Urdu News and Media Website

فیصل مسجد میں بچوں کا داخلہ ممنوع

تحریر:محمدعاصم حفیظ

asim hafeez
بڑے شوق سے فیصل مسجد اسلام آباد پہنچے۔ بچوں کو پاکستان کی سب سے پرشکوہ خوبصورت اور بڑی مسجد میں نماز کی ادائیگی کا ذوق وشوق تھا ۔ مسجد کے ہال میں داخلے کے دروازے پر لگے بورڈ کو دیکھ کر دل ہی ڈوب گیا ۔ ” چھوٹے بچوں کا داخلہ ممنوع ہے” ۔

 

جی ہاں ارض پاک کی سب سے بڑی مسجد میں ۔ آپ ذرا تصور کریں کہ آپ مسجد میں نماز ادائیگی کے لیے پہنچیں ۔ بچوں کا داخلہ ممنوع ہو تو کیا ہو سکتا ہے ۔ کیا چھوٹے بچوں کو باہر بٹھا کر نماز پڑھنے جائیں گے ۔ ظاہر یہ ممکن نہیں وہاں بچوں کی حفاظت کا کوئی انتظام نہیں ۔ دو آپشنز ہیں یا تو نماز ادائیگی کا ارادہ ترک کر دیں اور سیر و تفریح کرکے واپس کسی اور مسجد کو ڈھونڈیں یا پھر وہاں تک ٹاک بناتے ۔ سیر گاہ میں تفریح مناتے سیاحوں کے بیچ میں باہر کہیں برآمدے میں نماز پڑھیں ۔

آپ کو اندر ہال کی باجماعت نماز کی آواز نہیں آئے گی ۔ یعنی نماز اپنی ہی پڑھیں ۔ جی ہاں آپ پاکستان کی سب سے بڑی مسجد میں باجماعت نماز کی ادائیگی سے محروم رہیں گے ۔

فیصل مسجد سعودی شاہی خاندان کا پاکستانی بھائیوں کے لیے تحفہ ہے ۔ اس شہر کی پہچان بھی ۔ انہوں نے نماز ادائیگی کے لئے بنا کر دی ۔ ہم اسے زیادہ تر سیرگاہ اور شوٹنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں ۔ حتی کہ گانوں اور رقص تک کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر موجود ہیں ۔

فیصل مسجد کی پارکنگ اور جوتوں کی حفاظت کے نام پر سالانہ کروڑوں روپے اکھٹے ہوتے ہوں گے ۔فوڈ و گفٹ سٹالز ۔ اس کے ہالز اور دیگر چیزوں کا کرایہ الگ سے ۔ لیکن انتہائی افسوسناک یہ بھی کہ اس عظیم مسجد کی حفاظت کے لیے ۔ خوبصورتی کے لیے کچھ بھی خرچ نہیں ہوتا ۔ حتی کہ بنی ہوئی چیزوں کی حفاظت اور انہیں فعال رکھنا ۔

 

سعودیوں نے مسجد کے ہال اور بیرونی صحن میں فوارے لگا کر دئیے ہیں ۔ کروڑوں کے ٹھیکے والی مسجد کے فوارے خشک پڑے ہیں ۔ کوئی انتظامیہ کو بتائے کہ فوارے خوبصورتی کے ساتھ ساتھ گرمی کی شدت کو بھی کم کرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ ہم ان کا پانی تک مہیا نہیں کر سکتے کیا ؟؟ ۔

 

وضو کی جگہیں شائد کبھی صاف ہی نہیں کی گئیں ۔ کئی نل خراب اور پانی ٹپک رہا تھا ۔ واش رومز بہت سے بند ۔ وہاں عملے کی موٹر سائیکلیں کھڑی ہیں ۔ اور شرمناک یہ بھی کہ بجلی جانے کی صورت میں واش رومز میں روشنی کا انتظام تک نہیں ہے یعنی متبادل بجلی کے لیے یوپی ایس وغیرہ ۔۔

شہر اقتدار کے حاکموں اور مسجد کی انتظامیہ والو اگر سنبھال نہیں سکتے تو انہی کو واپس کر دو جنہوں نے بنائی ہے ۔ کم سے کم اسے چلا تو لیں گے ۔ نماز کی ادائیگی بہتر ہو سکے گی۔

 

اگر کروڑوں کے ٹھیکوں کی کمائی سے پیٹ نہیں بھرتا تو جگہ جگہ ” چندہ برائے مسجد” کے بورڈ ہی لگا دو ۔ مسجد کے ہال میں بچوں کا داخلہ ممنوع قرار دے کر کتنے خاندانوں کو باجماعت نماز یا پھر نماز سے ہی محروم کر دیتے ہو ۔

 

صحن میں سب کو تفریح کی اجازت ہے مسجد کے ہال میں بچوں کے ساتھ داخلہ ممنوع ۔ نماز کے اوقات میں کم سے کم وہاں موجود لوگوں کو ہی نماز کی ادائیگی کا کہہ دیا جائے ۔ کتنا عجیب لگتا ہے کہ نماز کی ادائیگی کے دوران بھی مسجد کے صحن میں سینکڑوں لوگ سیر و تفریح کر رہے ہوتے ہیں ۔ اگر انہوں نے نماز ادا نہیں کرنی تو کم سے کم مسجد سے باہر جانے کا ہی کہہ دیا جائے ۔۔

فیصل مسجد توجہ چاہتی ہے ۔ کاش کوئی اس کی انتظامیہ کو خواب غفلت سے جگائے ۔ اسے کمائی اور سیرگاہ کی بجائے جس مقصد کے لیے بنائی گئی اس پر بھی توجہ دی جائے ۔ مسجد کی صفائی ۔ وضو کے انتظام ۔ فواروں کے چلنے اور واش رومز میں روشنی کا انتظام کیا جائے ۔ بچوں کو نماز سے دور نہ رکھیں انہیں اور ان کے ساتھ والدین کو اجازت ہونی چاہیے
کاش کوئی ارباب اختیار تک یہ استدعا پہنچا دے ۔

 

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے