Urdu News and Media Website

دفاع ختم نبوت کا مشن عقل کا نہیں عشق رسالت و عقیدت سے تعلق رکھتا ہے:ختم نبوت کانفرنس

چناب نگر(نیوزنامہ)عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مرکز ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر میں منعقدہ آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء اور مقررین نے کہا ہے کہ کہ عقیدہ ختم نبوت میں امت مسلمہ کی فناء و بقاء ہے۔ دفاع ختم نبوت کا مشن عقل کا نہیں عشق رسالت و عقیدت سے تعلق رکھتا ہے۔ امریکہ سمیت دنیا کی کوئی طاقت قادیانیت سے متعلق آئینی ترامیم کو ختم نہیں کروا سکتی۔ قوانین ختم نبوت کو چھیڑنا آگ و خون سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ حکومتی راہ داریوں میں گھسے ہوئے سکہ بند قادیانی ضمیر فروش اور بے دین سیاستدانوں کو مہرے کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔ قادیانی دوستی پر فخر کرنے والے سیاستدانوں کو ادراک ہونا چاہئے کہ قادیانی دوستی ان کی دشمنی سے زیادہ خطر ناک ہے۔ مسلمانوں کے اجماعی اور طے شدہ امور کو متنازعہ بنانے کی سازشیں عروج پر پہنچی ہوئی ہیں۔ حکومتی ایوانوں میں موجود قادیانی پاکستان میں وہ حیثیت حاصل کرنے میں مصروف ہیں جو حیثیت یہودیوں کو امریکہ میں حاصل ہے۔ حلف نامے کو اقرار نامے میں تبدیل کرنے والوں کی نشان دہی تو حکومت کرچکی ہے، مگر ابھی تک ان کا آزاد گھومنا قانون نافذ کرنے والوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کے خلاف سازشوں کو بے نقاب کرنا دینی و سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ اسلام اور پاکستان لازم ملزوم ہیں۔ قادیانی گروہ اسلام کا دشمن اور آئین پاکستان کا غدار ہے۔ قادیانیوں کو مسلمان کہنے اور سمجھنے والے ملکی آئین سے انحراف دو قومی نظریہ سے غداری ہے۔ قادیانی اقلیت کے گستاخانہ لٹریچر، توہین آمیز کتابوں اور شر انگیز رسائل کو کھلی چھٹی دینا اور امتناع قادیانیت آرڈنینس کی خلاف ورزی پر قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو نیشنل ایکشن پلان کا حصہ نہ بنانا بدترین قادیانیت نوازی ہے۔ قانون توہین رسالت اور قادیانیوں کے متعلق آئینی ترامیم کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا۔ دینی مدارس، علماء کرام اور اسلامی تحریکوں کے خلاف ارباب اقتدار کا نفرت انگیز رویہ اور امتیازی سلوک پر مبنی اقدامات، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور قادیانی ایجنڈے کو پروان چڑھانا ہے۔ بیرون ممالک میں عقیدہ ختم نبوت کے فروغ اور فتنہ قادیانیت کے منفی پروپیگنڈا کے خاتمہ کے لئے سرکاری سطح پر انتظامات کئے جائیں۔ کانفرنس کی افتتاحی نشسوں کی صدارت پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی، صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد نے کی۔ جبکہ کانفرنس سے مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا مفتی محمد حسن صاحب، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد امجد خان، مولانا عظمت اﷲ بنوں، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا قاضی احسان احمد،مولانا غلام حسین، مولانا غلام جعفر اٹھارہ ہزاری، مولانا عبدالقیوم حقانی،مولانا عزیز الرحمن ثانی، مولانا عبدالحکیم نعمانی، مولانا محمد وسیم اسلم، مولانا محمد اسحاق ساقی، مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد اقبال، مولانا محمد خبیب، مولانا عبدلنعیم رحمانی، مولانا مختار احمد،مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا غلام حسین، مولانا حافظ محمد انس، مولانا عبدالرشید غازی، مولانا محمد قاسم سیوطی،مولانا محمد ایوب خان ڈسکہ، مولانا جمیل احمد بندھانی، مولانا عبداللطیف اشرفی، حافظ مبشر محمود، مولانا راشد مدنی ٹنڈو آدم، حافظ محمد مہتاب ، فیصل بلال گیلانی، حافظ محمد شریف منچن آبادی سمیت متعدد مقتدر شخصیات نے شرکت و خطاب کیا، مقررین نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان ختم نبوت، ناموس رسالت اور آئین کی اسلامی شقوں کے حوالہ سے دو ٹوک حکومتی پالیسی کا واضح اعلان کریں اور عقیدہ ختم نبوت کی شق میں تبدیلی کی ناپاک جسارت کرنے والے سازشی عناصر کو بے نقاب کر کے عبرت کا نشان بنائیں تاکہ آئندہ کسی کو قوانین ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت ایکٹ پر شب خون مارنے کی جسارت نہ ہو۔ جب تک رانا ثناء اﷲ جیسے قادیانیت نواز لوگ موجود ہیں تو ملک کو اسلام دشمن عناصر سے محفوظ رکھنا ممکن نہیں۔ وزیر قانون کے عہدہ پر براجمان ہوتے ہوئے بھی آئین کی اسلامی دفعات سے روگردانی کرنے پر انہیں اس عہدہ سے ہٹایا جائے۔ پارلیمنٹ کی سطح پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کرنے والے اراکین اسمبلی کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ مولانا عزیزالرحمن جالندھری نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا دفاع کرنے والے قدرت کی طرف سے حضور اکرمﷺ کی ذاتی خدمت پر مامور ہیں۔ اور قیامت کے دن سب سے زیادہ قربت اور بلندی درجات انہیں نصیب ہوں گے۔علماء کرام اور تمام مسلمانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قادیانیوں کی اسلام و ملک دشمن سرگرمیوں کو طشت از بام کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔ مولانا پیر حافظ ناصر الدین خاکوانی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، صحابہ کرامؓ اور اہلبیتؓ کی عظمت اور امت مسلمہ کی وحدت عقیدہ ختم نبوت میں مضمرہے۔تحفظ ختم نبوت اور دفاع ناموس رسالت کا مقدس مشن قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔ مولانا محمدامجد خان نے کہا کہ قادیانی ملک و ملت کے غدار اور صیہونی وسامراجی طاقتوں کے گماشتے اور اسرائیل کے ایجنٹ ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی نے پاکستان میں رہتے ہوئے بھی وطن عزیز کے ایٹمی راز چوری کر کے مغربی آقاؤں کی نمک حلالی اور انگریز سے وفا داری کا حق ادا کیا۔ مولانا عبدالقیوم حقانی نے کہا کہ سکہ بند قادیانی عناصر خود کو آئین کا پابند اور اقلیت تسلیم کرنے کی بجائے اب بھی چناب نگر پریس سے گستاخانہ لٹریچر اور فولڈر پرنٹ کر رہے ہیں۔ قادیانی جرائد اور رسائل میںغیر قانونی طور پر اسلامی شعائر اور مسلمانوں کی مذہبی اصطلاحات استعمال کر کے آئین پاکستان کی واضح خلاف روزی کر رہے ہیں۔ جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونے کا دعوی، شعبدہ بازی اور جھوٹ کا پلندہ ہے۔ جس کو حقیقت اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ مولانا قاضی احسان احمد نے کہا کہ علامہ اقبال نے سب سے پہلے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا دینے کا مطالبہ کیا اور ان کو ملک و ملت کے غدار اور مرزا قادیانی کی فرضی نبوت کو اپنی شاعری میں برگ حشیش سے تعبیر کیا۔ مولانا عبدالحکیم نعمانی نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ صرف مولویوں کا نہیں دنیا بھر کے تمام مسلمان، قادیانیوں کو غیر مسلم یقین کرتے ہیں۔ دنیا کی کسی ایک عدالت فیصلہ قادیانی گروہ تا حال اپنے حق میں پیش نہیں کر سکتا۔مولانا محمداسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ امت کے اجماعی مسائل کو پرنٹ اور الیکڑونک میڈیا پر بازیچہ اطفال بنا کر اپنی حوس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ میں گھسے ہوئے قادیانی اور سیکولر لابیاں، عقیدہ ختم نبوت کو فرقہ وار یت سے تعبیر کرنے کے گھناؤنے عمل میں مصروف ہیں۔ مولانا غلام حسین نے کہا کہ ناموس رسالت اور عقیدہ ختم نبوت امت مسلمہ کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اسے متنازعہ بنانے والوں کی سازشوں کو نا کام بنانا ہوگا۔ مولانا محمد ایوب ڈسکہ نے کہا کہ گستاخان رسول کو سپورٹ کرنے والے دنیا و آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ قادیانیت نوازی ان کے لئے وبال جان ثابت ہوگی۔ مولانا عزیز الرحمن ثانی نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت کو متنازعہ بنانے والے اور فرقہ واریت سے تعبیر کرنے والے منکرین ختم نبوت کو کندھا فراہم کر رہے ہیں۔ مولانا محمد اسحاق ساقی نے کہا کہ ہم اکابرین کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے عدم تشدد کی پالیسیوں کو اپناتے ہوئے شب و روز قادیانیوں کی ہدایت کے لئے دعاؤں کا اہتمام کرتے ہیں۔ مولانا راشد مدنی نے کہا کہ نامساعد حالات اور محدود وسائل کے باوجود بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اندرون و بیرون ملک میں ہر فورم پر قادیانیوں کو ذلت امیز شکست سے دو چار کیا۔ مولانا محمد وسیم اسلم نے کہا سول اور فوج کے تمام عہدوں سے قادیانیوں کو ہٹائے بغیر ملک کو امن کا گہوارہ نہیں بنایا جا سکتا۔ کیونکہ اسلامیان پاکستان کو قادیانیوں کی حب الوطنی پر شدید تحفظات ہیں۔ مولانا عبدالنعیم رحمانی نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت میں واحدت امت کا راز پنہاں ہے۔ علماء لدھیانہ نے مرزا قادیانی کی اسلام کش تحریروں کی بنا پر سب سے پہلے مرزا قادیانی پر کفر کا فتوی صادر کیا۔ کانفرنس میں سانحہ کوئٹہ کے شہدا اور زخمیوں سے اظہار افسوس کیا گیا اور شہداء کے لئے دعا مغفرت بھی کی گئی۔ کانفرنس میںعقیدہ ختم نبوت کی اہمیت و فضیلت، حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام اور عقیدہ ظہور مہدی سمیت مختلف موضوعات پر بیانات ہوئے۔ کانفرنس آج بھی جاری رہے گی۔ دینی اور سیاسی جماعتوں کے رہنما اورو قائدین خطاب کریں گے۔

آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کی جھلکیاں٭

… کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ساڑھے نو بجے قرآن کریم کی تلاوت، نعت رسول مقبول ﷺ سے ہوا۔ خانقاہ سراجیہ کندیاں کے سجادہ نشین مولانا صاحبزادہ خواجہ خلیل احمد نے اپنی دعا سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ ٭… عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر صاحبزادہ خواجہ عزیز احمد نے اپنے افتتاحی خطاب میں کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے اور ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے کارکنوں کی آمد پر خیر مقدمی کلمات ارشاد فرمائے۔٭… عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی جنرل سیکرٹری، مفکر ختم نبوت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اپنی پیرانہ سالی کے باوجود بالغ نظری اور خدا داد قائدانہ صلاحیتوں سے کانفرنس کے داخلی اور خارجی معاملات و انتظامات کی سر پرستی و نگرانی فرماتے رہے۔٭… کانفرنس کاپنڈال میں رنگ برنگے خوبصورت بینروں سے روح پرور منظر پیش کر رہا ہے بینروں پر عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت ، ناموس رسالت کے تحفظ پر مبنی عبارات اور پیغامات درج ہیں۔ حکومت سے قادیانی گروہ کے متعلق مطالبات بھی بینروں پر درج ہیں۔٭… کانفرنس کا وسیع و عریض پنڈال تکبیر اور ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونجتا رہا۔ ٭… سابقہ روایات کے پیش نظر امسال بھی کالعدم تنظیموں ، فورتھ شیڈول اور ضلع بندی کے تمام افراد اس کانفرنس میں شریک نہیں ہیں۔ ٭… کانفرنس کی نقابت و نظامت کے امور مولانا قاضی احسان احمد،مولانا محمد قاسم رحمانی، مولانا محمد خبیب اور مولانا مختار احمد کے سپرد تھے۔ جو دل نشین اندازمیں اسٹیج سے مقر رین کو دعوت خطاب دیتے رہے۔٭… مولانا عبدالحکیم نعمانی مقررین کی تقاریر کے اقتباسات میڈیا روم پہنچاتے رہے اور مولانا عبدالنعیم رحمانی ومولانا محمد وسیم اسلم میڈیا سیکشن سے صحافیوں کو کانفرنس کی لمحہ بہ لمحہ کاروائی پر بریفنگ دیتے رہے۔٭… کانفرنس میں پولیس ٹرینگ سنٹر کوئٹہ پر دہشت گردوں کے بزدلانہ حملے کی شدید مذمت ہوتی رہی۔ شہداء اور لواحقین کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی ہوتا رہا۔٭… چنیوٹ، سرگودھا، جھنگ، فیصل آباداور چناب نگر کے قرب و جوار سے مجاہدین ختم نبوت قافلوں کی صورت میں شریک ہوئے۔٭… کانفرس کے اسٹیج پر تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی جماعتوں کے قائدین ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے رہے۔ جس سے اسٹیج اتحاد امت کا مثالی منظر پیش کر رہاتھا۔ ٭… کانفرنس میں ختم نبوت خط و کتابت کورس اسلام آباد کا بھاری بھرکم وفد بھی شامل ہوا۔٭… کانفرنس کی سیکورٹی پر مامور رضا کاران ختم نبوت نے کانفرنس کے شرکاء کے لئے دید و دل فرش راہ کی عملی تصویر بنے رہے۔٭… کانفرنس کے پنڈال کے شرکاء میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مکاتب فکر کے لوگ اور ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہیں۔  ٭… عصر کی نماز کے بعد سوال و جواب کی نشست ہوئی مہمان خصوصی شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا تھے جو شرکاء کے تحریری سوالات کے جوابات دیتے رہے۔

تبصرے