Urdu News and Media Website

لاہور:متروکہ وقف املاک بورڈ کےافسران کی مبینہ ملی بھگت،مستی گیٹ موتی بازار میں دکان کی جگہ پلازہ کی تعمیرشروع

لاہور(علی جنید) چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کی ناقص پالیسیوں کے باعث محکمہ اپنی شناخت کھو چکا ہے
اور کرپشن نے اپنی جڑیں مضبوط کرلیں ہیں
جس وجہ سے چیک اینڈ بیلنس ختم ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق متروکہ وقف املاک بورڈ کو جہاں حکومت پاکستان نے ہندو سکھ اراضی کو آمین کے طور پر مقرر کر رکھا ہے
وہاں بدقسمتی سے ایک ایسے شخص ڈاکٹر عامر احمد کو بطور چیئرمین نامزد کر کے تعینات کیا گیا ہے
کہ جس پر وفاقی حکومت کی جانب سے تحریری طور پر لیٹر بھی جاری کیا گیا ہے
کہ ڈاکٹر عامر احمد نے اپنی تنخواہ کی مد میں ناجائز ذرائع استعمال کئے ہیں اور حکومتی خزانے سے لاکھوں روپے نکلوائے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ کا ماتحت عملہ بھی اپنے چیئرمین کی ڈگر پر چل پڑا ہے اور کرپشن کو قانونی تحفظ دینے کی کاوشوں میں مبتلا ہیں۔
لاہور زون 1 کے ایکس کیڈر ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر عمر جاوید اعوان نے اپنے کارخاص انسپکٹر گلریز مسیح کی مدد سے گھناؤنی سازش کو عمل میں لاتے ہوئے چیئرمیں ڈاکٹر عامر احمد کی اجازت اور علم میں لائے بناء ہی لاہور کے تجارتی مرکز مستی گیٹ موتی بازار میں اڑھائی مرلہ محکمہ کی پرانی کرایہ داری والی دکان کو مسمار کرتے ہوئے مبینہ طور پر 50 لاکھ کی رقم کے عوض اسی جگہ پرانے کرایہ پر ملٹی سٹوری پلازہ کی تعمیر شروع کروارکھی ہے

جبکہ متروکہ وقف املاک بورڈ کا قانون اس قسم کی تعمیر کی اجازت نہیں دیتا ہے اس پر ایڈمنسٹریٹر لاہور وہاب گل سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ اس عمارت کا انھیں علم نہیں ہے ابھی اس پر میں ذاتی طور پر انکوائری کرتا ہوں ۔

دوسری جانب ڈپٹی ایڈمنسٹریٹر عمر جاوید اعوان سے موقف کے لئے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے بتایا کہ اس کمرشل عمارت کی ازسر نو تعمیر کی اجازت ایڈمنسٹریٹر لاہور کی جانب سے دی گئی ہے ۔
جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں ابہام پایا جا رہا ہے کہ پہلے جو سنگل سٹوری دکان تھی اس پر پلازہ کی تعمیر کرنا اور ایسی صورتحال میں مذکور عمارت کا ازسرنو کرایہ نامہ کیسے اور کن شرائط پر مرتب کیا جائے گا یہ محکمہ کے لئے سوالیہ نشان ہے۔۔۔۔۔۔ ؟

تبصرے