Urdu News and Media Website

بدعنوانی اوربدانتظامی نے شعبہ صحت کوبیمار کردیا:محمدناصراقبال خان

لاہور(نیوزنامہ) ہیومن رائٹس موومنٹ انٹرنیشنل کے مرکزی صدرمحمدناصراقبال خان،چیف آرگنائزر میاں محمدسعید کھوکھرایڈووکیٹ، سیکرٹری جنرل محمدرضاایڈووکیٹ ،سینئر نائب صدورتنویرخان، میاں محمداشرف عاصمی ایڈووکیٹ، ندیم اشرف ،چودھری ثاقب ظہیر ،سلمان پرویز،روحی کھوکھر ایڈووکیٹ ،مرکزی نائب صدور ناصرچوہان ایڈووکیٹ، ممتازاعوان ،محمدشاہدمحمود ،صدر پنجاب محمدیونس ملک،نائب صدرشبیرحسین ،صدرنیویارک محمد جمیل گوندل، صدر مدینہ منورہ سرفرازخان نیازی،صدرکراچی یونس میمن ،صدر چنیوٹ راناشہزادٹیپو ،صدرفیصل آبادندیم مصطفی اور صدر قصور میاں اویس علی نے کہا ہے کہ بدعنوانی،بدانتظامی اوربدنیتی نے شعبہ صحت کوبیمار کردیا۔ صحت کانحیف اوربیمار نظام شہریوں کی بیماریوںسے حفاظت اورنجات کااہتمام نہیں کرسکتاجبکہ عام شہریوں میں حکمرانوں کی طرح علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی سکت نہیں ۔شایدشہریوں کی صحت حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں،حکومت فوری طورپرترجیحات بدلے۔عام لوگ  علاج کیلئے بیرون ملک تودرکنار اپنے شہروں سے بڑے شہروں تک نہیں جاسکتے ۔ ریاست چاروں صوبوں میں جدید طرز کے طبی اداروں کاجال بچھا ئے اوروہاں مفت علاج کی فراہمی یقینی بنائے۔شاہراہوں پربچوں کی پیدائش سلسلہ ناقابل برداشت ہے ،کوئی مہذب معاشرہ اس کامتحمل نہیں ہوسکتا۔آبادی کے تناسب سے سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب سہولیات کواپ گریڈ کیاجائے اورایمرجنسی بلاکس سمیت مختلف وارڈز میں وسعت پیداکی جائے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔محمدناصراقبال خان اورمیاں محمد سعیدکھوکھرنے مزید کہا کہ سرکاری طبی اداروں کی غلاظت کے سبب وہاں جانیوالے علیل شہری مزیدبیمار ہوجاتے ہیں۔ادویات ،خوراک اور مشروبات میں ملاوٹ کے ساتھ ساتھ پینے کے صحتمندپانی کی عدم دستیابی بھی بیماریوں کے پھیلنے کاسبب ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری ہسپتالوں کو جدیدسہولیات سے آراستہ کردیا گیاہے توپھر حکمران اوران کے بیوی بچے بیمار پڑنے پر بیرون ملک کیوں جاتے ہیں ۔حکمرانوں کااپنے اورشہریوں کے بچوں بارے دوہرامعیار   ناقابل برداشت اورقابل مذمت ہے۔بیمار لوگ سرکاری ہسپتالوں کی قلت کے نتیجہ میں شہری تڑپ تڑپ کرموت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں جبکہ حکومت کی طرف سے دن رات شاہراہوں کی تعمیر کاڈھول پیٹاجاتا ہے ۔ماضی کی طرح اب بھی شعبہ صحت کامخصوص فنڈ شاہراہوں کی تعمیر پرجھونک دیاگیا جبکہ شاہراہوں پربچے پیداہورہے ہیں۔حکمران شاہراہوں کی بجائے شہریوں کی زندگی اور ضروریات پرفوکس کریں۔انہوں نے کہا کہ لاہور شہر سے زیادہ چاروں صوبوں کے شہریوں کاخوبصورت ہونازیادہ اہم ہے ۔

تبصرے