Urdu News and Media Website

"جمہوری تماشا” اور "مہنگائی کا رقص”

تحریر:امجد عثمانی۔۔۔۔۔

ضیا شاہد

وطن عزیز کے قیام کو پون صدی ہو گئی…..شومئی قسمت کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان پچھتہر سال میں اسلامی بنا نہ جمہوری…..برس ہا برس سے جمہوریت کے نام پر ایک”جمہوری تماشا” برپا ہے……جمہوریت جہاں سے "طلوع "ہوئی وہاں جمہوریت کا مطلب عوام کی حکومت ،عوام کے لیے حکومت اور عوام کے ذریعے حکومت ہے…….بدقسمتی سے ہمارے ہاں "ناک کٹی جمہوریت” ہے….”مکروہ چہرہ جمہوری منظرنامے” میں بے چارہ عام آدمی ووٹ کی پرچی پر ٹھپہ لگانے کے سوا کسی”کھاتے” میں نہیں آتا…….یہاں کبھی عوام کی حکومت ہوئی ہے اور نہ ہی عوام کے لیے حکومت بنی ہے…..عوام کے ذریعے حکومت پر بھی طرح طرح کی "چہ میگوئیاں”ہوتی رہتی ہیں……!!!!

المیہ یہ ہوا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے بعد سیاسی قیادت کے بجائے "سیاسی اشرافیہ” جھونک کی طرح ملک سے چمٹ گئی….یہ وہ "خواص”ہیں جن کے نزدیک "عوام کالانعام ” ہیں……..جدھر چاہو ہانک دو….جو چاہو کہہ دو کہ وہ کون سا سنتے سمجھتے ہیں…..؟؟؟؟افسوسناک امر یہ ہے کہ اب تو "بازار سیاست” میں” کثافت”اتنی بڑھ گئی ہے کہ "نفاست” منہ چھپائے پھرتی ہے……..عوام مسائل کی” دلدل” میں دھنستے جا رہے ہیں مگر نام نہاد "جمہوریے” بیچ چوراہے باہم "دست و گریبان” ہیں…..ایک رہنما "سیاسی کیچڑ”میں کنکر مارتا ہے تو "دوسرا قائد”آگے بڑھ کر پتھر پھینک دیتا ہے…..دونوں کے "گریبان چاک” اور”دامن خاک” ہیں مگر وہ پھر بھی "جمہوریت "کے علمبردار بنے فخر محسوس کرتے ہیں……….!!!ا

دنیا بھر میں حکومتیں بنتی ٹوٹتی ہیں…..ہمارے ہاں بھی کئی وزرائے اعظم آئے اور چلے گئے مگر "کپتان” کی صرف ایک سال پہلے جمہوری طریقے سے "رخصتی "کے بعد تو ایک کہرام سا مچا ہوا ہے……یوں لگتا ہے کہ بیساکھیوں کے سہارے کھڑی حکومت نہیں گری "خلافت عثمانیہ” کا انہدام ہو گیا ہے……..!!!خان صاحب "سازشی خط”کے لفافے میں "کئی ایک سازشیں” لیے شہر شہر” دہائی” دے رہے ہیں مگر کہیں بھی اپنی پونے چار سالہ” گورننس”پر اظہار خیال نہیں کرتے…….کیا یہ سچ نہیں کہ جناب کے دور حکومت میں غربت کا گراف خوفناک حد تک بڑھا اور مہنگائی ہی ان کے خلاف سب سے بڑی سازش تھی…..؟یہ بھی لطیفہ ہی ہے کہ موصوف حوالے تو نیلسن منڈیلا اور مہاتیر کے دیتے ہیں مگر عملی طورپر وہ ان عالمی شخصیات کے کسی ایک قول پر بھی پورا نہیں اترے…..!!

اچھا ہوتا کہ وہ اپنے دور کی”چیختی چنگھاڑی مہنگائی” کا اعتراف کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں بیٹھ کر وضع داری سے تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرتے…….کھلے دل سے ایوان کا فیصلہ قبول کرتے اور حکومتی بنچوں سےاٹھ کر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھ جاتے…….نئے وزیر اعظم کو خوش آمدید کہتے اور انہیں مہنگائی ختم کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے عوام میں چلے جاتے تو آج وہ واقعی ایک قد آور لیڈر کے طور پر سامنے آتے مگر افسوس کہ وہ بھی تریخے انصاف والے "راجہ ریاض "کا قدرے” ماڈرن ورژن "ہی نکلے……سوال ہے کہ اگر خان صاحب کو صوبائی اسمبلیاں عزیز تھیں اور کوئی ضمنی الیکشن بھی نہیں چھوڑنا تھا تو پھر قومی اسمبلی کیوں چھوڑی؟؟کیا "اجتماعی استعفے” بھی "سیاسی ناٹک”ہی تھا؟؟

خان صاحب تو خان صاحب یہاں تو گجرات کے انتہائی” معتدل چودھری” بھی "سیاسی توازن "کھو بیٹھے….. جناب پرویز الہی اچھے بھلے نیک نام سیاستدان گردانے جاتے ہیں…..کپتان کے” چکر” میں وہ خواہ مخواہ بدنام ہوگئے….اچھا ہوتا وہ بھی حمزہ شہباز کو بطور وزیر اعلی ویلکم کہتے کہ ان پاس اکثریت تھی….پنجاب اسمبلی کو” فتح” کرنے کے بجائے سپیکر شپ چھوڑ دیتے اور اپوزیشن لیڈر کے طور پر میدان میں اترتے تو مہنگائی کے اس طوفان میں عوام کی آواز بن کر پنجاب کے مقبول ترین لیڈر ٹھہرتے ……!!!
تبدیلی سرکار تو قصہ ماضی ہوئی اب تجربہ کاروں کا امتحان ہے…..عمران دور میں بھی مہنگائی بڑا مسئلہ تھا اور شہباز حکومت میں بھی مہنگائی بڑا چیلنج ہے……اب تو تاریخ کی "بدترین مہنگائی” کا یہ عالم ہے کہ ایک مزدور ایک وقت میں دو روٹیاں کھانے کا سوچ بھی نہیں کر سکتا……بقول جناب انور مقصود اس قدر مہنگائی میں صرف ریاضی کا استاد گذارہ کر سکتا ہے….. وہ روٹی کے ساتھ دال ،سبزی،گوشت اور سالن "فرض” کر لے گا…….م پی ڈی ایم نامی اتحاد نے”عمران ہٹائو مہنگائی مکائو”کا نعرہ لگا کر اپنی مرضی سے اقتدار سنبھالا……کسی نے جبر کرکے حکومت ان کے حوالے نہیں کی…..شرمناک بات یہ ہے کہ اب گیارہ جماعتوں کے یہ” انقلابی لیڈر” مہنگائی کے موضوع پر” آئیں بائیں شائیں” کر رہے ہیں…….کئی تو” لال پیلے” ہوتے ہیں….سوال گندم ہوتا ہے اور جواب چنا دیتے ہیں…….صد افسوس کہ مہنگائی کے مارے عوام کس سے شکوہ کریں کہ تب بھی” باتیں” ہی تھیں اور اب بھی "بھاشن” ہی ہیں…..پہلے بھی عرض کیا تھا کہ” لیکچرز” سے نظام حکومت چلتا تو پھر خان صاحب تو پورے "پروفیسر” ہیں اور ہینڈسم بھی…..مکرر عرض ہے کہ کپتان سے اپنی تخلیق کردہ” عمران سیریز”نہیں چلی تو میاں صاحب ان سے منسوب” قصے کہانیاں” کیسے بیچیں” گے….”دشنام طرازی "سے کامیابی ملتی تو خان صاحب ملک کی تاریخ کے کامیاب ترین حکمران قرار پاتے…….یاد رہے کہ بشری بی بی کا "تحفے والا ہار” اور فرح گوگی کا”کمرشل پلاٹ” نہیں مہنگائی اور صرف مہنگائی عوام کا مسئلہ ہے……عوام” ماہی بے آب” کی طرح تڑپ رہے ہیں مگر ایوان اقتدار میں بیٹھے” عالی دماغوں” کی غیر سنجیدگی دیکھیں کہ مفتاح اسماعیل صاحب ایسا "ذمہ دار عہدیدار "میڈیا کے سامنے مسکراتا اور مہنگائی سے چور چور عوام کے زخموں پر نمک چھڑک کر چلا جاتا ہے……کوئی "شہباز حکومت” کے” خوفناک وزیر خزانہ "کو بتائے کہ بھیا!عام انتخابات کا "نقارہ” بجنے والا ہے….کبھی سوچا آپ اور آپ کے "تجربہ کار اتحادی”کس منہ سے سسکتے بلکتے عوام کے پاس جائینگے؟؟؟

 

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے