Urdu News and Media Website

جہان نو

تحریر: علی حسن کھوکھر۔۔۔

دوسری جنگ عظيم کے بعد دنیا نے ایک نیا سماں دیکھا ایک طرف برطانیہ امریکہ اور سوویت یونین نے اپنے خلاف اٹھنے والی دو بڑی قوتوں جرمنی اور جاپان کو شکست دے کر ہمیشہ کے لیے ان کا قلع قمع کر دیا اور تاج برطانیہ جس کی سلطنت اتنی وسیع کہ سورج غروب نہ ہوتا تھا سے مختلف ممالک نے آزادی حاصل کرنا شروع کر دی۔

ایسے وقت میں 1917کے کیمونسٹ انقلاب کے نتیجے میں وجود میں آنے والا وجود میں آنے والا سوویت یونین سپر پاور کے طور پر سامنے آ رہا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب کمیونسٹ نظریہ پوری دنیا میں دھاک بٹھا چکا تھا اور دنیا کے بہت سے ممالک میں کیمونسٹ تحریکیں چلنا شروع ہو گئی تھیں ان میں سے ایک قابل ذکر تحریک ایران میں اسلامی انقلاب آنے سے پہلے چلنے والی تحریک بھی ہے۔
برصغیر میں بھی اس نظریہ کے اثرات دیکھے جاسکتے تھے جس میں سب سے اہم نام فیض احمد فیض کا ہے۔ اب سویت یونین کا ٹارگٹ اس خواب کی تعبیر تھا جو پیٹر دی گریٹ نے گرم پانی تک رسائی کا دیکھا تھا اور اس کے لیے وہ پہلے ہی وسطی ایشیائی ممالک پر قبضہ کر چکا تھا اب افغانستان کے راستے بحر ہند تک پہنچنا چاہتا تھا۔

1979 جب سوویت یونین کی فوج افغانستان میں داخل ہوئیں تو ایک نئی سرد جنگ کا آغاز ہوگیا اس جنگ میں امریکہ جو دوسری جنگ عظیم میں سوویت یونین کا اتحادی تھا آپس میں آمنے سامنے ہوں گے اور چین جو کہ کمیونسٹ ملک ہونے کے باوجود اس کا زیادہ جھکاؤ امریکہ اور مجاہدین کی طرف رہا اور اسی وجہ سے اس وقت چین جس کا دنیا میں بہت کم اثر رسوخ تھا veto powerدے دی گئی۔ 1989 میں میں جب سوویت یونین کی شکست کھا کر واپس چلا گیا اور اس کے حصے بخرے ہو گئے۔ سویت فوج کے جانے کے بعد افغانستان میں ایک طویل کی خانہ جنگی کا دور دورہ رہا۔
اور پھر آخر کار 1996 میں جب طالبان نے حکومت قائم کرلی اور شریعت محمدی نافذ کرکے امن قائم کرلیا اور خلافت کی روح تازة کر دی ابھی افغان حکومت نے نے میں نے سکھ کا سانس لیا ہی تھی کہ 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعہ کا بہانہ بنا کر کر جس کے مصدقہ حقائق آج تک معلوم نہ ہوسکے۔

یہ بھی پڑھیں:

موروثی ڈکٹیٹر

امریکہ 46 ممالک کی نیٹو افواج کے ساتھ افغانستان پر چڑھ دوڑا۔ ایک طرف چھیالیس ممالک کی ویل ڈسیپلنڈ، جدیداسلحہ، ڈرونز اور ٹینکوں سے لیس فوج تھی اور دوسری طرف بچاس ہزار طالبان جن کا خدا تعالی کے سوا کوئی اتحادی, مددگار نہ تھا۔ 20 سال بعد یہ تمام طاغوتی طاقتیں اپنی عبرتناک شکست کے ساتھ فرار ہو رہی ہیں جس کی مثال نہیں ملتی۔ دنیا بھر کا سیکولر لبرل طبقہ جو امریکہ کی آمد پر بغلیں بجا رہا تھا آج ان کی صفوں میں ماتم بچھا ہوا ہے اب دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو رہی ہے۔ کمال بصیرت کے حامل شاعر اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔
جہان نو ہو رہا ہے پیدا وہ عالم پیر مر رہا ہے
جسے فرنگی مقامرون نے بنا رکہا تہا کمار خانہ

نوٹ: نیوز نامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے