Urdu News and Media Website

سمندر اور چڑیا

سمندر کنارے ایک درخت تھا جس پر چڑیا کا گھونسلا تھا۔ایک دن تیز ہوا چلی تو چڑیا کا بچہ سمندر میں گر گیا ۔چڑیا بچے کو نکالنے لگی تو اسکے اپنے پر گیلے ہو گئےاور وہ لڑکھڑاگئ،اُس نے سمندر سے کہا اپنی لہر سے میرا بچہ باہر پھینک دے مگر جب سمندر نہ مانا تو چڑیا بولی دیکھ میں تیرا سارا پانی پی جاؤں گی تجھےریگستان بنا دُونگی۔سمندر اپنے غرور میں گرجا کہ اے چڑیا میں چاہوں تو ساری دنیا کو غرق کردوں تو ناچیز میرا کیا بگاڑ سکتی ہے؟
چڑیا نے اتنا سنا تو بولی چل پھر خشک ہونے کو تیار ہو جا۔اسی کے ساتھ اس نے ایک گھونٹ بھرا اور اُڑ کر درخت پر جا بیٹھی پھر آئی گھونٹ بھرا اور پھر درخت پر جا بیٹھی ،اسی طرح یہی عمل سات سے آٹھ بار دُہرایا تو سمندر گھبرا کے بولا "پاگل ہوگئی ہے کیا ؟کیوں مجھے ختم کرنے لگی ہے؟”مگرچڑیا اپنی کوشش میں لگی رہی اور یہی عمل دہراتی رہی۔ابھی صرف تیس سے بتیس بار ہی چڑیا نے یہ عمل دہرایا تھا کہ سمندر نے ایک زور دار لہر سے چڑیا کے بچے کو باہر پھینک دیا۔درخت جو کا فی دیر سے یہ سب واقعہ دیکھ رہا تھا ،سمندر سے بولا”اے طاقت کے بادشاہ! تو جو ساری دنیا کو لمحے میں غرق کر سکتا ہے اس ناچیز سی چڑیا سے گھبرا گیا ،یہ بات کچھ سمجھ نہیں آئی؟”
سمندر بولا "تو کیا سمجھا میں جو تجھے ایک پل میں اکھاڑ سکتا ہوں ،پوری دنیا کو تباہ کر سکتا ہو ں اس نا چیز چڑیا سے ڈرونگا؟ ایسی با ت نہیں ہے ،میں تو ایک ماں سے ڈرا ہوں ،ایک ماں کے جذبے سے ڈرا ہوں،ماں کے سامنے تو عرش بھی ہل جا تا ہے تو یہاں میری کیا مجال؟جس طرح وہ مجھے پی رہی تھی مجھے لگا وہ مجھے ریگستان بنا دے گی”۔
ماں اللہ کی سب سے عظیم نعمت ہے،ہمیں اسکی قدر کرنی چاہیے۔

تبصرے