Urdu News and Media Website

غزل

ایک صدا سی کانوں میں گونجتی رہتی ہے
جیسے ہر کسی سے پتہ میرا پوچھتی رہتی ہے

آنکھوں میں اسکی کوئی منظرجم گیا ہو جیسے
میرے ساتھ ہوکر بھی مجھے ڈھونڈتی رہتی ہے

وہ جیسے مجھے پہچانتی ہے مجھ سے زیادہ
کہتی توکچھ بھی نہیں بس گھورتی رہتی ہے

میں اس پر مسلط کیا گیا ہوں جیسے
کسی زحمت کیطرح مجھے جھیلتی رہتی ہے

ایک خود ساختہ خدا سا دکھتا ہوں اسکو
میرے سامنے بیٹھ کر پوجتی رہتی ہے

میری جستجو میری تگودو نامعلوم ہے خالد
سمندر میںجیسے نائوکوئی ڈولتی رہتی ہے

خالد راہی

تبصرے