Urdu News and Media Website

دنیا کی مشہور ترین جاسوسہ

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)مارگریٹ زیلے عرف ماتا ہری کو دنیا کی مشہور ترین جاسوسہ مانا جاتا ہے،مارگریٹ زیلے 1876 میں  نیدرلینڈز کے  شہر لیووارڈن پیدا ہوئیں۔ ان کا معروف نام ماتا ہری انڈونیشیائی زبان سے آیا جس کا مطلب ہے ‘دن کی آنکھ،’ یعنی سورج۔ کم عمری میں شادی اور پھر شادی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے بعد انھوں پیرس میں بطورِ رقاصہ زبردست شہرت بٹوری۔اس خاتون نے یورپ کے دارالحکومتوں کو اپنے قدموں پر جھکا رکھا تھا۔ یہ وہ شعلۂ جوالہ تھی جو رقص میں بےبدل تھی اور اس کے چاہنے والوں میں وزیر، صنعت کار اور جنرل شامل تھے۔لیکن پھر پہلی جنگِ عظیم چھڑ گئی، جس نے دنیا کو بدل کے رکھ دیا۔ اس کا اب بھی خیال تھا کہ وہ یورپ بھر کی آنکھیں اپنے جلووں سے خیرہ کر سکتی ہے۔ لیکن اب اونچے ایوانوں میں بیٹھے مرد اس سے کچھ اور چاہتے تھے۔ انھیں اب انھیں اس خاتون کا التفات نہیں، معلومات درکار تھیںفرانسیی حکومت نے ماتا ہری کو جرمنی کے خلاف جاسوسی پر لگا دیا مگر ماتا ہری کے برے دن شروع ہو چکے تھے،جرمن اتاشی کی طرف سےاپنے ملک بھیجے جانےوالے تار نے معاملہ بگاڑ دیا،ماتا ہری دراصل ڈبل ایجنٹ تھی، فرانسیسی وزارت دفاع نے قومی راز جرمنی کو دینے کے الزامات لگائے اور سزائے موت سنادی گئی،،ماتا ہری کو15 اکتوبر 1917 کوفائرنگ سکواڈ نے موت کے گھاٹ اتار دیا،،اب ایک سو سال بعد فرانسیسی وزارتِ دفاع نے کچھ ایسی دستاویزات جاری کی ہیں جن سے دنیا کی تاریخ کی اس مشہور ترین جاسوسہ کے بارے میں نئے انکشافات سامنے آئے ہیں

تبصرے