Urdu News and Media Website

عاصمہ جہانگیر۔

تحریر: صابر مغل۔۔
پاکستان میں انسانی حقوق کی علمبردار ،اپنے مئوقف پر ڈٹ جانے والی نڈر ،بے باک خاتون معروف قانون دان اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی پہلی خاتون صدر عاصمہ جہانگیر ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے برین ہیمرج کا شکار ہو گئیںانہیں بے ہوشی کی حالت میں فیروز پور روڈ کے ایک نجی ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ بے ہوشی کی حالت میں جانبر نہ ہو سکیں،اس کی موت کی خبر ملک بھرمیں جنگل کی آگ کی طرح پاکستان کیا دنیا بھر میں پھیل گئی ان کے انتقال کا سنتے ہی چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ یاور علی ،جسٹس عظمت سعید ،جسٹس آصف سعید کھوسہ،جسٹس عابد عزیز،جسٹس عمر عطا بندیال، چیر مین پی سی بی نجم سیٹھی ،چوہدری اعتزاز احسن،ملک ریاض احمد اور دیگر سیاسی ،سماجی شخصیات اور وکلاء کی کثیر تعداد ان کی رہائش گاہ پہنچ گئی ،ان کی نماز جنازہ لندن میں مقیم ان کی بیٹی کی آمد کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی جس وجہ سے ان کا جسد خاکی نجی ہسپتال کے سرد خانہ میں رکھا گیا اور آج دوپہر دو بجے قذافی سٹیڈیم سے ملحقہ گرائونڈ میں ان کی نماز جنازہ ادا کی جائے گی، ہسپتال ذرائع کے مطابق عاصمہ جہانگیر ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی خالق حقیقی سے مل چکی تھیں،آخری بار 9فروری کو آئین کے آرٹیکل 62ون ایف کی تشریع کے مقدمہ میں عدالت اعظمیٰ میں پیش ہو کر دلائل دینے والی عاصمہ جہانگیر 2جنوری1952کو لاہور میں ہی میں پیدا ہوئیں،کانوننٹ آج جیزسن اینڈ میری سکول میں ابتدائی تعلیم کے بعد کنیئرڈ کالج سے گریجویشن اور پھر پنجا ب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی،پنجاب یونیورسٹی سے فراغت کے بعد کاروباری شخصیت طاہرجہانگیر سے ان کی شادی ہو گئی ،ان کا ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں جن میں سے منیزے جہانگیر ٹی وی کی معروف اینکر جبکہ دوسری بیٹی سلیمہ جہانگیر شعبہ وکالت سے وابستہ ہیں ،عاصمہ جہانگیر کے والد ملک غلام جیلانی جو ایک سول سرونٹ تھے ریٹائر منٹ کے بعد سیاست میں حصہ لیا اور کئی بار جیل کاٹی اور نظر بند رہے ،ان کی والدہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون تھیں یہی وجہ تھی کہ ان کا خاندان شروع سے ہی سیاسی اور انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی پہچان رکھتا تھا،عاصمہ جہانگیر نے1980میں لاہور ہائیکورٹ اور دوسال بعد سپریم کورٹ میںوکالت اختیار کر لی اسی سال انہوں نے اپنی بہن حنا جیلانی کے ساتھ مل کرخواتین کی پہلی لاء فرم قائم کی اس فرم میں مستحقین با الخصوص عورتوں اور چائلڈ لیبر کے لئے فری لیگل امدادی سنٹر زقائم کئے جس کانام دستک رکھا کیا جسے جنرل سیکرٹرین منیب چلاتا تھا، ،عاصمہ کو کم عمری میں ہی اس وقت شہرت حاصل ہوئی جب انہوں نے ڈکٹیٹر جنرل یحیٰ خان کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپنے والد کی گرفتاری کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کر دی اس پٹیشن کا فیصلہ ایک سال بعد آیا جب جنرل یحیٰ کی حکومت نہ رہی مگر لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلہ میں فوجی حکومت کو غیر قانونی اور جنرل یحیٰ خان کو غاضب قرار دیا،عاصمہ جہانگیر نے جنرل ضیاء الحق کے دور میں بھی جمہوریت کے لئے ان گنت مظاہروں میں حصہ لیا1983وومن ایکشن فورم کے ساتھ لاہور کے مال روڈ پر حدودقوانین کے خلاف ایک بہت بڑے مظاہرے میں بھر پورحصہ لیااس مظاہرے کو تاریٰخی مظاہروں میں سمجھا جاتا ہے،انہوں نے 1983میں اپنی سیاسی و جمہوری سرگرمیوں کا آغاز کیا،ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل آرگنائزیشن کی چیر پرسن رہنے کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن پاکستان کی بنیاد رکھی اس کی سیکرٹری جنرل اور چیر پرسن رہیں،ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ خواتین اور بچوں کے حقوق اور حصول کے لئے صرف کر دی، بعد میں عاصمہ جہانگیر نے لاء میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری یونیورسٹی آف STگبلن سوئٹرزلینڈ سے حاصل کی اس کے علاوہ کونیین یونیورسٹی اور سائمن فریسرزکینیڈا اور کارنل یونیورسٹی آف امریکہ سے بھی تعلیم یافتہ تھیں،عاصمہ جہانگیر کو اپنی زندگی میں کئی مرتبہ غداری اور توہین عدالت جیسے اکلزامات کا سامنا کرنا پڑا،ان کے گھر پر کئی حملے ہوئے فوج پر کڑی تنقید عاصمہ کی شخصیت کا خاصہ تھی وہ بھی اپنے باپ کی طرح کئی بار جیل گئیں اور نظر بند ہوئیںقیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں،عدلیہ بحالی تحریک میں ان کا کردار انتہائی جاندارتھا،کو چیر پرسن سائوتھ ایشیاء فار ہومین رائٹس ،وائس صدر انٹرنیشنل فیڈریشن فار ہیومن رائتس ،اقوام متحدہ کی سپیشل مندوب برائے انسانی حقوق و مذہبی آزدی ایران اورانہیں سری لنکا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی حقیقت جاننے کے لئے نامزد کیا گیا، جولائی2012 میں عاصمہ جہانگیر نے اپنے قتل کی سازش پر کھل کر بات کر کے ملک میں پہلے سے موجود خوف کی فضا میں مزید اضافہ کر دیا،انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ یہ منصوبہ کسی انفرادی دماغ کی اختراع نہیں بلکہ ایک ایسی سازش ہے جس کے تانے بانے ریاست کے سیکیورٹی آپریٹرز تک جاتے ہیں،عاصمہ جہانگیر کو دنیا بھر میں مشکل ترین حالات میں اپنے دوٹوک مئوقف اور کھل کر اپنے خیالات کے اظہار پر احترام کی نظر سی دیکھا جاتا تھا،بطور وکیل وہ ہمیشہ اس مسلمہ اصول پر قائم رہیں کہ ملزم کو عدالت میں اپنے دفاع کا مکمل حق ہے،سالوں پر محیط اس سفر کے دوران عاصمہ نے کبھی بھی اپنی حفاظت کے معاملے پر خطرے کی گھنٹیاں نہیں بجائیں مگر ایسے خدشات سے ضرور آگاہ کیا وہ ہمیشہ ملک میں موجودترقی پسند جدوجہد رکھنے کے لئے پر عزم رہیں،ان کی زندگی مجموعی طور پر متنازعہ رہی اسی وجہ سے آج بھی سوشل میڈیا پر ان کی وفات پر نئی بحث چھڑی ہو ئی ہے،بہرحال کسی کو ان سے جتنا بھی اختلاف ہو مگر کسی ڈکٹیٹر کے خلاف کھڑے ہونا ،ہیومن رائٹس کے لئے زندگی وقف کرنااور50فیصد مقدمات بغیر فیس کے لڑنا کسی طور کم نہیں،وہ آمریت کے خلاف جمہوریت کی علامت تھیں،عاصمہ جہانگیر کو ان کی خدمات کے پیش نظر حکومت نے انہیں ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز سے نوازا،سویڈن میں انہیں انسانی حقوق کا ایوارڈ رامون میک دیا گیا جسے نوبل انعام کا متبادل قرار دیا جاتا ہے،عاصمہ جہانگیر کے علاوہ یہ ایوارڈ صرف ایڈوڈننوڈن اور ہارسل فرنینڈو نے حاصل کیا،شہریوں کی سرکاری خفیہ نگرانی سے متعلق انتہائی اہم دستاویزات عام کرنے والی نیشنل سیکیورٹی ایجنسی کے سابق کانٹریکٹر سنوڈن نے انہیں رائٹ لائیولی ایوارڈ دیا ،عاصمہ جہانگیر نے سویڈش ایوراڈ کا دو لاکھ دس ہزار ڈالر کا انعام ایشین ہیومن رائٹس کے ہارسل فرنینڈو اور ماحولیات کے امریکی ماہر ہل بک کیبن کے ساتھ شیئر کرنا تھا فائونڈیشن کے ڈائریکٹر اولے ولسن ایکل کے مطابق یہ اعزاز جیتنے والوں کو یکم دسمبر کو کونٹار ہوم میں منعقد ہونے والی تقریب میں دیا جانا تھا، اس کے علاوہ پاکستان سمیت دنیا بھر سے انہیں درجنوں ایوراڈز سے نوازا گیا،وکلاء برادری نے عاصمہ جہانگیر کے انتقال پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے ،ان کے انتقال پر وکلاء عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے،

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے