Urdu News and Media Website

دعاؤں سے کچھ آگے۔ عمل کی دنیا

تحریر:محمدعاصم حفیظ

asim hafeez

"یا اللہ جو والدین پریشان ہیں ان کی اولادوں کے لیے نیک صالح رشتے عطا فرما ” یہ ایک ایسی دعا ہے کہ جو آپ بھی ہر خطبہ جمعہ کے بعد ضرور سنتے ہوں گے ۔ میں نے آج بھی سنی ۔ یقینا یہ علمائے کرام کا اخلاص ہی ہوتا ہے کہ جو عوام الناس کے مسائل کے حل کے لیے رب العالمین سے دعاگو ہوتے ہیں ۔

یہ دعائیں اور التجائیں بہت قیمتی ہیں۔

ہمارا پورا ایمان و یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان پرخلوص دعاؤں کو ضرور قبول کرتا ہے۔

کرنا اچھا لگتا ہے کہ جب کسی مسجد میں عوام الناس کی بھلائی ۔ سماجی خدمت کا کوئی منفرد کام ہوتا ہے۔

مسجد النور میں آسان شادی مرکز کا قیام ۔یہ محترم ڈاکٹر انس نضر اور عزیز دوست محترم نعیم ناصف کی کاوش ہے۔

بڑے شہروں میں رشتوں کے مسائل بڑھتے جا رہے اور خصوصاً دیندار گھرانوں کے لیے ۔

آج کی دنیا میں ہمیں مساجد کو دعاؤں کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات کے مراکز بنانے کی بھی ضرورت ہے۔

رشتوں ۔ قرض ۔ مالی مشکلات ۔ بیماری ۔ معذوری ۔ پریشانی کی دعائیں بھی کریں اور کرائیں اور اس کے ساتھ ساتھ عملی طور پر کاوشیں کریں۔

مساجد کو ہر فرد کے لئے سب سے پسندیدہ جگہ اور سماجی مراکز ہونا چاہیے۔

یہاں مختلف طریقوں سے افراد کی آمد و رفت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

سماجی مسائل میں سے جو بھی یہاں حل ہو سکیں ان کا حل ڈھونڈا جائے۔

حقیقت یہی ہے کہ اگر مساجد سے عوام الناس کے سماجی مسائل حل ہوں گے تو ان میں دینداری بھی بڑھے گی۔

علماء کرام اور مساجد انتظامیہ کو چاہیے کہ اپنے حالات۔ سہولیات اور جو کچھ ممکن ہو سکے اس کے مطابق عوام الناس کی سماجی خدمت بھی کریں۔

گزشتہ دنوں ایک گاؤں کی مسجد میں بچے بچیوں کے سمر کیمپ کی تصاویر دیکھیں۔

کتنا بہترین آئیڈیا ہے ۔ مساجد میں رشتے جوڑنے کی بات ہو۔

کسی پڑھے لکھے نوجوان کو ٹیوشن سینٹر چلانے کی اجازت دی جائے۔

ہر کوئی اپنی اولاد کی تربیت کے حوالے سے پریشان ہے۔

امام مساجد اور علمائے کرام بھی اولاد کے نیک صالح اور فرماں بردار ہونے کی دعائیں کرتے ہیں۔ کچھ احباب ملکر مسجد کی سطح پر بچوں کا کوئی مقابلہ کرا دیں۔

تیراکی ۔ ورزش ۔ جسمانی کھیل کچھ بھی جو سیکھا جا سکے۔

اپنے بچوں کو بھی شامل کریں ۔ یہ دراصل آپ کے اپنے بچوں پر سرمایہ کاری ہو گی۔

انہیں کھیل ۔ تفریح اور کمپنی مساجد سے مہیا کریں ۔ وہ خودبخود نیکی سے جڑ جائیں گے ۔
خواتین کے لیے درس و تدریس ۔ خصوصی دروس کا اہتمام ہو۔

کوئی غرباء و مساکین کے لیے کھانا بانٹنا چاہے تو مساجد میں کرے۔

مرکزی ہال سے ہٹ کر بیسمنٹ۔ اوپری منزل وغیرہ کو غرباء کی چھوٹی شادی بیاہ کی تقریبات کے لیے استعمال کر لینا چاہیے۔

بلڈ ڈونیشن کا اہتمام کیا جائے ۔ حتی کہ مثبت کھیلوں اور نوجوانوں کے لیے سرگرمیوں کا۔ نمازی ملکر ایک کمیٹی بنائیں۔

کسی کو مالی مشکل ہو ۔ قرض حسنہ چاہیے ۔ کوئی نقصان ہو جائے ۔ اچانک حادثہ ۔ بیماری ۔معزوری ۔یا بیروزگاری ہو تو نماز کے یہ ساتھی سہارا بن جائیں۔

علماء سماجی خدمات کے لیے وقت نکالیں ۔ معاشرے میں بہت خیر اور بھلائی موجود ہے بس اعتماد اور پلیٹ فارم مہیا ہونے کی بات ہے ۔ مسجد ایک سماجی مرکز ہوتا ہے جہاں سب ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔

اگر یہ نماز ایک دوسرے کے مسائل ۔ مشکلات اور ضروریات کے بھی ساتھی بن جائیں تو یقینا ایک مثبت انقلاب آ سکتا ہے
اس کے لئے کھلے ذہن سے کچھ منفرد سوچنا ہو گا ۔ مساجد کو صرف نمازوں کے لیے کھولنے کے تصور سے آگے بڑھنا ہو گا ۔ خصوصا عوامی مقامات پر قائم مساجد ۔ہسپتال ۔ بازار ۔ شاپنگ مالز ۔ تفریحی مقامات پر قائم مساجد فعال کردار ادا کر سکتی ہیں ۔
مساجد کو عوام الناس کے مسائل کا حل ۔ سماجی خدمات اور دکھی انسانیت کی خدمت کے مراکز بنا دیں ۔ یہ معاشرہ خودبخود نیکی اور دینداری سے جڑ جائے گا ۔

تبصرے