Urdu News and Media Website

جشن آزادی اور ہم

تحریر:عتیق الرحمان خاں۔۔۔
چوہدری
روشن مستقبل کے سہانے خواب آنکھوں میں سجائے عظیم کا جہاز دبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ پر لینڈ کر گیاانجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد عظیم کا جاب کے سلسلہ میں یہ کسی بھی ملک کا پہلا سفر تھا

گھر اور اپنوں سے دوری کا غم اور دبئی کی رنگینوں کا ملا جلا نقش ذہن کو مصروف کئے ہوئے تھا کہ جہاز سے اترنے کا وقت آگیا امیگریشن کلیئر کرنے کے بعد عظیم کی نئی زندگی کا آغاز ہو گیا آج وہ مواطن سے خارجی ہو گیا تھا لیکن ابھی شاید اس کو اس بات کا احساس نہیں تھا کہ وطنی اور خارجی میں کیا فرق ہوتاہےوقت گزرنے کیساتھ ساتھ زمانہ خود اس کو اپنے ملک کی قدرو منزلت کا مقام سمجھا دے گا

پاکستان کی طرح دبئی میں بسنے والے پاکستانی بھی اپنے جشن آزادی کو منانے کیلئے بھر پور تیاریوں میں مصروف تھے یہاں پر پاکستانیوں میں جشن آزادی منانے کا جوش و جذبہ دیکھ کر اس کی خوشی میں اور اضافہ ہوگیا

دبئی میں پہلے سے سیٹل دوست جس کے بلانےپر وہ دبئی پہنچا تھااس دوست کے والد صاحب عرصہ 40سال سے دبئی میں مقیم تھے اور ایلومینیم کے کاروبار سے وابستہ تھےآج انہی کے یارڈ میں پاکستانیوں کا جشن آزادی کی تقریب کے اہتمام کے سلسلہ میں اجلاس تھا جس میں تمام نئے اور پرانے دوستوں کو مدعو کیا گیا تھا

سب دوستوں نے تقریب کے حوالے سے اپنی اپنی رائے دی پروگرام باہمی رائے سے طے پا گیااجلاس کے سربراہ جوکہ عظیم کے والد کے دوست تھے انھوں نے دوستوں سے مشاورت کی کہ کیوں نہ اس تقریب میں اپنے رباب یعنی جس کے ویزہ پر وہ دبئی میں کام کر رہے تھے اس شیخ کو بھی مدعو کر لیا جائےسب نے بخوشی ہاں کر دی کہ یہ بھی خوب رہے گا کہ ان کا رباب بھی جشن آزادی تقریب میں شامل ہوکر ان کی محفل کی رونق کو بڑھا دے گا

طے یہ پایا کہ ابھی اس کے گھر جا کر اس کو تقریب کادعوت نامہ دیا جائےوہ صاحب اٹھے اور ساتھ ہی عظیم کے دوست کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولے بیٹا یہ اپنی گاڑی کی چابی تو مجھے دینامجھے رباب کے گھر تک جانا ہےعظیم ان کی یہ بات سن کا کچھ سمجھ نہ سکا کہ ان صاحب کی مالی حیثیت تو کروڑوں درہم کی ہےان کا بزنس اتنا وسیع ہے کہ ان کے اپنے گیراج میں کئی کئی گاڑیاں ایک وقت میں موجود رہتی ہیں اور جبکہ ان کے پاس ان کی اپنی لینڈ کروزر جو کہ انھوں نے ابھی چند ہفتے پہلے ہی خریدی تھی وہ باہر موجود ہےاس کے مقابلے میں اس کے دوست کی گاڑی پرانا ماڈل اور لینڈ کروزر کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر وہ ان کا گاڑی کی چابی کیلئے بڑھا ہوا ہاتھ دیکھ کر تلملا سا گیابے ساختہ اس کہ منہ سے نکل گیا انکل آپ اپنی لینڈکروزر پر کیوں نہیں جا رہے

عظیم کی بات سن کر ان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ کے واضح آثار نظر آنے لگےگویا ہوئے بیٹا آپ ابھی نئے ہیں ان باتوں کو سمجھنے کیلئے آپ کو ابھی ٹائم لگے گا ہمیں بھی یہ باتیں وقت نے بہت تھپیڑوں کے بعد سکھائی ہیں سب کچھ سن کر بھی عظیم ایک چھوٹے معصوم بچے کی طرح ان کے چہرے کوبے ساختہ تکے جا رہا تھاعظیم کے دوست کے والد سے یہ سب دیکھ کر رہا نہ گیا اور دوست کو متوجہ کرتے ہوئے بولے سب بچے کو بتاتے کیوں نہیں کیوں اس کو امتحان میں ڈال رکھا ہے

انھوں نےپیار سے عظیم کا ہاتھ پکڑا اور بولے کیا آپ کو میرا لینڈکروزر پر بیٹھنا اچھا نہیں لگتامیرا خیال ہے کہ آپ نہیں چاہتے کہ میں یا میرے بچے اس لینڈکروز پرسفر کریں عظیم نے فورا جواب دیا انکل اللہ نہ کرے اللہ تعالی آپ کو اور زیادہ ترقیاں دے تو بیٹا اسی ترقی کے سفر کو سموتھلی جاری رکھنے کیلئے تو میں آپ کے دوست کی گاڑی پر اپنے رباب کے پاس جا رہا ہوں مگر یہ سب باتیں ایک بار پھر عظیم کے سر کے اوپر سے گزر گئیں

عظیم کے دوست کے والد نے ایک زور دار قہقہہ بلند کیا کہ آپ پڑھے لکھے ضرور ہیں مگر آپ نے ابھی تک زمانے کی اور پھر دبئی کے زمانے کی کتاب نہیں پڑھی اس لئے بیٹھو میں تمہھیں سمجھاتا ہوں اور دوست کو جانے کا اشارہ کیا کہ تم جائو اور کام ختم کرکے فورا واپس آئو ابھی اور بھی بہت سے کام کرنے باقی ہیں وہ تو گاڑی کی چابی لیکر روانہ ہوئے تو انکل بولے بیٹا یہ ہمارا اپنا وطن نہیں ہے یہاں پر ہم خارجی ہیں دوسرے ملک کے باشندے ہیں اس لئے جوحقوق وطنی کو حاصل ہیں وہ خارجی کو نہیں ہیں

میرے دوست اپنی لینڈ کروزرپر اپنے رباب کے پاس اس لئے نہیں گئے کہ کاروبار تو یہ سارا ان کا ہے مگر ہے سب کچھ ان کے رباب کے نام پر ہے وہ جب اورجس وقت چاہے ان کو اس کاروبار سے فارغ کر سکتا ہے جس کی بہت سی مثالیں یہاں پر تجربہ سے گزر چکی ہیں کہ خارجیوں نے کئی سالوں کی محنت اور جدوجہد کے بعد کچھ مقام بنایا اور ان کے رباب نے ایک لمحہ میں ان کی زندگی کی جمع پونجی سمیٹتے ہوئے ان کوخالی ہاتھ انکے ملک واپس بھیج دیا یا کوئی سنگین الزام لگا کر جیل میں سڑنے کیلئے ڈال دیا میرے دوست اس لئے بھی محتاط ہیں کہ ان کے رباب کے سامنے ان کی حیثیت کم نظر آئے اور ایسا بھی نہ ہو کہ وہ لینڈ کروزر پر جائیں اور رباب کو وہ پسند آجائے اور وہ اس کو یہ تک کہ دے کہ اس گاڑی کو یہیں پر چھوڑ دو یہ مجھے پسند آگئی ہے

ایسی صورتحال میں نہ وہ گاڑی چھوڑنے کے قابل رہے اور نہ رباب کی مخالفت مول لے لےعظیم بے ساختہ بولا انکل یہ تو سراسر ظلم ہےانھوں نے کہابیٹا ان سب باتوں کا ہمیں بھی اندازہ یہاں آکر ہی ہوا کہ اپنے وطن کی کیا اہمیت ہوتی ہے اس سے پہلے جب ہم اپنے بڑوں سے پاکستان بننے کے دوران سہنے والے ظلم وستم قتل وغارت اور ہونے والے نقصانات کی کہانیاں سنتے تھے کہ شاید قائد اعظم کو ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا ہم سب کو ایک ہی جگہ مل کر رہنے میں کیا حرج تھا تو وطنی اور خارجی کے فرق نے ہمیں یہ سب سکھا دیا ہے کہ اپنے وطن کا ہونا ہی زندگی کی بقا ہے

عظیم نے کہا انکل یہ تو پھر اسی ملک میں ایسا ہوتا ہوگا اور غریبوں کو ہی دوسرے ملک میں پریشان کیا جاتا ہوگابیٹا ایسا نہیں غریب تو غریب امیر بھی دوسرے ملک میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا جب چاہیں اور جس وقت چاہیں اپنے ملک سے نکلنے کا آرڈر دے دیں اب آپ مجھے یہ بتائیں کیا میاں نواز شریف کم سرمایہ دار ہیں ہم نے تو یہاں آکر محنت مزدوری کرکے ایک عمر کے بعد یہ مقام حاصل کیا ہے مگر وہ تو بزنس مین اور اربوں کے مالک ہیں اپنا پیسہ پاکستان سے لا کر ان کے ملک میں سرمایہ کاری کی ہے جس کا ان کو کسی بھی نقصان کے بغیر فائدہ ہی فائدہ ہے مگر ان کو بھی برطانیہ کی حکومت نے ویزہ میں مزید توسیع دینے سے انکار کر دیا ہے اب بھی ان کی مرضی ہے کہ وہ چاہیں تو ان کو اپنے ملک میں رہنے کی اجازت دیں وگرنہ جب چاہیں ان کو اپنے ملک سے نکلنے کا الٹی میٹم دے دیں

اس ملک میں وہ خارجی ہونے کیوجہ سے بے یارو مددگار ہیں جبکہ اپنے ملک میں جب وزیر اعظم تھے تو مودی جیسے شخص کو بھی بغیر کسی ویزہ کے اپنے ملک میں بلوا لیا تھا اور یہ کوئی ایک واقعہ نہیں تھا اپنے بزنس کی خاطرانڈین جندال کو بھی بغیر سفری دستاویزات کے اپنے مری رہائش گاہ تک لے گئے تھے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں تھا فرق صرف یہ تھا کہ پاکستان میں یہ وطنی تھے اور برطانیہ میں یہ خارجی ہیں

جشن آزادی کا منانا اس کی اہمیت وہی جان سکتا ہے جو کہیں دیار غیر میں ملک کی قدر کا سبق لیکر آیا ہومیرے خیال بلکہ یوں کہیں کہ ہم سب دوستوں کا خیال ہےکہ اپنے بچوں کو چاہے کچھ عرصہ کیلئے ہی کیوں نہ ہودیار غیر کی یاترا ضرور کروانی چاہیئے تاکہ ان کو اپنے ملک کی قدر کا اندازہ ہو جائے پھر جشن آزادی کامزہ ہی دوبالا ہوجائے پھر جشن آزادی ہو اور ہم ہوں

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریر لکھاری کی ذاتی رائے ہے، ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرے