Urdu News and Media Website

سید علی گیلانی ساری زندگی کشمیر کی آزادی کیلئے جدوجہد کرتے رہے، مقررین

لاہور(نیوزنامہ) سید علی گیلانی ساری زندگی کشمیر کی آزادی اور الحاق پاکستان کی جدوجہد میں مصروف رہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر اورعالم اسلام میں پاکستان کی سب سے توانا آواز تھے۔ پیرانہ سالی اور بیماری کے باوجود وہ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرکے کشمیریوں کے لہو کو گرماتے رہے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم آزاد کشمیر سردارعبدالقیوم نیازی کی خصوصی ہدایت پرکشمیرسنٹرلاہور کے زیراہتمام ممتاز حریت رہنما، چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس سید علی گیلانی مرحوم کی شاندار خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کیا۔ تعزیتی ریفرنس سے نمائندہ کل جماعتی حریت کانفرنس انجینئرمشتاق محمود، ڈائریکٹرکشمیرسنٹرلاہور سردارساجدمحمود، مسلم لیگ ن آزادکشمیر کے جوائنٹ سیکرٹری راجہ شیرزمان خان ایڈووکیٹ، سماجی ومذہبی رہنما قاری محمدمشتاق، صدر جمعیت اتحادالعلماء اے جے کے لاہور احسان اللہ تبسم، طارق محمود،انعام الحسن اور قاری عبدالحمید نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انجینئرمشتاق محمود نے کہا کہ سیدعلی گیلانی ہمیشہ یہی کہاکرتے تھے کہ میں پاکستانی ہوں، پاکستان ہمارا ہے۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں الحاق پاکستان کے سب سے بڑے علم بردار تھے۔ انھوں نے بھارتی ظلم کے باوجود پاکستان کے حق میں اپنی آواز کو خاموش نہیں ہونے دیا۔ زندگی کے آخری ایام میں بھی انھوں نے پاکستان کو فراموش نہیں کیا بلکہ ہمہ وقت پاکستان ہی کی بات کرتے رہے۔ سردارساجد محمود نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی ممتاز حریت رہنما تھے جنھو ں نے اپنی زندگی جدوجہد آزادی کے لیے وقف کیے رکھی تھی اور جہدمسلسل کی پاداش میں متعدد بار جیلوں میں جانا پڑا۔ انھیں متعدد بار نظر بند بھی کیاگیا۔ بھارت کی طرف سے ان کی تدفین میں عوام کی شرکت پر پابندی اور کرفیو کی بھرپورمذمت کرتے ہیں۔قائدحریت شدت سے متمنی تھے کہ آزادی کا سورج طلوع ہوتا دیکھ سکیں۔ ان کا خلا اب شاید ہی پورا ہوسکے۔ قاری محمد مشتاق نے کہا کہ سید علی گیلانی ایک بطل حریت تھے جو ہمہ وقت آزادی کے حصول کی جدوجہد میں مصروف عمل رہے۔ ہمیں ان کی زندگی سے سیکھنے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے ضرورت ہے۔ راجہ شیرزمان خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ بھارت نے بے حد کوشش کی کہ سید علی شاہ گیلانی کو خاموش کروایاجائے لیکن کوئی ظلم کوئی جبرعلی گیلانی پرکارگرثابت نہ ہوسکا اور وہ قید وبند اورنظربند ہونے کے باوجود اپنی آواز بلند کرتے رہے۔ طارق محمود نے کہا کہ مجھے یقین نہیں آرہا کہ علی گیلانی ہم سے جدا ہوگئے۔ ان کی وفات کا سن کر میرے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ وہ بڑے مخلص حریت رہنما تھے جو ساری زندگی اپنی قوم اور اپنے وطن کی آزادی کے مشن پر کاربند رہے۔ احسان اللہ تبسم نے کہا کہ علی گیلانی ہم سے جدا ہوگئے لیکن ان کے بوئے ہوئے بیج تناور درخت بن چکے ہیں۔ ان کی آواز اب بھی کشمیر کے پہاڑوں میں گونج رہی ہے۔ اس آواز کوکوئی نہیں دباسکتا۔ تقریب کے اختتام پر سید علی گیلانی کی روح کے ایصال ثواب، شہدائے کشمیر کی بلندیئ درجات اور کشمیر کی آزادی کیلئے قاری محمدمشتاق نے خصوصی دعا کروائی۔ اس موقع پر ننھے بچے سعد مشتاق نے بھی کشمیری مجاہد کی خوبصورت نظم پیش کی۔

تبصرے