Urdu News and Media Website

بونیر میں 14شہری گرفتار

ہرعلاقے کی اپنی اپنی روایات ہوتی ہیں اور ان روایات کی خلاف ورزی بھی اس معاشرے میں کسی جرم سے کم تصور نہیں کی جاتی، ایسا ہی بونیر میں کچھ دکانداروں نے کیا جنہیں ضلعی انتظامیہ نے گرفتار کرلیاگیا، ان افراد کا قصور یہ تھا کہ وہ کھلم کھلا پیر بابا کے علاقے میں خواتین کے زیرجامہ فروخت کررہے تھے جبکہ بونیر کے ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر زاہد عثمان کاکاخیل نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ بعدازاں ان افراد کو رہاکردیاگیا۔

ایکسپریس ٹربیون کے مطابق عثمان کاکاخیل نے بتایاکہ ’ہمیں مقامی لوگوں کی طرف سے کھلے عام براز،پینٹیز اور دیگر زیرجامہ کی کھلے عام نمائش کی شکایت ملی تھی کیونکہ یہ علاقائی رسم و رواج اور کلچر کیخلاف ہے ، صرف یہی نہیں بلکہ دکاندار وہاں آنیوالے لوگوں کیلئے آوازیں لگارہے تھے تاکہ اپنی مصنوعات کو فروخت کرسکیں‘۔ حکام کاکہناتھاکہ انہوں نے ذاتی طورپر بھی دکانداروں کو آوازیں لگاتے سنا جس میں وہ خواتین کو اکسارہے تھے کہ ان کی مصنوعات خریدیں۔عثمان کاکاخیل نے بتایاکہ کھلے عام خواتین کے زیرجامہ کی نمائش سے علاقے کا امن وامان بھی متاثر ہونے خدشہ پیداہوسکتاہے کیونکہ پیرباباکے مزار پر فیملیز بھی جاتی ہیں جہاں کھلے عام خواتین کے زیرجامہ کی نمائش جاری تھی۔

ایک سوال کے جواب میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر نے بتایاکہ کریمینل پروسیجر کی شق 64کے تحت انہیں کسی بھی ایسے شخص کو گرفتار کرنے کا اختیار حاصل ہے جوفساد پھیلانے جیسی غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو، ہم نے نیک نیتی کیساتھ دکانداروں کو گرفتار کیا کیونکہ کھلے عام ایسی چیزوں کی فروخت کو مقامی لوگ پسند نہیں کرتے ۔ انہوں نے مزید بتایاکہ مقامی قبائلی رہنماﺅں کی موجودگی میں دکانداروں کی طرف سے آئندہ ایسا نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد انہیں رہاکردیاگیا۔

تبصرے