Urdu News and Media Website

قرار داد پاکستان اور "متنازعہ ہیرو”

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔
ضیا شاہد
وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نورالحق قادری اور پنجاب کے وزیر اوقاف پیر سعید الحسن شاہ پتہ تو کریں کہ "دینی امور "میں وزیر اعظم عمران خان کا "مشیر” کون ہے؟؟؟ تین سال میں اسلامی اور آئینی امور سے متعلق کسی نہ کسی مسئلے سے "چھیڑ چھاڑ” کی” ہیٹ ٹرک” ہوگئی ہے….حکومت نے "ممنوعہ معاشی مشیر” اور "مکروہ گھریلو تشدد بل” سے "پسپائی” کے بعد اب "نئے جذبے” سے قرار داد پاکستان کو سر ظفراللہ کے "کھاتے” میں ڈال کر” متنازعہ ہیرو” کا نیا پنڈورا باکس کھول دیا ہے ….. علمائے کرام "نئی حرکت "پر اظہار تشویش جبکہ دانشور” من گھڑت کہانی”کو” ہدف تنقید” بنا رہے ہیں….

انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ پاکستان کے سربراہ اور لیگی رکن پنجاب اسمبلی مولانا محمد الیاس چنیوٹی نے اپنے شدید ردعمل میں کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے 4اگست 2021 کو اپنے فیس بک اور ٹویٹر کے آفیشل اکاؤنٹ، جس کا نام گورنمنٹ آف پاکستان ہے اور اس پر حکومت پاکستان کا مونوگرام بھی لگا ہوا ہے،پر 14 اگست کے حوالے سے ایک اشتہار دیا، جس میں مسٹر ظفر اللہ خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے قرارداد پاکستان کا بانی قرار دیا ہے…. اس بیان سے حکومت نے بانیان پاکستان کی تاریخ کو مسخ کیا ہے….. قرارداد لاہور کے لیے سو مفکرین نے اپنی تجاویز پیش کی تھیں….. قائداعظم نے ان کا نچوڑ نکالا اور چیف منسٹر بنگال میاں فضل الحق چیف نے یہ قرارداد پیش کی….اس قرارداد کے سرکردہ اراکین میں چوہدری خلیق الزمان ،نواب محمد اسماعیل خان ،نواب بہادر یار جنگ،اے کے فضل الحق، سردار عبدالرب نشتر، سر عبداللہ ہارون ،جسٹس فائز عیسی کے والد قاضی محمد عیسی اور خواجہ ناظم الدین شامل تھے….. اس کمیٹی کے سربراہ قائد اعظم محمد علی جناح تھے …….انہوں نے کہا کہ مسٹر ظفراللہ وہی شخص ہے جس نے قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازے کے موقع پر موجود ہونے کے باوجود بانی پاکستان کی نماز جنازہ نہ پڑھی …..جب ان سے سوال ہوا کہ بانی پاکستان کی نماز جنازہ کیوں نہیں پڑھی تو اس نے بڑی ڈھٹائی سےکہا کہ مجھے ایک اسلامی ملک کا کافر وزیر سمجھ لیں یا کافر ملک کا مسلمان وزیر…..

جناب چینوٹی کے بیان کو "مولانا کا خطبہ” نہ سمجھیں،قرار داد پاکستان کے حوالے سے تاریخ دانوں کا بھی یہی "نکتہ نظر” ہے……لاہور کے نیک نام اخبار نویس میم سین بٹ "قرار داد لاہور کس نے لکھی” کے عنوان سے” تحقیقی مضمون "میں بتاتے ہیں کہ سردار شوکت حیات نے اپنی کتاب "گم گشتہ قوم”میں لکھا: قرار داد لاہور دراصل ان کے والد سردار سکندر حیات نے لکھی تھی مگر منٹو پارک میں مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس سے چند روز قبل پولیس تصادم میں متعدد خاکساروں کی ہلاکت کے باعث لاہور کے حالات کشیدہ تھے،اس لیے سردار سکندر حیات کی جگہ مولوی فضل الحق نے قرار داد لاہور پیش کی….. عاشق حسین بٹالوی کی کتاب "ہماری قومی جدوجہد”کے مطابق قرار داد لاہور کا مسودہ نواب ممدوٹ کی کوٹھی پر لکھا گیا جس کی ترتیب و تدوین میں قائد اعظم ،سردار سکندر حیات،ملک برکت علی اورنواب اسماعیل خان نے حصہ لیا….سردار سکندر حیات نے خود بھی بطور وزیر اعلی پنجاب اسمبلی میں بتایا تھا کہ قرار داد انہوں نے ہی ڈرافٹ کی لیکن آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے اسے منظوری کے لیے پیش کرنے سے پہلے مسودے میں بہت زیادہ تبدیلیاں کر دی تھیں…. معروف دانشور مرزا سرفراز حسین کے بقول لفظ پاکستان کے خالق چودھری رحمت علی مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قرار داد لاہور پیش کرنے کی خواہش رکھتے تھے اور اسی مقصد کے لیے وہ مارچ 1939میں انگلستان سے واپس آئے تھے…. کتاب میں اکمل شہزاد گھمن نے اپنے مضمون میں یو پی کے تعلقہ دار نواب یامین خان کی ڈائری کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ صدر مسلم لیگ مسٹر جناح نے یکم مارچ 1939کو انہیں ڈاکٹر ضیاالدین ،بیرسٹر سید محمد حسین اور سر ظفر اللہ کے ساتھ کھانے پر بلایا….اس دوران بیرسٹر سید محمد حسین نے چودھری رحمت علی کی قیام پاکستان کی تجویز پیش کی تو سر ظفر اللہ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ناقابل عمل قرار دیا تاہم مسٹر جناح نے اس کو اپنانے کے حق میں بات کی…. سر ظفر اللہ نے وائسرائے ہند کو ارسال کردہ اپنی سکیم میں چودھری رحمت علی کے منصوبے کو مکمل طور پر رد کرتے ہوئے لکھا تھا کہ یہ ناقابل عمل ہے….اس سے سوائے پریشانی اور مصیبت کے کچھ نہیں نکلے گا…..

اسلام آباد میں مقیم اقبال کی دھرتی کے معتبر صحافی جناب امتیاز احمد وریاہ ایک ریسرچ پیپر کے حوالے سے لکھتے ہیں: گلی وکیلاں،محلہ چودھریاں ڈسکہ کلاں کے چودھری ظفراللہ ساہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے…..ان کے نام کیساتھ جڑے سر اور خان کے القابات انگریز کے عطا کردہ تھے……ظفراللہ خان آل انڈیا مسلم لیگ میں برطانوی اسٹیبلشمنٹ کےنمائندے تھے،وہ مسلم لیگ کے اجلاسوں کی انگریز کو مخبری کا فریضہ بھی انجام دیا کرتے تھے…….اس کی تفصیل رودادوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے…….وہ پاکستان کے پہلے وزیرخارجہ نہیں تھے،پہلے وزیرخارجہ خود وزیراعظم لیاقت علی خان تھے……تب وہ اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کےسربراہ تھے،وہاں سے واپسی پرانہوں نے وزیرخارجہ کا حلف اٹھایا تھا…..انہوں نے پہلے برطانیہ اور پھرامریکہ نواز خارجہ پالیسی وضع کرنے میں اہم کردار اداکیا تھا……اسلامی ممالک میں پاکستانی سفارت خانوں میں مذہب بیزار بابو بھرتی کرکے بھیجے جنہوں نے ملک کا تشخص اجاگر کرنے کے بجائے "ان کے عقیدے” کو متعارف کرانے پر توجہ مرکوز کی تھی اور بیشتر اسلامی ممالک ابتدا ہی سے پاکستان کے بارے میں تحفظات کا شکار ہو گئے اور ان کےبعد کے برسوں میں وطن عزیز کے ساتھ اچھے دوستانہ تعلقات استوار نہیں ہوئے…….
سرظفراللہ ہی نے بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے بیان کردہ آزادخارجہ پالیسی کے اصولوں کے برعکس وطن عزیز کوامریکہ کی جھولی میں ڈالا تھا،اس کے انعام میں انہیں عالمی عدالت انصاف کی "ججی” ملی تھی جبکہ1954ء میں برطانیہ نے ان کی عالمی عدالت انصاف میں بطور جج نامزدگی کی مخالفت کی تھی اور پھر امریکہ نے انہیں نامزد کیا اور جج بنوایا تھا….

وریاہ صاحب نے عالمی عدالت انصاف کا ذکر کیا تو وہاں کے ایک استقبالیے کا "دلچسپ مکالمہ” یاد آگیا….. قدرت اللہ شہاب اپنی شہرہ آفاق کتاب "شہاب نامہ” میں لکھتے ہیں:
ہالینڈ پہنچ کر محکمہ پروٹوکول کے ایک افسر نے مجھے برسبیل تذکرہ بتایا کہ اگر ہم سور کے گوشت(پورک،ہیم،بیکن)سے پرہیز کرتے ہیں تو بازار سے قیمہ نہ خریدیں کیونکہ بنے ہوئے قیمے میں اکثر ہر قسم کا ملا جلا گوشت شامل ہوتا ہے….اس انتباہ کے بعد ہم لوگ ہالینڈ کے استقبالیوں میں ایک من بھاتا کھاجا قیمے کی گولیاں–Meat Balls–کھانے سے اجتناب کرتے تھے…ایک روز قصر امن–Peace Palace–میں بین الاقوامی عدالت عالیہ کا سالانہ استقبالیہ تھا….چودھری ظفر اللہ خان بھی اس عدالت کے جج تھے…..ہم نے دیکھا کہ وہ قیمے کی گولیاں سرکے کی چٹنی میں ڈبو ڈبو کر مزے سے نوش فرما رہے ہیں….میں نے عفت سے کہا کہ آج تو چودھری صاحب ہمارے میزبان ہیں ،اس لیے قیمہ ٹھیک ہی منگوایا ہوگا…..وہ بولی ذرا ٹھہرو،پہلے پوچھ لینا چاہئیے….ہم دونوں چودھری صاحب کے پاس گئے …. عفت نے پوچھا:چودھری صاحب !یہ تو آپ کی ریسیپشن ہے….قیمہ تو ضرور آپ کی ہدایت کے مطابق منگوایا ہوگا….چودھری صاحب نے جواب دیا ریسیپشن کا محکمہ الگ ہے….قیمہ اچھا ہی لائے ہونگے…..لو یہ کباب چکھ کر دیکھو……عفت نے ہر قسم کے ملے جلے گوشت کا خدشہ بیان کیا تو چودھری صاحب بولے :بعض موقعوں پر بہت زیادہ کرید میں نہیں پڑنا چاہئیے….حضور کا بھی یہی فرمان ہے….دین کے معاملے میں عفت بے حد منہ پھٹ خاتون تھی…..اس نے نہایت تیکھے پن سے کہا:یہ فرمان آپ کے "حضور”کا ہے یا ہمارے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا؟؟؟

وطن عزیز کے "دوسرے وزیر خارجہ”کون تھے اور قرار داد کس نے لکھی،اس کو ایک طرف رکھتے ہوئے ارباب اقتدار سے سوال ہے کیا بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی نماز جنازہ سے "طنزیہ انکار” کرنے والا” قومی ہیرو "ہو سکتا ہے…؟؟؟ یہ کوئی عام بات نہیں بلکہ موصوف کا "ذومعنی جملہ” ایک پورا پس منظر رکھتا ہے…..وہی "مائنڈ سیٹ”،،،،،مفکر پاکستان علامہ اقبال نے، جس کی بہت پہلے نشاندہی کر دی تھی:

پنجاب کے ارباب نبوت کی شریعت

کہتی ہے کہ یہ مومن پارینہ ہے کافر

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے