Urdu News and Media Website

بڑھک باز کو ہماری ضرورت پڑ ہی گئی!!!

تحریر: ڈاکٹر میاں احسان باری۔۔
اسلام دشمن قوتوں ہندو بنیوں یہود و نصاریٰ اور بڑھک باز بڑے سامراج کا اتحاد بھی کسی کام نہ آسکا اور رد عمل کے طور پر امریکہ کی پاکستان کو اونٹ کے منہ میں زیرہ والی امداد بھی بند کردی گئی حالانکہ وہ کولیشن سپورٹ رقم تھی اور37ارب نہیں بلکہ صرف19ارب بھیجے گئے ہم نے جو اس نام نہاد امریکی جنگ میں سپورٹر بن کر 70 ارب روپے کی معیشت کا نقصان کیا ہے وہ کس کھاتے میں جائے گا؟ اور جو ہزاروں افراد ہماری پاک افواج،رینجرز ،پولیس اور پھر سویلین آبادیوں کے شہید ہوئے ان کا احساس تک امریکنوں کو اسلئے نہ ہے کہ اب ان کا صدر ٹرمپ قلیتاًیہودیوں کے ٹریپ میں ہے وہ صدارتی انتخابات کے دوران ہی اسلام دشمن تقریروں مسلمانوں کا قتل عام کروانے ،مساجد کو آگ لگوانے کا”چیمپئن ” بن چکا تھا اب جیتتے ہی یہ اعلان کہ فلاں فلاں مسلمان ممالک کا امریکہ میں داخلہ بند رہے گا اور یہ کہ تمام مسلمانوں کو امریکہ سے نکال کر ہی دم لیں گے اور ابھی سے وہاں کے برسوں کے رہائشی مسلمانوں کا ناک میں دم کر رکھا ہے حال ہی میں فلسطین کی سرزمین میں اپنا سفارتخانہ منتقل کرنے کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور پھر جنرل کونسل میں شرمناک شکست پانے کے بعد بھی میں نہ مانوں کی ہٹ دھرمی جاری ہے اور جن جن ممالک نے امریکہ کے خلاف ووٹ دیا ان کی بھی امداد بند کرڈالنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں مگر مسلمانوں کے57ممالک کی اس کے خلاف قرار دادوں کے باوجود مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کا ظرف دیکھیں کہ ابھی تک نیٹو فورسز کو خوراک پہنچانے والے کنٹینروں کو اپنی سرزمین سے گزرنے پر پابندی عائد نہیں کی تاکہ اسلام کے زریں اصولوں کے عین مطابق افغانستان میں کئی ممالک کی مشترکہ افواج کے جوان بھوکوں نہ مرنے لگیں ۔اور ٹرمپ کے بیوقوفانہ ٹویٹس کو در خور اعتنا نہ سمجھتے ہوئے 57اسلامی ممالک نے اپنے تجارتی تعلقات بھی ابھی تک امریکہ سے منقطع نہیں کیے اور نہ ہی اپنے ممالک سے سفارتخانوں کو بند کرنے کااعلان کیا ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو امریکہ کی ڈوبتی ہوئی معیشت مکمل بیٹھ جائے گی ۔ٹرمپ کا فلسطینی پاک سرزمین پر اپنا سفارتخانہ شفٹ کرنا مسلمانوں کے سینوں میں خنجر گھونپنے کے مترادف تھا ان تمام اوچھی حرکات کرنے کے بعد بھی ٹرمپ نے معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کیا اور افغانستان میں بھی اس کی اتحادی افواج چومکھی لڑائی لڑ رہی ہیں اور اپنی افواج کو وہاں سے نکال لے جانے کے سابق صدر اوبامہ کے فیصلے سے بھی منحرف ہو کر مزید فوجیں اسلامی افغانستان میں اتارنے کا نا معقول فیصلہ کر ڈالا ہے خواہش یوں لگتی ہے کہ وہ افغانستان سے قیمتی معدنیات چراکر لے جاسکیں حال ہی میں پاکستان نے تو پھر بھی طالبان سے امریکنو ں کے مذاکرات کے لیے پاک سرزمین دے ڈالی ہے اور پاکستان کے اندر دس روز تک بڑے سامراج نے طالبان سے مذاکرات جاری رکھے اور بڑھک باز امریکی صدر کو پھر ہماری ضرورت پڑ ہی گئی!پاکستان کو تو ہمسایہ پر امن افغانستان ہی وارا کھاتا ہے نہ کہ یہ کہ وہاں سی آئی اے اور بھارتی را کے اڈے قائم ہوں ہم جو 35لاکھ سے زائد افغانیوں کو سالہا سال سے پناہ دیے ہوئے ہیں اور ان کی رہائش خوراک کا مکمل انتظام کیا ہے۔ کوئی مسلمان خصوصاً
مثبت سوچ رکھنے والے افغانی پشتون یہ تصور بھی نہیں کرسکتے کہ وہ پاکستان کے خلاف کوئی کاروائی کریں گے ایسی قبیح شرارتوں کے پیچھے بھارتی را اور امریکن سی آئی اے ہی نظر آتی ہے حالانکہ امریکنوں کو واضح طور پر پتہ ہے کہ اس کی فوجیں پاکستان کی امداد کے بغیر وہاں سے نکل بھی نہیں سکتیں ٹرمپ کو فوری چاہیے کہ پاکستان سے معافی کا طلبگار ہو اور ٹرمپ اپنا تھوکا خود ہی چاٹ لے وگرنہ آسمانوں کی طرف تھوکا ہوا اس کے اپنے منہ پر ہی آن گرے گا پاکستان جو کہ امریکی جنگ میں فرنٹ مین کا کردار ادا کرتا رہا ہے اسے پاکستان کے خلاف بات کرتے ہوئے بھی شرم آنی چاہیے رہی افغانی عوام کی بات تو انہیں آج تک کوئی شکست نہیں دے سکا۔افغانستان کی50 فیصد سے زائد سرزمین پر طالبان کا قبضہ اس کا واضح ثبوت ہے امریکن سی آئی اے کی پراکسی ملیشیأ ،خوست پروٹیکشن فورس (KPF) افغان سیکورٹی گارڈز (ASG)،قندھار سٹرائیک فورس( (KSF،کی طرز کی بلیک واٹر جیسی غنڈہ تنظیموں کے خلاف پشتون عوام ان کی غلیظ حرکات خواتین اور نو عمر بچوں کے اغواء کی وجہ سے سخت نفرت کر رہے ہیں اور ایسی غنڈہ گردیوں کی وجہ سے پشتون رضا کارانہ طور پر طالبان سے ہی جا ملتے ہیں اور اس طرح ان کی ہمدردیاں یک لخت تبدیل ہو رہی ہیں اور مذکورہ تنظیمیں ہی بھارتی راء سے مل کر پاکستان کے اندر وارداتوں میں مصروف رہتی ہیں دوسری طرف افغان کی اندرونی صورتحال یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ امریکی افواج کے نوجوانوں کو اپنے زیر زمین تہہ خانو ں میں رہنے کی وجہ سے ہفتوں تک سورج کی روشنی بھی نصیب نہیں ہوتی ۔ اور خود کشیاں کر رہے ہیں اور حال ہی میں امریکیوں کی دم چھلا افغانی حکمرانوں کے محلات کے قریب موجود کابل کے اندر انٹر کانٹینٹل ہوٹل پر حملہ اور درجنوں افراد کی ہلاکت جیسا واقعہ ہے جس کی پاکستان نے بھی سخت مذمت کی ہے ہماری بیش بہا قربانیوں کے بعد ہم سے ڈو مور کا مطالبہ ناجائز ہے در اصل ٹرمپ پاکستان کو دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے مگر جس طرح روس چین ،پاکستان و دیگر ایشیائی ممالک متحد ہوتے نظر آرہے ہیں تو بالآخر امریکہ کو اپنا بوریا بستر سمیٹ کر افغانستان سے نکلنا ہوگا یا پھر ٹرمپ کی بیوقوفیاں اس علاقہ کو ایٹمی جنگ میں جھونک ڈالیں گی امریکن عوام کا بھی ٹرمپ پر پریشر بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ پاکستان جیسے وار آن ٹیرر کے مخلص ساتھی کو نہ گنوائے اور اپنے تعلقات مزید مستحکم کرے وگرنہ ذلت و رضالت بحر حال امریکنوں اور ہنو د و یہود کی قسمت میں لکھی جاچکی ہے اور اس کا نوشتۂ دیوار صاف پڑھا جاسکتا ہے اور جب تک امریکی افواج کابل میں موجود ہیں وہ پاکستان کے بغیر سراسر گھاٹے میں رہے گا۔دریں حالات ہم پاکستانیوں کو نہ تو نیٹو فورسز اور نہ ہی طالبان کا پاس ہے کہ ہم تو ہمسایہ ملک میں مسلمانوں کا قتل عام رکوا کر پھر اپنے ملک میں مکمل امن دیکھنا چاہتے ہیں۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائےہے،ادارے کا متفق ہوناضروری نہیں۔

تبصرے