Urdu News and Media Website

آزادکشمیرمیں بھی قادیانی آئینی طورپرغیرمسلم قرار

تحریر:عمرفاروق۔۔
چھ فروری2018 وہ تاریخی دن ہے کہ جب آزادکشمیر میں بھی آئینی طورپر قادیانیوں کو غیر مسلم قراردیدیا گیاکشمیری عوام اورمذہبی جماعتوں کی جدوجہد،کاوشوں اورخصوصاوزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرکی ذاتی دلچسپی سے یہ عظیم الشان کام کسی مظاہرے ،احتجاج اورتشددکے بغیر احسن طریقے سے سرانجام پایاہے جس پر مسلم لیگ ن آزادکشمیرکی قیادت ،وزیراعظم آزادکشمیر،وزرائے حکومت ،ممبران قانون سازاسمبلی وکشمیرکونسل اورآزادکشمیرکے عوام مبارک بادکے مستحق ہیں۔ یہ بڑی سعادت کی بات ہے کہ موجودہ اسمبلی کویہ اعزازحاصل ہواکہ اس نے حضورؐ کی ناموس پرڈاکہ ڈالنے والوں کوقانون کی نکیل ڈالی اوراس حوالے سے پائے جانے والے ابہام کوورکردیاہے ۔
منگل کوآزاد جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی آزاد جموں وکشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں تحفظ ناموس رسالتﷺ ایکٹ2018متفقہ طورپر منظور کر لیا۔ آزادجموںوکشمیرقانون ساز اسمبلی اور کونسل کے مشترکہ اجلاس میں آزاد جموں وکشمیر عبوری آئین 74(12 ویں ترمیمی) ایکٹ، 2018پیش کیا گیا جس کے تحت قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا بل پیش کیا گیا جوایوان نے تین بج کر52منٹ پر متفقہ طور پر منظور کر لیا۔اس سے قبل دوفروری کو قانون سازاسمبلی کے اجلاس میں آزادکشمیر کے وزیر قانون و پارلیمانی امور راجہ نثار احمد خان نے مسودہ قانون پیش کیاتھا جس پرغوروغوض کے لیے مشترکہ اجلاس بلایاگیاتھا 3فروری کووزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرنے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام ، مشائخ عظام اور مذہبی جماعتوں سے مشاورت کی اوران سے مزیدرہنمائی حاصل کی ۔
چھ فروری کواس تاریخی دن وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان نے کہا کہ آج کا دن آزادکشمیر کی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ اللہ رب العزت نے ہمیں یہ سعادت بخشی کہ ہم نے اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی کیلئے ختم نبوت ﷺ کو آزاد کشمیر کے آئین کا حصہ بنایا۔میری اللہ رب العزت سے دعا اور مجھے امید ہے کہ اس قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والوں کو اس کے صلے میں نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی،ان لوگوں کا شمار آزادکشمیر کی پارلیمانی تاریخ کے خوش قسمت ترین لوگوں میں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہاکہ میجر(ر) ایوب مرحوم کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینا اُس وقت اتنا آسان نہیں تھا ،اُس وقت کے اراکین اسمبلی پر بہت دبائو تھامگر انہوںنے اسے خاطر میں نہیں لایا، آج ان اراکین کی اولادیں یہاں موجود ہیں۔ میری والدہ اور چچا،سردار عبدالقیوم، سردار سکندر حیات خان کی اولادیں جبکہ خان بہادر خان خود موجود ہیں۔ وزیر اعظم آزادکشمیر راجہ محمدفاروق حیدرخان ختم نبوت ﷺ کے حوالے سے بارہویں آئینی ترمیم کا بل منظور ہونے کے فوراً بعد اپنی والدہ محترمہ سابق ممبر اسمبلی محترمہ سعیدہ خانم، اپنے والد محترمہ راجہ محمد حیدرخان اور دربار شاہ عنایت ؒ کے مزار پر گئے اور فاتحہ خوانی کی ۔
فتنہ قادیانیت کا آغاز ہندوستان کے ایک قصبہ قادیان سے ہوا اس کا بانی انگریز کا خود ساختہ ایجنٹ مرزا غلام احمد قادیانی،، تھا جس نے انگریز رئوسا کو خوش کرنے کیلئے جھوٹی نبوت کادعوی کیا،قادیانی کے اس جھوٹے دعوے کے خلاف برصغیرکے عوام نے ذبردست تحریک چلائی اوراس فتنے کے خلاف لاکھوں افرادنے اپنی جان کی بازی لگائی ،ایک طویل تحریک کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی نے 7ستمبر1974 قادیانیوں کو متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے کر قانون سازی کی اورتمام محکموں میں خصوصا الیکشن کمیشن کی ووٹر لسٹوں میں قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ درج کیا اور ووٹر فارم میں حلف نامہ میں ختم نبوت درج کیا گیا۔اوراآئین میں ان کی ایک حیثیت متعین کردی گئی یہ الگ بات ہے کہ قادیانی اس آئین کوتسلیم ہی نہیں کرتے اورکھلم کھلااس آئین کامذاق اڑاتے ہیں ۔
اس حوالے سے خطہ کشمیرکااعزازہے کہ اس خطہ کے عظیم سپوت ،مغل خاندان کے چشم وچراغ باغ سے تعلق رکھنے والے مردمجاہدمیجرمحمدایوب خان شہید نے اس فتنے کے خلاف سب سے پہلے آوازاٹھائی اورپاکستان میں ہونے والے فیصلے سے قبل ہی قادیانی فتنے کے خلاف آئینی وقانونی جنگ لڑنے کافیصلہ کیا اورآزادکشمیراسمبلی میں سب سے پہلے قادیانیوں کے خلاف قراردادپیش کی جومتفقہ طورپرمنظورکی گئی اس حوالے سے مسلم کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی کااجلاس 26اپریل 1973 کومیرپورمیں منعقدہوا جس کی صدارت غازی ملت سردارمحمدابراہیم خان کی اوراس وقت کے صدرمجاہداول سردارمحمدعبدالقیوم خان نے بھی اجلاس میں خصوصی طورپرشرکت کی اجلاس میں میں اس قراردادکی باقاعدہ منظوری دی گئی، اس وقت 25ممبران سمبلی میں سے جن ممبران نے اس قراردادکی حمایت کی تھی ان میںسے ایک سردارخان بہادرخان موجودہ اسمبلی میں بھی موجود ہیں جبکہ موجودہ وزیراعظم راجہ فاروق حیدرکی والدہ سعیدہ خانم ،چاچاراجہ لطیف خان بھی اس قراردادپردستخط کرنے والوں میںشامل تھے ۔ منگلا میں منعقدہونے والے اجلاس میں یہ قرارادپیش کی گئی تواسمبلی کے باہراچانک فائرنگ کرکے اس اجلاس کوسبوتاژکرنے کی بھی کوشش کی گئی مگراس کے باوجود یہ قراردادمنظورہوئی اگرچہ اس وقت چنداراکین نے اس کی مخالفت بھی کی تھی ۔راجہ فاروق حیدرنے اپنی تقریرمیں اسی کی طرف اشارہ کیا کہ اس وقت اراکین پرکتنادبائوتھا۔
اس قراردادکی منظوری کے بعد سیکرٹری اسمبلی اشفاق احمدخان نے سیکرٹری قانون کو 10مئی 1973 کوخط لکھ کرآگاہ کیا کہ اس حوالے سے قانون سازی اورمناسب کاروائی عمل میں لائی جائے مگرعرصہ درازگزرنے کے باوجودمختلف حکومتیں آئیں مگر اس قراردادپرعمل درآمدنہیں کیاگیا جس کی وجہ سے آزادکشمیرمیں قادیانی کھلے عام تبلیغ کرنے میں مصروف عمل رہے اور ہیں،قادیانی اِس دستوری سقم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اسلامی شعائرکے استعمال اوراپنی اِرتدادی سرگرمیوں میں آزادی سے مصروف رہے،سابق صدر آزادکشمیر میجرسردار عبدالرحمن نے اکتوبر1985 میں دفعہ 298C کا اضافہ کیا ۔جس کے تحت قادیانی اسلامی شعائرکے استعمال کے مجازنہیں ہیں،لیکن بدقسمتی سے اس پربھی عمل درآمدنہیں ہوسکا۔
ستم ظریفی دیکھیے کہ25اپریل 2012کویہ انکشاف ہواکہ آزادکشمیراسمبلی سے مندرجہ بالاقراردادکااصل مسودہ غائب کردیاگیاہے۔اس خبرکے منظرعام پرآتے ہی آزادکشمیراورپاکستان میں ایک بھونچال آگیا دینی جماعتوں اوران کے قائدین نے اس حوالے سے سرجوڑلیے اوراس غفلت پرسراپااحتجاج ہوگئے اگرچہ اس وقت کی حکومت نے اس کی تردیدکی کہ ریکارڈ غائب نہیں ہواہے مگرچوہدری مجیدحکومت اس حوالے سے کوئی بھی مستندچیزاسمبلی اورعوام میں پیش نہ کرسکی ۔
26اپریل 2012کومظفرآبادمیں ختم نبوت کانفرنس منعقدہوئی جس میں اس وقت کے ممبران اسمبلی سردارمیراکبراورسردارسیاب خالدنے شرکت کی اوروعدہ کیا کہ وہ یہ معاملہ اسمبلی میں اٹھائیں گے 28اپریل 2012کوممبران اسمبلی سردارمیراکبرجواس وقت وزیرجنگلات بھی ہیں اورسردارسیاب خالدنے تحریک التوا جمع کروائی اورمطالبہ کیا کہ اسمبلی اجلاس کی کاروائی روک کراس اہم معاملے پربحث کی جائے اورحقائق ایوان میں پیش کیے جائیں اس وقت کے اپوزیشن لیڈرراجہ فاروق حیدرنے کہاکہ حکومت اسمبلی ریکارڈ کوآڈیواورویڈیو شکل میں محفوظ کرے جس پرقائدایوان چوہدری عبدالمجیدنے اسمبلی سیکرٹریٹ کوحکم دیاکہ وہ اسمبلی کاجملہ ریکارڈ محفوظ بنائے اس حوالے سے ممبران اسمبلی اورعلما ء کرام حکومت کوباربارتوجہ دلاتے رہے کہ قادیانیوں کے خلاف پاس کی گئی قراردادمنظرعام پرلائی جائے مگرقراردادنہ لائی جاسکی۔
29اپریل 2013 میں باغ میں یوم قراردادختم نبوت کانفرنس منعقدہوئی جس میں اپوزیشن لیڈرراجہ فاروق حیدراورممبراسمبلی سردارمیراکبرودیگرنے اعلان کیاکہ وہ برسراقتدارآکر اس قراردادکونہ صرف منظرعام پرلائیں گے بلکہ اس حوالے سے قانون سازی بھی کریں گے ،
تحریک تحفظ ختم نبوت نے اس حوالے سے قانونی محاذپربھی لڑنے کافیصلہ کیااورقادیانیو ں کی آزادکشمیرمیں آئینی حیثیت جاننے کے حوالے سے 5اکتوبر2016 کو حکومت اور دوسرے تمام محکموں کے خلاف آزادکشمیر ہائی کورٹ میں رِٹ دائر کردی جواس وقت بھی زیرسماعت ہے ۔
یہ راجہ فاروق حیدرکی ذاتی دلچسپی اورعشق رسول ؐ تھا کہ انہوںنے برسراقتدارآنے کے بعد اپنے اعلان کے مطابق عمل کیا اوران کی ہدایت کے مطابق گزشتہ سال 26اپریل2017 کوآزادجموں وکشمیر کی قانون سازاسمبلی میںتحفظ ناموس رسالت کے حوالے سے ممبر اسمبلی پیر سیدعلی رضا بخاری اور ممبر اسمبلی راجہ محمد صدیق خان کی طرف سے پیش کی گئی قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کیاگیااوریوں چھ فروری کواس قراردادکوقانونی شکل دے کرآزادکشمیرمیں قادیانی فتنے کاراستہ بندکردیاگیا آزادکشمیر میں اس سے پہلے بہت ساری اسمبلیاں اور بہت سارے وزیر اعظم آئے مگر رب تعالیٰ نے یہ اعزاز راجہ محمد فاروق حیدرخان کے مقدر میں لکھا جنہوںنے اس اہم اور تاریخ ساز عمل کو پائیہ تکمیل تک پہنچایا ۔
ؒؒؒ

تبصرے