Urdu News and Media Website

سیاستدانوں کو اسمبلیوں ،تحریکوں،شادیوں اور طلاقوں سے فرصت ملے تو وہ ملکی حالات پر توجہ دیں:سیمل راجہ

گذشتہ ۱ سال میںزینب جیسی دس حوا کی بیٹیاں صرف ضلع قصور میں درندگی کا نشانہ بنیں: عاصمہ بٹ،شبنم اسلم،نبیلہ بٹ،سونیا نعمان ودیگر

لاہور(نیوز نامہ) اقتدار کی بندر بانٹ، تحریکوں، شادیوں اور طلاقوں میںمصروف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سیاستدان خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ظلم و بربریت کے واقعات کے زمہ دار ہیں۔ حوا کی بیٹیوں کوکھلونا سمجھ کر ان کی جانوں اور عزتوں سے کھیلا جا ہاہے ۔ کہیںخادم اعلی ایک وزیربچانے اور وزیر موصوف ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر صفائیاں دے کر کرسی بچانے میں مصروف نظر آتے ہیں توکہیں سہرا باندھنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اورساتھ ہی دولہے کے اتحادی ولیمہ کی دعوت کھانے کی تیاریوں میں مشغو ل نظر آتے ہیں۔ عوامی مسائل سے بے غرض حکمرانوںا ورسیاستدانوں نے بے حسی اورظلم کی انتہا کر دی۔ ان خیالات کا اظہار معروف سیاسی و سماجی خواتین نے ملک بھر بالخصوص پنجاب میں خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ظلم و زیادتی کے واقعات پر اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔
نیو ہوپ ویلفئیر آرگنائزیشن کی چئیر پرسن و سابق رکن اسمبلی سیمل راجہ نے کہا کہ حکمران خواتین کو تحفظ دینے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ خادم اعلی کی پالی ہوئی پولیس جرائم کا خاتمہ،انصاف کی فراہمی اور مظلوموں کی داد رسی کرنے کے بجائے ظالموں اور مجرموں کے ہاتھوں میںکھیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے اسلامی ملک کے مسلمان حکمران اپنی ہی بہنوں بیٹیوں کی زندگیوں اور عزتوں کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ وطن عزیز میںہر روزنہ جانے کتنی حوا کی بیٹیوں کو کھلونا سمجھ کر ان کی زندگیوں اور عزتوںسے کھیلا جارہا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سے ملک میں خواتین کے ساتھ بڑھتے ہوئے ظلم و بربریت کے واقعات کے خلاف سو موٹو ایکشن لینے کی اپیل کی۔ سماجی کارکن عاصمہ بٹ نے کہا ہے کہ بلھے شاہ کی دھرتی قصور میں گذشتہ ایک سال میں معصوم زینب جیسی دس معصوم بچیوںکو درندگی کا نشانہ بنایا گیا، بلھے شاہ کی دھرتی اپنے ہی بچوں کو تحفظ دینے میںناکام ہو چکی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے ہسپتال بدقماشی کے اڈے بن چکے ہیں حکمران، سیاستدان اور ریاستی ادارے آئے روز معصوموں کی عصمت گری کے واقعات کو دبانے میں مصروف ہیں۔ خواتین کے حقوق کیلئے کام کرنے والی معروف قانون دان شبنم اسلم نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اندر و باہرموجود سیاسی جماعتیں خواتین کے خلاف بڑھتی ہوئی دہشتگردی کی زمہ دار اور خود خواتین کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ معروف سماجی و سیاسی شخصیت نبیلہ بٹ اور سونیا نعمان نے کہا کہ اقتدار کی بندربانٹ میں مصروف سیاسی جماعتیں سیاست چمکانے کے لئے تحریکیں چلا سکتی ہیں ،دھرنے دے سکتی ہیں مگر خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے ظلم و زیادتی کے واقعات پر تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین گونگے بہرے بنے ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوںکے وویمن ونگ خواتین کو درپیش مسائل کے ازالے کے لئے آواز اٹھانے کے بجائے لسٹوں میں نام ڈلوانے کے لئے کوشاںنظر آتے ہیں۔شازیہ عبید،نورین کنول اور فردوس نے کہا کہ خادم اعلی کی پالی ہوئی پولیس خواتین دشمنی میںسر فہرست اور خواتین کی جانوں اور عزتوں کے لٹیروں کے محافظ اور ان کے ہاتھوں کی کٹھ پتلیاں بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر قانون اپنی بے لگام زبان اور ان کی ماتحت پولیس اپنے بے لگام اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے خواتین کے ساتھ دشمنی بنا کر خادم اعلی کے مشن کو پورا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہی حالات رہے تو آئندہ آنے والے الیکشن میں خواتین ان سیاستدانوںکے خلاف خود میدان میں آ کر ان کے مکروہ چہرے بے نقاب کریں گی۔

تبصرے