Urdu News and Media Website

عمر بھی پیارے ہیں،حسین بھی پیارے ہیں

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔
ضیا شاہد
اصحاب رسول چمکتے ستارے ،آل رسول مہکتے پھول…مراد پیمبر بھی بزرگ و برتر، اولاد پیمبر بھی بزرگ و برتر……..رضی اللہ عنہم…..رضی اللہ عنہم…!!

رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور کہا اے اللہ عمر عطا کر دے……پھر ابن خطاب گردن جھکائے دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں پیش ہوگئے……سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ مشرف بہ اسلام ہوئے تو مکہ کے در و دیوار اللہ اکبر کی صدائوں سے گونج اٹھے…فرشتوں کے سردار حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بھی حاضر خدمت ہو کر اطلاع دی:اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !آج اہل آسمان عمر رضی اللہ عنہ کے اسلام کی بشارت دیتے ہیں…..اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم یہ بھی واضح فرما گئے:میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتے….

پاکستان کے مدبر مدیر جناب مجیب الرحمان شامی نے "زیارت کے عنوان”سے شان عمر رضی اللہ عنہ میں لکھی منقبت کو مذکورہ حدیث سے کیا ہی خوب صورت انداز میں مزین کیا ہے:

کافی ہے اُس کے لیے، یہ قول آنجناب
میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو ہوتے عمر بن خطاب

نواسہ رسول کی عظمتوں پر فلک بھی ناز کرے….. آقا کریم صلی اللہ علیہ کا فرمان عالی شان کہ حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں،امام عالی مقام سے مقام محبت کا تعین ہے…..روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھٹنوں پر جھکے ہوئے چل رہے ہیں..حضرت حسین رضی اللہ عنہ ان کی پشت مبارک پر سوار ہیں…..فرمایا کیا عمدہ سواری ہے….حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا:یہ سوار بھی تو کتنا اچھا ہے…….؟؟؟ ایک اور روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کی مجلس سے اس حال میں گذرے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں شہزادوں کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے، لوگوں نے عرض کی کہ کتنی اچھی سواری ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دونوں سوار بھی تو کتنے اچھے ہیں……!!!!

جناب انور مسعود سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو یوں سلام پیش کرتے ہیں:

حسین سا کوئی روشن ضمیر ناممکن

جہان عشق میں اس کی نظیر ناممکن

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ کی یہ دلکش ادائیں ہیں کہ کسی کے لیے دست مبارک اٹھے تو کسی کو شانوں پر اٹھایا…..!!

اسلامی سال کے پہلے مہینے کا پہلا عشرہ سوگوار کر جاتا ہے…..یکم محرم کو شہادت عمر رضی اللہ عنہ اور دس محرم کو شہادت حسین رضی اللہ عنہ رلا دیتی ہے……ہمارے تو بچے بھی ان عالی قدر شہیدوں کا غم محسوس کرتے ہیں……چند روز پہلے یوم آزادی کی تیاریوں میں مگن ہماری ننھی منی بیٹی ہادیہ کہنے لگی پاپا اس دفعہ باجا نہیں خریدوں گی کیونکہ محرم ہے نا اور محرم میں باجے نہیں بجاتے…..میری آنکھیں چھلک پڑیں…….!!!

سید علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ کی کتاب ” کشف المحجوب” میں ایک ایمان افروز قصیدے کا تذکرہ ملتا ہے….پیر کامل لکھتے ہیں:ہشام بن عبدالملک ایک سال حج کو آیا…..خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا ……حجر اسود کو بوسہ دینے لگا تو ہجوم کی وجہ سے راستہ نہ ملا…..اسی وقت حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ تشریف لائے…….چہرہ ماہ کامل کی طرح روشن….رخسار دمکتے ہوئے اور لباس خوشبو سےمعطر…….جب حجر اسود کے پاس آئے تو لوگ تعظیم میں ایک طرف ہٹ گئے اور آپ نے آگے بڑھ کر بوسہ دیا……ہشام سے کسی نے کہا کہ آپ حکمران ہیں…آپ کو حجر اسود تک بازیابی نہ ہوئی ،وہ جوان رعنا آیا تو لوگوں نے سنگ اسود ان کے لیے خالی کر دیا….ہشام نے جانتے بوجھتے کہا کہ میں ان کو نہیں جانتا…..فرزدق شاعر بھی وہیں تھا…. کہا میں جانتا ہوں…..لوگوں نے کہا بتائیں وہ کون ہیں؟ ان کے چہرے سے کیا ہیبت ٹپک رہی ہے…..فرزدق نے کہا میں ان کا نسب اور صفات بیان کرتا ہوں…..پھر فرزدق نے یوں اشعار پڑھے کہ یہ وہ شخص ہیں جن کے نقش قدم اہل مکہ پہچانتے ہیں، جن کو خانہ کعبہ اور حرم جانتے ہیں….

یہ خلق خدا میں سب سے اچھے آدمی کا بیٹا ہے….یہ مشہور متقی و پرہیز گار ہے……

یہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کا لال ہے… تو جہالت کے باعث ان کو نہیں جانتا….ان کے نانا صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوئی……

اسی طرح اس نے اور اشعار کہے اور اہل بیت عظام رضی اللہ عنہم کی تعریف کی…ہشام بر انگیختہ ہو گیا…فرزدق کو مکہ اور مدینہ کے درمیان عسقلان کے مقام پر قید کر دیا…حضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ کو خبر ہوئی تو فرزدق کو بارہ ہزار درہم بھجوائے….فرزدق نے رقم واپس کرتے ہوئے کہا اے فرزند پیغمبر!تمام عمر مال و زر کے لیے بادشاہوں کے قصیدے لکھے….یہ اشعار اہل بیت کی تعریف میں ازراہ کفارہ کہے ہیں….جب یہ پیغام امام زین العابدین کو ملا تو انہوں نے پھر رقم واپس بھجوادی اور کہا:اے فرزدق اگر تمہیں واقعی ہمارے ساتھ ارادت ہے تو یہ خیال نہ کرو جو دے چکے اسے واپس لے لیں…..ہم اس کی ملکیت سے دستبردار ہو چکے ہیں…..

مجھے بھی کہنے دیجیے کہ ہمارے عمر بھی پیارے ہیں……ہمارے حسین بھی پیارے ہیں……قیامت تک زمانوں کے خوش بخت لوگ ان نفوس قدسیہ کے یوں ہی قصیدے لکھتے رہیں گے….!!!

رضی اللہ عنہم…..رضی اللہ عنہم

تبصرے