Urdu News and Media Website

جغرافیے سے نظریے تک

تحریر:غلام قادر      سارا دن مزدوری کے بعدکسی کی روٹی پوری نہ ہوئی اور کسی کا بھوک سے بلکتا بچہ دودھ کی آس میں راہ تکتہ سو گیابیماری سے سسکتی زندگی اذیت تھی یا دوا کیلئے پیسے نہ ہونے پر موت ۔ پانی دنیاء کیلئے زندگی مگر میری قوم کے بچو ں کیلئے موت اورانکے اس حال کے ذمہ داروں کو کوئی پرواہ نہیں بات یہاں رکتی تو شائد ٹھیک مگر جان و مال سے شروع ہونے والا سلسلہ اب ایمان تک جاپہنچا ۔ میں اچھا انسان نہیں شائد اچھامسلمان بھی نہیںلیکن کچھ تھا؟ کچھ تھا میری زندگی کا اثاثہ کچھ میر ی نسلوں کا فخر۔ کچھ ایسا جو میرے سارے غم بھلا دیتا ہے۔ کچھ ایسا جو دونوں جہانوں میں کامیابی کا یقین بنا دیتا ہے۔ میری نماز ، روزہ، حج، زکوۃ قبول بھی ہوئے نہیں پتا۔ مگر محمد مصطفیﷺ کا امتی ہونا آپ ﷺ سے محبت ہونا یہ واحد اثاثہ ہے۔ آج اس پر ہونے والے پہ درپہ حملے یہ ثابت نہیںکرتے کہ اسلام کے قلعے کو آج سامنا ہے غداروں کایہ صرف ہمارے ایمان پر حملے نہیں بلکہ اس ملک کی بنیاد پر حملے ہیںآج کے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں گستاخ کی حمایت کرنے والوں کو تو استثنیٰ، مگر محبت رسولﷺ میں لبیک کہنے والا شہید ، جو حکمران گستاخ کو کرسی سے نہ اٹھا سکے انہوں نے عاشق رسولﷺ کو تختہ دار تک پہنچا دیا، یہاں کوئی گستاخ کے حق میں موم بتیاں جلائے کروڑوں عوام کے جذبات مجروح کرے تو آزادی اظہار رائے اور نام نہاد انسانیت اگر کوئی جذبات میں آکر ان موم بتیوں کو بجھائے تو دہشتگرد سالوںقید کا مستحق گستاخ بلاگرز تو سماجی ورکر اور برملا گستاخیوں کے باوجود آزاد مگر محبت رسولﷺ کی بات کسی کیلئے انتہا پسندی اور کسی کیلئے اشتعال انگیزی مرکز ایمان محبت رسولﷺ سے شروع ہونے والا سلسلہ آج ختم نبوت پر جاپہنچا۔ انفرادی طور پر شروع ہونے والا سلسلہ آج وقت کے سیاستدانوں کی مشترکہ پالیسی بن چکا۔ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے لیے مسودہ لکھا گیا۔ کابینہ میں پرکھا گیا۔ سینٹ میں پیش کیا گیا اور ووٹنگ کے بعد منظور ہوا کیا ووٹ ڈالنے والوں کو یہ نہیں پتہ کہ وہ کس چیز کیلئے ووٹ دے رہے ہیں؟ کیا یہ ممکن ہے ختم نبوت جیسے حساس معاملے میں ترمیم کیلئے ووٹنگ ہو رہی ہو اور ووٹ دینے والوں کے پاس اس کا مسودہ نہیں تھا؟ یا انہوں نے پڑھا نہیں تھا؟ یا سب کے سب کو ہی پتہ نہ چلا ؟ اگر ایسا نہیں تھا تو پھر مجھے بھی مجرم چاہیے 20 کروڑ کے ایمان کے مجرم اس ملک کی بنیاد کے مجرم اگر سارا میڈیاسارے ادارے اس ملک کے پیسے لوٹنے والوں یا کرپشن کرنے والے مجرم تک پہنچنا چاہتے ہیں تو میں کڑوڑوں عوام کے ایمانوں پر ڈاکا ڈالنے والوں کو کیسے چھوڑ دوںــ؟ کیا پیسہ ایمان سے زیادہ قیمتی ہے؟ اور اب بھی وہ کہتا ہے ہوا کیاہے؟ میں پوچھتا ہوں بچا کیا ہے؟ ان واقعات کاتسلسل محظ اتفاق نہیں بلکہ کھلی سازش ہے۔کیونکہ آج دنیا یہ باور کرچکی ہے کہ جس نے بھی ترقی کرنی ہے تو اسکا راستہ پاکستان سے ہو کر گزرتا ہے۔کہیں سی پیک کی شکل میں کبھی گوادر کی صورت میں۔ چنانچہ اب دو ہی آپشن تھے نمبر1۔ پاکستان کے ساتھ جڑ کر چلا جائے ۔نمبر 2 ۔ پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق توڑ دیا جائے ۔دنیا نے دوسرے پر اتفاق کیا کسی نے ایم کیو ایم کو پالا اور اس کے قائد کو پناہ دی کسی نے اسلحہ اور کسی نے مختلف فورم پر اخلاقی حمایت مہیاء کی۔ کسی نے تربیت اور کسی نے پناہ گاہیںکسی نے بلوچ علیحدگی پسندوں کو پیدا کیاکسی نے اپنے پاس رکھا اور استعمال کیا۔ جب کئی دہائیوں کے بعد سارا پیسہ ساری کوشش کے بعد دنیا اسکا نتیجہ یا یوں کہوں کہ ہمارا تماشہ دیکھنے کی منتظر تھی تو پاکستان کی فوج نے منظر نامہ یکساں بدل کر رکھ دیاکسی کو پسپائی ہوئی کوئی بھاگ گیا اس شرمناک شکست نے دشمن پر یہ عیاں کردیا تھا کہ اس قوم کو کبھی جنگ کے ذریعے شکست نہیں دی جا سکتی تو ایسے میں پلان بی سامنے آیا یعنی اس قوم کی اساس کو چھیڑا جائے اور اس حد تک چھیڑا جائے کہ لوگوں کا ریاست اور ریاستی اداروں سے اعتبار اٹھ جائے۔ کوئی بھی پاکستانی پاکستان کے نام پر اپنی جان، مال ، عزت ، تعلیم ، صحت ، انصاف ،روزگار کسی بھی چیز پر سمجھوتہ کر سکتا ہے مگر ، سمجھوتا نہیں ہو سکتا تو عزت رسول ﷺ پر شایداسی چیز کو سامنے رکھتے ہوئے آج پھر حملہ آور ہے غدارایسے مینڈیٹ کی عزت کی بات کرتے ہیں جو حاصل کیا گیا کسی کے نااہل بیٹے کو سرکاری نوکری دلوا کر کسی گلی اور نالی کے نام پر ایک طرف وہ مینڈیٹ جو پانچ سال کیلئے ملا اور دوسری طرف اس قوم کے بزرگوں کا ووٹ۔ وہ ووٹ جو پاکستان بنانے کیلئے دیا گیا۔ وہ ووٹ جو محض ایک پرچی نہیں بلکہ قربانیوں کی لازوال داستان ہے۔ پاکستان کو بنانے کیلئے ہمارے بزرگوں نے جو ووٹ دیاوہ ووٹ کی ایک پرچی نہیں بلکہ خون سے لکھی ایک عبارت ہـے کہ ـــپاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ، اور یہ مینڈیٹ قیامت تک کوئی نہیں بدل سکتا پاکستان اسلام کے نام پر بنا اسلام اسکی بنیاد بھی ہے اور بقاء بھی اور اسلام کامرکز محبت رسولﷺ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں محبت رسولﷺ پر یکے بعد دیگرے حملے یہ چیخ چیخ کر اعلان کر رہے ہیںکہ اب سامنا دشمنان وطن کے ساتھ ساتھ غدار ان وطن کا بھی ہے کسی قلعے کی دیواریں کتنی بھی مضبوط ہوں جب بنیاد یں ہلتی ہیں تو دیواریں گرانی نہیں پڑتی بلکہ گر جاتی ہیںجغرافیے کی حفاظت کی چاہت میں ایٹم بم تک پہنچ جانے والوں کو ایک بار ضرور سوچنا چاہیے جب نظریے (نطریہ پاکستان) کو پس پشت ڈال دیا جائے تو سرحدیں اپنی رہتی ہیں نسلیں اپنی نہیں رہتی۔ زمین کاٹکڑا بچ جاتا ہے مگر وہ ٹکڑا حاصل کرنے کا مقصد ختم ہو جاتا ہے۔

تبصرے