Urdu News and Media Website

جھنگ:اقراء تربیت الاطفال سکول کی افتتاحی تقریب ، مولانا پیر ذوالفقار علی نقشبندی نے صدارت کی

جھنگ(ملک شفقت اللہ) اقراء تربیت الاطفال سکول کی افتتاحی تقریب کا انعقاد مولانا پیر ذوالفقار علی نقشبندی کی زیر صدارت کیا گیا۔جس کا مقصد عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم سے بھی بچوں کو گلفشاں کرنا اور انہیں ابدالی راستے پر چلانا ہے۔تقریب میں سماجی شخصیت فیصل منظور انور، معروف سرجن اور ادبی شخصیت ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ، معروف کالم نگار ملک شفقت اللہ، نوجوان سیاسی لیڈر مولانا عمیرالغزالی، سماجی کارکن ڈاکٹر رائے انصر صدیقی نے خصوصی طور پر شرکت کی۔

مولانا پیر ذوالفقار علی نقشبندی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ہی ہمارا حقیقی محور حیات اور منشور حیات ہے۔ علم کی بنیادی اکائی اسلامی تعلیمات ہیں، جب تک بچوں کو اس سے روشناس نہ کروایا جائے تب تک عصری تعلیم بھی بے سود رہے گی۔ہمارے ملک کی آزادی کے پیچھے بڑا مقصد یہی تھا کہ مسلمان ایک الگ ریاست میں ٹھیک ٹھیک خدائی نظام شریعت کی پریکٹس کر سکیں۔ہمارے ملک کو ابدالیوں کی ضرورت ہے جو ان شاء اللہ اس ادارے سے پیدا ہو کر جائیں گے۔

ڈاکٹر نیاز علی محسن مگھیانہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بچے ملک کا مستقبل ہیں اور اس وقت ایسے ادارے کی ضرورت ہے جو عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم و تربیت پر بھی زور دے۔ہم اسلامی معاشرے کے قیام کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن اس کیلئے ضروری ہے کہ آنے والی نسلوں کو اسلام کی اصل سے روشناس کروایا جائے۔کالم نگار ملک شفقت اللہ کا خطاب میں کہنا تھا کہ بے شک ترقی و استحکام کا حقیقی راز قرآن و حدیث اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں ہی پنہاں ہے، جسے سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔مغرب کی تمام تر ایجادات مسلمان سائنسدانوں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، مغربی دنیا میں ترقی وہاں مسلم معاشرے کے قیام سے ہوئی اور مغرب نے ترقی کا سفر وہیں سے شروع کیا جہاں مسلم سائنسدانوں نے چھوڑا تھا۔ عصری تعلیم قرآنی ہدایت اور راہنمائی کے بغیر اندھیر نگری کے سوا کچھ نہیں

۔صاحبزادہ حافظ محمد عمیرالغزالی، رائے انصر صدیقی اور فیصل منظور انور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تعلیمی اداروں کی ضرورت ہے جو ملک و ملت کی صحیح عکاسی کریں، اسلامی تعلیمات کا پاسبان ہو۔آنے والی نسلوں کی دینی اور دنیاوی دونوں طرح سے تربیت کرنی چاہئے۔ تقریب میں ایڈووکیٹ علی زیب مگھیانہ، سعید انصاری، علی سفیان، حسن معاویہ اور قاسم عثمانی سمیت دیگر سماجی شخصیات نے شرکت کی۔

تبصرے