Urdu News and Media Website

حکومتی سیٹ اپ میں تبدیلی کی بازگشت

تحریر:صابر مغل۔۔۔۔
Sabir Mughal
کوئی بھی حکومت اور خاص طور پروہ لیڈر جو محض اس دعوے پر اقتدار کی راہداریوں تک پہنچے جس کا نعرہ ہی عوامی حالت کو بہتر کرنا ہو ملکی حالات چاہے جس ڈگر پر بھی ہوں وہ عوام کو عبوری ریلیف ضرور مہیا کرتی ہے

ان کے کئی دہائیوں پر محیط مسائل کا حل کرنا،بہترین پالیسیوں کی بدولت عوام کو آسودہ حال بنانا اس کی اولین ترجیح ہوتا ہے مگر عوامی بدحالی میں تبدیلی کا نعرہ بلند کرنے والے شہنشاہ کی حکومت کا چوتھا سال آنے کو ہے مگر عوام کی بہتری تو بہت دور کی بات ہے الٹا وہ ایسی سولی پر لٹکا دیئے جائیں جس کا پھندا کچھ یوں ہوکہ نہ تو ان کی جان جہاں سے جائے اور نہ ہی وہ اس کربناک عذاب اور تکلیف سے چھٹکارا پا سکیں

بطور صحافی بہت سی حکومتوں کا مشاہدہ کیا ،ان کے اچھے کاموں کی تعریف کی عوامی مفاد کے برعکس کاموں پر ہر ممکن تنقید کی مگر دیگر پاکستانیوں کی طرح الراقم کی سوچ بھی یہی تھی کہ موجودہ حکومت کو کسی عوامی عبوری ریلیف کے سخت فیصلوں پر گامزن ہے ممکن ہے یہ عقل کل ہی درست ہوں اور ہماری چکنا چور حالت کی بہتری کے لئے کوشاں ہوں ،وقت گذرنے کے ساتھ ،تکالیف سہنے کے ساتھ ،آسوں اور امیدوں کے ساتھ ،مہنگائی کے عفریت اور بے روزگاری کے سیلاب کے ساتھ ممکن ہے ہم بھی شاید کبھی آسودہ حال ہوں گے

ہمارے چہروں پر بھی رونق بر آئے گی ،پسماندگی اور درماندگی میں دروں سے بھاگ جائے ،مہنگائی اور بے روزگاری کسی خواب کی مانند بن جائے ،ہم پر سابقہ حکومتوں کی طرح سال میں درجنوں بار بجٹ نہ آئیں ہر ماہ ہم پر کسی نئی مصیبت کا نیاپہاڑ نہ گرایا جائے ،میرٹ پر کام ہوں ،تبدیلی شہنشاہ کے وزراء ماضی کے برعکس بندے دے پتروں کی طرح ہوں کرپشن سے پاک اور کسی حقیقی تبدیلی کی جانب رواں ہوں

مگر نہ تین سال میں درجنوں طرح کی نئی پالیسیوں کے باوجود کچھ بہتری کی امید کی کرن آنا تو بجا الٹا عوامی حالت کو اس نہج پر پہنچا دیا گیا کہ ہر وقت اپنی جھولی پھیلائے آسمان کی جانب سر اٹھائے کھڑے ہیں ،چند سوالات جب عوام پوچھتے ہیں تو لاجوب ہو کر خاموشی میں ہی امان پاتے ہیں ،مہنگائی کا خاتمہ کہاں ہوا،روزگار کہاں ملا،بہتری کہاں آئی ،کرپشن کے گھوڑے نے کہاں سٹاپ کیاقومی خزانے لوٹنے والوں کو لگام کیسے ڈالی گئی ،وہ لوٹ مار کا پیسہ واپس کیوں نہیں آیا اگر آیا تو کدھر ہے،گڈ گورنس کہاں ہے ،جرائم میں کس شرح سے کمی واقع ہوئی ،شہنشاہ اور پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وسیم اکرم پلس کی کارکردگی کیا ہے

وسیم اکرم پلس الراقم کے ضلع اوکاڑہ کے متعدد دورے کر چکے ان کی سوچ بلوچ سردار میر چاکر رند کے مقبرہ سے آگے ایک فیصد بھی نہیں بڑھی (مانتے ہیں کہ اپنے اسلاف کو عظیم قومیں ہی یاد رکھتی ہیں مگر محض بلوچ ہونے پر ایسا کرنا اور باقی عوام کو بھاڑ میں ڈالنا بھی کسی مذاق سے کم نہیں )وسیم اکرم پلس اوکاڑہ آتے ہیں انہیں باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت سب اچھا کی رپورٹ کے مطابق ایک مخصوص دائرے میں مقید کر دیاجاتا ہے اور وہ بھی اوکاڑہ کے ٹکٹ ہولڈرز اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ فوٹو سیشن پر اس قدر خوش ہوتے ہیں کہ عوامی مسائل کو مکمل فراموش کر بیٹھتے ہیں

عمران خان جس پہاڑی پر رہائش پذیر ہیں چاپلوسوں کا مخصوص ٹولہ انہیں وہیں سب اچھاہے کی رپورٹ مہیا کر دیتا ہے،عمران خان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ پاکستان کے واحد لیڈر ہیں جوعوامی مسائل کا سب سے بہتر ادراک رکھتے ہیں ، عوامی مسائل کے اصل ذمہ داران سابق حکمران ہیں ،یہ منطق کس صدی تک چلے گی ،عوام کو یہ سب کب تک بتایا جاتا رہے گا،ماضی کی لوٹ مار کا نوالہ کب تک عوام کے حلق سے اتارا جاتا رہے گا، بہت ہوچکا

میرے خیال میں اب ایسی تبدیلی جاری رہی تو ڈر ہے کہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں خود کشیوں کا لامتناعی سلسلہ شروع نہ ہو جائے ،ہمارے پیارے وزیراعظم یہ تبدیلی عوامی مفاد میں نہیں بلکہ اس کے برعکس ذلت آمیز اور عذاب ناک ہے ،یہ بے چارے عوام کسی بہتری آس و امید میں منوں مٹی تلے جا پہنچیں گے تب ان کی قبروں پر روشنی رکھوا دینا،ان کی قبروں پر تبدیلی کے کتبے لگوا دینا،یہاں عوامی حالت تو نہیں بدلی البتہ اقتدار کی گذر گاہوں میں قیام پاکستان سے لےکر آج تک ڈیرہ بسائے لوگ مزید آسودہ حال ضرور ہو چکے ہیں

الراقم مہنگائی کے اعداد و شمار میں نہیں جا رہا وہ تو ہر کوئی جانتا ہے ،کس قدر شرمناک اوربے حمیتی ہے کہ ایک کلو گھی ساڑھے تین سو روپے تک جا پہنچا ہے،عوام ایسی گورنس ،ایسی تبدیلی پر لعنت نہ بھیجے تو اور کیا بھیجے ایک کالم میں حکومت سے عرض کیا تھا عوام روز اول سے قربانیوں کی بھینٹ چڑھے ہوئے ہیں اسے فوری ریلیف کی ضرورت ہے اس بات کی متحمل نہیں ہو سکتی کہ مزید کئی سال پہلے سے بھی بدتر حالت تک پہنچ جائے ان کا ایک ایک دن کسی قیامت سے کم نہیں

مگر جنہیں عوامی مسائل کا ہوش نہیں وہ اس بات کو نہ سمجھ سکے اور نہ ہی کبھی سمجھ پائیں گے،عوام کو کچھ ریلیف دینے کی بجائے ان کے سروں پر مزید بھاری پتھر رکھ چھوڑیں ہیں یہ نہیں بلکہ ہم بیچارے کس لیڈر،کس جنگل ،کس دھرتی کا رخ کریں ،لگتا نہیں جس حکومت کا ہر دن عوام پر ایک نیا عذاب لے کر ابھرے اس سے بہتری کی امید رکھنا کسی دیوانے کا خواب ہی کہا جا سکتا ہے

گذشتہ چند دنوں سے شہر اقتدار میں موجودہ حکومت کے حوالے سے تبدیلی کی بازگشت پہلی بار سنی جا رہی ہے ہم بات اپوزیشن کی نہیں کر رہے ان کے بس میں ہوتو یہ ایک دن بھی اقتدار میں نہ رہتے ،تبدیلی کی یہ صدائیں کہیں اور سے آ رہی ہیں، نواز شریف کے لندن میں ویزے کی توسیع نہ ہوئی تو حکومتی حلقوں میں لڈو پھوٹ پڑے حالانکہ انہی کے لیڈر عمران خان نہیں چاہتے کہ نواز شریف پاکستان آئیں ،یہ تبدیلی مڈٹرم انتخابات کے ذریعے ہی اب ممکن ہے یہی بنیادی وجہ ہے کہ عمران خان نواز شریف کو بیرون ملک ہی دیکھنا چاہتے ہیں البتہ شہباز شریف کسی اور ڈگر پر ہیں ،مسلم لیگ (ق) بھی اگر اقتدار میں تبدیلی رونماء ہوتی ہے تو نہ صرف بھرپورکردار ادا کرے گی بلکہ ممکن ہے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا تاج ان کے سر پر ہو،ذرائع کے مطابق اگر ایسا ہوتا بھی ہے تو مسلم لیگ کو اقتدار سے دور ہی رکھا جائے گا البتہ بڑی حد تک پاکستان پیپلز پارٹی اس نئے سیٹ اپ کا حصہ بن سکتی ہے

یہ سب نہ ہوتا اس کی نوبت کیوں آ رہی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ وزراء کی کرپشن ،بدترین عوامی حالت،ملک بھر میں شرمناک امن و امان کے حالات ہیں ،پہلے عمران خان تبدیلی چاہتے تھے اب عوام تبدیلی چاہتی ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا شاید تین سال بعد بھی عمران خان کو ادراک نہیں ہو سکا اگر ہوا بھی ہے تو نہ جانے اتنے بڑے عظیم لیڈرہونے کا دعویٰ کرنے والے اس عوام دشمن سیلاب کی روک تھام کیوں نہیں کرسکے۔ یہی لمحہ فکریہ ہے، مہنگائی کے جس ریلے نے عوام کو نچوڑا ہے اس سے عوام کی بدعاؤں میں اور اضافہ ہو چکا ہے ۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے