Urdu News and Media Website

سال نو کا پہلا مگر خطرناک ٹویٹ

تحریر:امتیاز احمد شاد۔۔
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ امریکہ نے 15سال میں پاکستان کو33ملین ڈالر کی امداددے کر بیوقوفی کی ہے بدلے میں پاکستان نے جھوٹ اور دھوکہ کے سوا کچھ نہیں دیاوہ ہمارے رہنمائوں کو بیوقوف سمجھتے ہیںجبکہ اس سے کم لاگت کے ساتھ افغانستان میں دہشتگردی پر قابو پایا جا سکتا تھا۔ٹرمپ کا غصہ اس وقت بڑھا جب 125ملین ڈالر کا بل اس کے سامنے آیا۔اس کے ردعمل میں پاکستان نے بھر پور جواب دیااور ایک ایک پائی کا حساب دینے کی آفرکی جبکہ چائینہ نے پاکستان کے دفاع میں بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو پاکستان کی قربانیاں تسلیم کرنی چاہیے دہشتگردی کے خاتمے میں پاکستان کی شاندار شراکت ہے تاہم ٹرمپ کا بیان انتہائی افسوسناک ہے۔9/11کے بعداب تک امریکہ افغانستان میں 870بلین ڈالر خرچ کر چکا ہے اور مذید خرچ ہو رہا ہے مگر نتائج سب کے سامنے ہیں امریکہ کا جنگ جیتنا تو درکنار وہاں سے نکلنا ناممکن ہو چکاپاکستان پر غلیظ الزام لگانے والے ٹرمپ کے پیچھے کون ہے اور ان کے عزائم کیا ہیں اس پر بات کرنے سے پہلے پاکستان پر مسلط کی گئی جنگ کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والی تباہی سے آگہی لازمی ہے۔دہشتگردی کے خلاف اس جنگ میں پاکستان میں 70ہزار سے زائد لوگوں کی جانیں گئیںافغان بارڈر کے قریب علاقے آج بھی اس تباہی کی تصویر پیش کر رہے ہیں یہ آگ پاکستان کے ہر شہر گلی کوچے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے،تعلیمی اداروں ،عبادت گاہوں اور سیرگاہوں سے آج بھی بارود کی بومیں ہمارے پیاروں کے خون کی مہک محسوس کی جاسکتی ہے۔آج بھی پاکستان کے شہروں میں ہسپتالوں کا ریکارڈ چیخ چیخ کر ہمیں ہماری بربادی کے غمناک اور دردناک گیت سنا رہا ہے جس کی دھنیںناجانے ٹرمپ کے کانو ں تک کیوں نہیں پہنچتی۔ تھامس سویل اوراینڈریو بولٹ کے خیالات کا جائزہ لیں تو ڈونلڈٹرمپ کا غصہ سمجھ میں آتا ہے تھامس سویل کا کہنا ہے کہ اسلامی ممالک میں امریکہ کے خلاف نفرت اور عالم کفر کے خلاف جہاد کی وجہ غربت اور جہالت ہے اگر انہیں دور کر دیا جائے تو دنیا میں امن ہو جائے گا اس سوچ کو پروان چڑھانے کے لیئے امریکہ نے پاکستان سمیت کئی دیگر اسلامی ممالک میں فنڈنگ کر رکھی ہے جہاں تعلیم میں بہتری لانے کے لیئے کئی پروگرام شروع ہیںمگر اس کے جواب میںاینڈریو بولٹ نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ اگرامریکہ کے خلاف نفرت اور عالم کفر کے خلاف جہاد کی وجہ غربت اور جہالت ہوتی تو پھر یہ نفرت چین اور روس کے خلاف بھی اتنی ہی شدت سے پائی جاتی ان کا ایک ہی حل ہے کہ ان کی امداد روکی جائے اور ان کے ساتھ سختی سے نمبٹا جائے۔ٹرمپ اینڈریو بولٹ سے بہت متائثر ہے۔دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی جس کا اصلی نام نمرتارندھاواہے جو ہندوستانی نژاد امریکی شہری ہے اس کا خاوند مچل ہیلی جو امریکی فوج میں آفیسر ہے اور 2013میں افغانستان میں تعینات رہ چکا ہے جس دن پاکستان اورترکی نے ملکر قرار پیش کی اور 128ملکوں نے انہیں سپورٹ کیا اسی دن ہندوستان کی ایک اہم شخصیت نے نکی ہیلی سے ملاقات کی ۔ڈونلڈ ٹرمپ جو پہلے ہی اینڈریو بولٹ جیسے لوگوں سے متائثر تھا اور اپنی الیکشن مہم میں اسلام دشمنی کا کھل کر اظہار کر چکا تھا نکی ہیلی کی بریفنگ کے بعد اس نے سفارتی اداب کو ٹھوکر مارتے ہوئے سال نو کا پہلا اور خطرناک ٹویٹ داغ دیا ۔پاکستان میں تجزیہ نگار وں نے طوفان برپا کر دیا اور حکومت نے حافظ سعید سے منسلک تمام اداروں اور رفاعی کاموں کو اپنے قبضے میں لینے کا فیصلہ کر لیا،دنیا پر ٹرمپ کی بیوقوفیوں کو عیاں کرنے کی بجائے حکومت نے اس کام کو کرنا ضروری سمجھا جو ہندوستان کی خواہش ہے اس کا اعلان ہوتے ہی ہندوستان کا میڈیا واویلا کرنے لگا کہ پاکستان اپنے ہی پالے ہوئے دہشتگردوںکو ان اعلانات کے ذریعے ایک ڈرامہ رچا کر پھر بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔امریکہ ،بھارت اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ اب ڈھکا چھپا نہیں رہا ان کا مقصد پاکستان کا ایٹمی پروگرام تباہ کرنا ہے اس کے لیئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں ۔پاکستان کے پاس اب موقع ہے کہ دانشمندی سے اپنے پتے کھیلے اور سی پیک سے جڑے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیکر امریکہ اور ورلڈ بینک کے چنگل سے جلد از جلد چھٹکارا حاصل کرے ابھی تو امریکہ نے 33بلین ڈالر کا طعنہ دے کر ہمیں رسوا کیا ہے اور ہمارے شہدا کی قبروں کو جھوٹ کا پلندہ کہہ کرہمارے منہ پر طمانچہ مارا ہے ان کا اگلا قدم امداد روکنا اور قرض کی فوری واپسی کا مطالبہ ہو گاجو ہم پہلے ہی مذید قرض لیکر بمشکل سود دے پاتے ہیں۔اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے جس طرح ڈونلڈٹرمپ نے سال نو کا خوفناک پیغام دیا ہے اسی طرح 2018کو قرض اتارو سال کا نام دے کر دشمنوں کو حیران کر دیا جائے۔اس کے لیئے عوام میں تحریک پیدا کی جائے شعور بیدار کیا جائے مگر ساتھ ساتھ یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہے کہ یہ تحریک بھی کہیں قرض اتارو ملک سنوارو تحریک کی طرح کی نا ثابت ہو۔جتنی جلد ہو سکے اس کی ذمہ داری ان کندھوں پر ڈالی جائے جن پر پوری قوم اعتماد اور اعتبار کرتی ہے اگر اس میں دیر کر دی گئی تو یاد رکھو امریکہ ،بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ نے جو منصوبہ تیار کر رکھا ہے اس میں2020فیصلہ کن سال قرار دیا کیا ہے۔دہشتگردی کے حملے جن ممالک سے متوقع ہیں ان کا قلع قمع 2020 کے جون تک کر لیا جائے گا اور دسمبر2020 تک پاکستان کو اپنے انجام تک پہنچایا جائے گا،ان ممالک کی فہرست میں پاکستان کا بلترتیب آٹھواں اور آخری نمبرہے (صومالیہ،عراق،افغانستان،فلسطین،یمن،مصر،ایران،پاکستان)اس خوفناک منصوبے کوریزہ ریزہ کرنے کا صرف اور صرف ایک ہی حل ہے کہ نئے راستے جو سامنے نظر بھی آرہے ہیں ان پر چلا جائے اور قرض دسمبر 2018تک اتار دیا جائے۔حکومت کو چاہیے کہ امریکہ کو واضع الفاظ میں پیغام دے کہ اگر آپ ہماری وہ رقم جو اس جنگ میں ہم نے خرچ کی ہے واپس نہیں کرتے تو افغانستان سے نکلنے کا خود بندوبست کرواور اس کے ساتھ ساتھ ان 128ملکوں کو اعتماد میں لیں جنہوں نے قرارداد میں آپ کا ساتھ دیا۔ان کے سامنے وہ تمام باتیں اور معاملات رکھیںجو امریکہ ماننے کو تیار نہیں۔یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی،مذہبی جماعتیں،دفاعی ادارے یک زبان ہو کر ایک ہی پیج پر ہیں اور خصوصا میاں نواز شریف اور آرمی چیف نے جس طرح سے ٹرمپ ٹویٹ پر رد عمل کااظہار کیا وہ لائق تحسین ہے۔چینی کہاوت ہے،مقروض کبھی سر نہیں اٹھا سکتا۔ٹرمپ ایک کاروباری شخص ہے وہ ہر چیز کو کیلکولیٹرکی سکرین پر دیکھتا ہے سفارتی آداب ،قربانیاں ،تعلقات یا ہمدردی اس کی ڈکشنری میں ہی نہیں،وہ دو جمع دو کے قاعدے پر یقین رکھتا ہے اور زرہے تو بات کر بن زر ٹر ٹر مت کر اس کا نسب العین ہے اس طرح کے شخص سے آداب ،لحاظ اور بھلے کی امید نہ رکھی جائے،15سال سے مصیبت میں پڑی قوم کو اس تکلیف سے نکالنے کا اللہ نے موقع دیا ہے اسے ضائع مت کرو، بڑھکیںمارنے کی بجائے حکمت عملی بنائویہ سال انتہائی قیمتی ہے اسے قرض اتارو سال قرار دے کر اقوام عالم میں سرخرو ہونے کا موقع گنوانا کوئی دانشمندی نہیں۔

تبصرے