Urdu News and Media Website

فیڈریشن آف رئیلٹر ایسوسی ایشن کا تعمیراتی مواد کی لاگت میں اضافے کے حوالے سے اظہار تحفظات

چیئرمین فیڈریشن آف رئیلٹر ایسوسی ایشن پاکستان اعجاز مسرت خان نے رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کے لیے آنے والے چیلنجز پر ایف اے ٹی ایف کی شرائط اور تعمیراتی مواد کی لاگت میں اضافے کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کر دیا ۔

انہوں نے اسلام آباد میں اے اے اے ایسوسی ایٹس ہیڈ آفس میں منعقدہ تیسری سالگرہ کی تقریب کے دوران اپنے خیالات کا اظہارکرتے ہو ئے صنعت کی ترقی کی کارکردگی اور تمام کھلاڑیوں کی شراکت کو ایک ٹائم لائن کے اندر پراجیکٹس مکمل کرکے سراہا جس سے سرمایہ کاروں کا صنعت پر اعتماد بڑھا ہے۔انہو ں نے کہا کہ وزیراعظم کے رئیل سٹیٹ انڈسٹری کیلئے رعایتی تعمیراتی پیکیج اور ایمنسٹی سکیم کے اعلان کے بعد اس شعبے میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے پچھلے ایک سال کے دوران تقریبا 200فیصد ترقی دیکھی گئی جو کہ صنعت کی ترقی کی نشاندہی کرتی ہے۔ انڈسٹری میں تیزی کے ساتھ بہت سے چیلنجز سامنے آئے ہیں ، حکومت نے ایف اے ٹی ایف کے معیار کو پورا کرنے کے لیے سخت پالیسیوں کے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
حال ہی میں انہوں نے یکطرفہ طور پر تمام ٹیکس ریٹرن داخل کرنے والے رئیل سٹیٹ ڈیلرز کو بطور نامزد غیر مالی کاروبار اور پیشوں (DNFBPs) کے طور پر رجسٹر کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے گاہکوں اور جائیداد کے لین دین کی مکمل تفصیلات کسٹمر کی مستعدی مکمل کرنے کے بعد فراہم کریں۔ تمام ٹیکس جمع کرانے والے رئیل اسٹیٹ ڈیلرز کو سات دنوں میں چار صفحات پر مشتمل سوالنامہ جمع کرانا ہوگابصو رت دیگر قانون کے مطابق کارروائی شروع کی جائے گی۔ دوسرا سب سے بڑا چیلنج جو صنعت کو درپیش ہے وہ تعمیراتی مواد کی زیادہ قیمت ہے چونکہ انڈسٹری کافی ترقی کر رہی ہے ، سٹیل کی سلاخوں کی مانگ مقامی پیداوار کی گنجائش سے تجاوز کر گئی ہے اور اس کے نتیجے میں اوپن مارکیٹ میں فی ٹن,000  161روپے کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اس صورتحال میںبلڈرز کے لیے تعمیر کی قیمت کو کنٹرول کرنا اور بجٹ کے اندر پروجیکٹ کی فراہمی مشکل ہے۔ عام آدمی کی قوت خرید پر بھی منفی اثر پڑھے گا ۔چیئرمین فیڈریشن آف ریئلٹر ایسوسی ایشن پاکستان اعجاز مسرت خان نے مطالبہ کرتے ہو ئے کہا کہ حکومت مداخلت کرے ۔انہو ں نے تجویز دیتے ہو ئے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کی ضروریات کو پورا کرنے کا ایک عملی طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ تمام بروکرز اور ڈیلروں کو زمین منتقل کرنے والی ایجنسیوں جیسے سی ڈی اے ، ایل ڈی اے ، کے ڈی اے ، ڈی ایچ اے وغیرہ کے ساتھ رجسٹر کیا جائے اور ایک بینک اکاؤنٹ ہو جس سے ایک ہی وقت میں فائلرز کی تعداد اور ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوگا۔ اس سے پیشہ ور ایجنسیوں کو تمام ٹرانزیکشنز کی رپورٹنگ میں مدد ملے گی اور بہترین بروکرز 20 لاکھ روپے سے زیادہ کیش ٹرانزیکشن کی رپورٹ دے سکتے ہیں۔
اس موقع پر ایم ڈی اے اے اے ایسوسی ایٹس شہزاد علی کیانی نے کہا کہ حکومتی پالیسیاں ڈیلروں اور رئیل سٹیٹ پروفیشنلز کو اس طرح کے جامع کسٹمر کیلئے محتاج بنانے پر مجبور کرتی ہیں اور ساتھ ہی یہ وعدہ کرتی ہیں کہ 30جون تک سرمایہ کاری اور آمدنی کے ذرائع نہیں پوچھے جائیں گے نہ صرف متضاد بلکہ تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی بھی کریں گے۔چیئرمین اے اے اے ایسوسی ایٹس شیخ فواد بشیر نے کہا کہ ہم حکومت کی تعریف کرتے ہیں کہ رئیل اسٹیٹ انڈسٹری کی ترقی کے لیے ایک برابر کھیل کا میدان بنایا گیا ہے اور انڈسٹری کے لیے سازگار پالیسیاں بنانے اور نافذ کرنے کے لیے ہمیشہ حکومت کے شانہ بشانہ کھڑ ے ہیں ۔ ہم صنعت پر حکومتی سکیموں کے حقیقی اثرات دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ ہم ان چیلنجوں پر قابو پانے میں خوشگوار حل تلاش کریں جو صنعت کے لیے فائدہ مند ہوں اور ساتھ ہی ایف اے ٹی ایف کے معیار پر پورا اترنے میں حکومت کی مدد کریں۔تقریب میں یاسین منہاس ،دانیال خان ، ڈاکٹر رضوان ، ملک حبیب ، نجیب گل ، علی تاب ودیگر نے بھی شرکت کی ۔
تبصرے