Urdu News and Media Website

قصور کی بے قصور مقتولہ

تحریر: عامر اسحاق
ز ندگی میں کئی بار ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب جذبات اور احساسات کو الفاظ میں ڈھالنا مشکل ہو جاتا ہے جذبات کے آگے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں مجھے ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے قصور میں زینب نامی بچی کے ساتھ غیر انسانی و غیر حیوانی سلوک کرتے ہوئے قتل کیا گیا ۔و طن عزیز میں ایسے واقعات تسلسل وقوع پذیر ہو رہے ہیں ہر روز کہیں نہ کہیں ایسا واقعہ پیش آ جاتا ہے ہر روز ہماری اخلاقیات کے جنازے اٹھتے ہیں ہماری اخلاقیات روزکچرے کے ڈھیروں پہ پڑی ملتی ہے، اخلاقی لحاظ سے ہم دن بدن پستیوں میں گرتے جا رہے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اور امن قائم کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں فراموش کیے بیٹھے ہیں ۔ساری توانائیاں حکومتی شخصیات کی خوشنودی کے لیے جاری و ساری ہیں پولیس حکومت وقت کی باندی بن چکی ہے وزراء اور پارلیمنٹیرین کے آگے پیچھے ہی محو گردش رہتی ہے۔قصور کا نام آتے ہی بابا بلھے شاہ کا نام فوراً ذہن میں آتا ہے یہ شہر کسی دور میں تصوف کے حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا رہا ہے ۔لیکن اب شاید اس شہر کو کسی کی نظر بد لگ گئی ہے 2015میں اس شہر سے ایک بہت بڑا جنسی سکینڈل منظر عام پر آیا جس کی وجہ سے اس شہر کو کافی زیادہ بدنامی کا سامنا کرنا پڑا ۔دو سو سے زائد بچوں کو جنسی درندگی کا شکار بنایا گیا تھااور ویڈیوز بھی بنائی گئی تھیں۔ اتنے بڑے کیس کو حسب معمول دفن کر دی گیا ملزمان کو خاطر خواہ سزا نہ دی گئی ۔اگر ان کو سزا دی گئی ہوتی نشان عبرت بنایا گیا ہوتا توآج سات سالہ زینب کی لاش جنسی درندگی کے بعد کچرے کے ڈھیر پر پڑی ہوئی نہ ملتی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق زینب سے پہلے گیارہ بچیاں قصور میں ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کر دی گئی ہیں۔اتنا کچھ ہو جانے کے باوجود حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی کیونکہ یہ بچیاں غریب گھرانوں کی تھیں ان میں سے کوئی بھی حکمرانوں کے خاندان سے نہ تھی۔ بلھے شاہ کا شہر قصور ایسا تو نہ تھا یہ چند سال سے اتنا بدل کیوں گیا،یہاں تو انسان بستے تھے یہاں درندوں نے کب سے بسیرا کر لیا اور اوپر سے درندگی دکھاتے ہوئے معصوم بچوں بچیوں کواپنی درندگی کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔کچرے پر پڑی زینب کی لاش بار بار جنجھوڑ رہی ہے تھوڑی دیر بعد آنکھوں کے بند ٹوٹ پڑتے ہیں رات کو سونا دشوار ہوا ہے ۔ایک نیلی آنکھوں والی تصویر آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے اور دوسری تصویر کچرے پر پڑی لاش کی ہے جس نے جسم وجان میں زلزلے برپا کر رکھے ہیں ۔بار بار اپنی پانچ سالہ بیٹی کو پیار کرتا ہوں اور سوچتا ہوں زینب کے والدین پر کیا گزر رہی ہوگی۔زینب کے والدین جب عمرے پر روانہ ہوئے ہوں گے تو اس معصوم نے شا ید ساتھ جانے کی ضد کی ہو والدین نے کھلونے اور کھا نے کے چیزیں لانے کا لالچ دے کر بھلایا ہوگا پھر بچی نے بہتے آنسوؤں کے ساتھ والدین کو الوداع کیا ہو گا۔والدہ ا ور والد نے اس کے لیے لانے والی چیزوں کی اپنے اپنے دل میں الگ الگ لسٹ بنائی ہوگی کہ فلاں فلاں شے بیٹی کے لیے لے کر آئیں گے لیکن ان کو کیا معلوم تھا کہ ظالم ان کے آنے سے پہلے ہی بیٹی کو چھین کرلے جائے گا ۔ ننھی پری کو ظالم نے پتہ نہیں کیا لالچ دیا ہوگا کہ وہ اس کے ساتھ چل پڑی ہوگی اور کو اپنا چچا یا ماموں سمجھا ہوگا لیکن اس درندے نے اس کو کس طرح بھنبھوڑا ہو گا جس کی جگہ اگر وحشی بھی ہوتا تو شاید یہ ظلم نہ کرتا اگر وہ بچی جنگل میں درندوں کو مل جاتی تو شاید وہ بھی اس کی جان نہ لیتے لیکن اس شیطان کے چیلے نے یہ ظلم پتہ نہیں کیسے کیا اور پری کی جان لے لی۔جتنے دن وہ اغواء رہی اس پہ کیا گزرتی رہی ہوگی وہ ماما پاپا کو کس طرح پکارتی ہوگی دیواروں کے ساتھ سر پٹختی رہی ہوگی ۔عمرے کے دوران جب والدین کو اپنی بیٹی کے اغوا ء کی خبر ملی ہوگی تو انہوں نے سب سے پہلے کس سے شکایت کی ہوگی اور وہ شکایت سننے والی ہستیاں ان کے کتنا قریب ہوں گی کس درد سے انہوں نے اپنی شکایت پیش کی ہوگی ذمہ داران کو اس بات سے ضرور آگاہ رہنا چاہیے۔خاد م اعلیٰ کی دعویدار شخصیت کو ضرور سوچنا چاہیے کہ اس بارے میں آپ سے بھی ضرور پوچھا جائے گا۔ْقصور واقعہ سے ایک با ت تو کھل کر سامنے آگئی ہے کہ جب سوشل میڈیا و میڈیا پہ بڑی کمپین نہ چلے تب تک حکومت و سول سوسائٹی کسی بھی واقعہ کو اہمیت ہی نہیں دیتی ،ہماری نیندیں بھی تب ہی اڑتی ہیں جب کوئی بڑی کمپین نہ چلے۔اس سے پہلے گیارہ بچیوں کی ہلاکت ہو چکی تقریباً ہر روز ہی ملک کے کسی نہ کسی حصے میں ریپ اور قتل کی واردات لاز می ہوتی ہے لیکن اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا کیونکہ وہ واقعات سوشل میڈیا میں جگہ نہیں بنا پاتے یا پھر ان کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل نہیں ہوتیں۔ایک اور بات ظاہر ہوتی ہے کہ قصور مسلم لیگ ن کا گڑھ ہے وہاں اتنے واقعات رونما ہوئے اور اگر کارروائی نہیں ہوئی تو اس میں ملوث ملزمان کا تعلق ضرور حکومتی پارٹی سے ہوسکتا ہے ورنہ ان کے خلاف تھوڑی بہت کارروائی ضرور ہوتی ۔گڈگورننس صرف سڑکیں، پل اور کنسٹرکشن تک محدود ہو کر رہ گئی ہے حکومت کے لیے ایسے واقعات ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔حکومت وقت نے ظلم کے خلاف احتجاج بھی گوارا نہیں کیا پولیس کے ہاتھوں دو احتجاج کرنے والے مروا اور تین ذخمی کروادئیے۔گویا موجودہ جمہوریت بی بی احتجاج بھی برداشت نہیں کرتی۔اب مقولین کے ورثاکے لیے تیس تیس لاکھ امداد کا اعلان کر کے تیر مار دیا گیا۔خادم اعلیٰ مقتولہ کے گھر گئے ہیں چیف جسٹس سپریم کورٹ و ہائی کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیے ہیں ۔تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے ملزمان کو سزا دینے کی اپیل کر کے اور وزراء نے ملزمان کو سزا دینے کے بیانات جاری کر کے اپنی اپنی ذمہ داریاں پوری کر دی ہیں۔ زینب کا ریپ اور قتل پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے بھی ہزاروں واقعات رونما ہوچکے ہیں۔شاہ زیب کا قتل بھی اسی ملک میں ہوا تھااس کا قاتل شاہ رخ جتوئی انہیں عدالتوں سے بری ہوا تھا اور رہائی پہ وکٹری کا نشان بناتے ہوئے اس نظام عدل کے منہ پی ظمانچہ مارا تھا،اسی نظام عدل نے اور بھی بے شمار ملزموں کو بے گناہ ثابت کیا ۔زینب کے قتل کے ردعمل میں دو بے گناہ شہری پولیس کے ہاتھوں قتل کروا دئیے گئے ہیں یا پھر ڈی پی او قصور کو معطل کر دیا گیا ہے اس کے بعد معمول کی کارروائی میں امداد کا اعلان باقی ہے وہ بھی ہوجائے گا اس کے ساتھ ہی حکومت کی ذمہ داری پوری ہوجائے گی انصاف کے تقاضے پورے ہوجائیں گے اوررہی بات ورثاء کی تو وہ انصاف کے لیے عدالتوں میں دھکے کھا کھا کر خود ہی خاموش ہوجائیں گے۔

تبصرے