعویٰ ہے کہ خاص طور پر رش والے اور حساس مقامات پر فول پروف حفاظتی انتظامات ہیں لیکن اگر لاہور چڑیا گھر کے حالات دیکھیں جائیں تو یہاں کئی جگہ سکیورٹی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر نظر آئیں گے۔لاہورچڑیا گھر میں پارکنگ سٹینڈ کے جنگلے پر کوئی سکیورٹی نظر نہیں آتی اور کوئی بھی جنگلہ پھلانگ کر آسکتا ہے۔پھر پرندوں کی سائیڈ پر بھی کوئی سکیورٹی نہیں۔لاہور چڑیا گھر کے بعض ایسے مقامات بھی دیکھے جا سکتے ہیں جہاں خار دار تاروں کے نام پربرائے نام سکیورٹی بھی نہیں موجود۔ایسے حالات میں کیا کہا جا سکتا ہے سوائے اس کے کہ خدانخواستہ اگر کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہو گیا تو حکومتی ادارے لکیر پیٹتے رہ جائیں گے اس سے بہتر ہے کہ پہلے ہی حکومتی ادارے لاہور چڑیا گھر کے مقام کی اہمیت اور اس کے حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو سمجھیں اور ’’سب اچھا‘‘ کہنے کے بجائے مسائل کو سمجھا جائے اور ان کو حل کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

 

 

تبصرے