Urdu News and Media Website

شوہر کے مظالم سے تنگ مظفر گڑھ کی انعم شہزادی کی نیو ہوپ ویلفیئر آرگنائزیشن سے مدد کی اپیل

مظفر گڑھ (نیوزنامہ)مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی کے رہائشی اشفاق خان کی پہلی  بیوی  انعم شہزادی نے نیو ہوپ  ویلفئیرآرگنائزیشن کی چیف کوارڈینیٹر نبیلہ بٹ سے  ملاقات کی اور مدد کی اپیل کی۔پاکستان میں 2015 میں بننے والے فیملی لا ء کے تحت کسی شخص کو پہلی بیوی سے رضامندی لیے بغیر دوسری شادی کرنا ایک قابل تعزیر جرم ہے۔ اس مجرم کی اہلیہ عائشہ بی بی نے عدالت میں درخواست جمع کرائی تھی کہ اس کے شوہر شہزاد ثاقب نے اس سے اجازت لیے بغیر دوسری شادی کی۔اپنی درخواست میں عائشہ بی بی نے موقف اختیار کیا تھا کہ دوسری شادی کے لیے اس کے شوہر کو ان سے اجازت لینا چاہیے تھی، مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ عدالت نے عائشہ بی بی کے شوہر کی جانب سے ان دلائل کو رد کر دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے اور دوسری یا دیگر شادیوں کے لیے پہلی بیوی سے اجازت کی ہدایات نہیں دیتا۔ خواتین کے حقوق کی تنظمیوں اور کارکنوں نے اس عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ ایک سے زائد شادیوں کا رواج پاکستان میں عام نہیں تھا ۔اس حوالے سے اعداد و شمار تو موجود نہیں، مگر ایک تحقیقی تنظیم کے مطابق ایک سے زائد شادیوں کے زیادہ تر واقعات دیہی علاقوں میں پیش آتے تھے۔ مگر گذشتہ کچھ عرصے سے نکاح کی آڑ میں خواتین کے استحصال کے واقعات روز بروز خوفناک حد تک بڑھتے جارہے ہیں۔قانون اور سزائیں موجود ہونے کے باوجود اشرافیہ، سیاستدان، وڈیرے اور امیر زادے اپنی عیاشی کے لئے مذہب اور قانون کا کھلم کھلا تمسخر اڑا رہے ہیں۔اسی نوعیت کا افسوس ناک واقع مظفر گڑھ کی تحصیل جتوئی کے رہائشی اشفاق خان اور انعم شہزادی کے درمیان دیکھنے میں آیا۔ اشفاق خان کی انعم شہزادی سے اڑھائی سال قبل شادی ہوئی ۔ پانچ ماہ قبل اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک ننھی سی پری کی نعمت سے نوازا جس کا نام نور فاطمہ رکھا گیا۔ انعم شہزادی کے مبلغ 50,00000/- پچاس لاکھ روپے ہڑپ کرنے کے بعدان کے شوہر کا رویہ آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہوا اور بات یہاں تک پہنچ گئی کہ اشفاق خان روز ان کے ساتھ مار پیٹ کرنے لگے ۔ کی۔ اس کے بعد انعم شہزادی کو معلومات حاصل ہوئیں کہ ان کے شوہر نے دو ماہ قبل کنول نامی خاتون سے دوسری شادی کر لی ہے۔انعم شہزادی اپنی ننھی نور فاطمہ کے ساتھ شوہر کا انتظار کرتی رہی مگر اسکو ہر گز یہ علم نہ تھا کہ اشفاق خان ان کو چھوڑ کر کسی اور کے ہو چکے ہیں۔پاکستان کے عائلی قوانین کے مطابق مسلم فیملی آرڈیننس 1961 کے سیکشن 6 کے تحت انعم اپنے شوہر اشفاق خان کے خلاف کیس درج کروا  چکی ہیں۔ انعم شہزادی نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے شوہر نے ان کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی ہے لہٰذا اس شادی کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔ تمام ثبوت اور گواہان کے بیانات کے بعد عدالت اشفاق خان کو سزا بھی سنا دے گی مگرقانون میں شادی منسوخ کرنے کی تشریح موجود نہیں لہٰذادوسری شادی کو باقی رکھا جائے گا۔    اشفاق خان کی متاثرہ انعم شہزادی نے شوہرکی بے وفائی اور ظلم سے تنگ آ کر نیو ہوپ  ویلفئیرآرگنائزیشن کی چیف کوارڈینیٹر نبیلہ بٹ سے ملاقات کی اور مدد کی اپیل کی۔ اس موقع پر نبیلہ بٹ نے نیو ہوپ ویلفئیر آرگنایزیشن کی جانب سے انعم شہزادی کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اشرافیہ اسلام کا مطلب محض چار شادیوں کی اجازت سمجھتے ہیں مگر اسلامی تعلیمات کے مطابق بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کا ہونا لازم ہے مگر عیاشی کی غرض سے ہونے والی شادیوں سے عدل و انصاف کی توقع کرنا بیکار ہے۔ ان نام نہاد شرفاء کے لئے نبی ؐ کی سنت محض سیاشی کا زریعہ بن چکی ہے۔ 

تبصرے