Urdu News and Media Website

اغیارکی غیرت کی ناپاک مثال

تحریر:صبح صادق      دو ہفتے قبل ایک جنونی حملہ آور نے لاس ویگاس (امریکہ) کے ایک میوزک فیسٹیول میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 58کوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا اور 500سے زیادہ افراد کو زخمی کر دیا۔بعد میں درجنوں ہتھیاروں سے مسلح اس 64سالہ شخص نے جس کا نام اسٹیفین پیڈوک تھا خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔بلاشبہ اس نوعیت کا یہ اب تک کا سب سے بد ترین سانحہ تھا جس میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔سوموار کی صبح کو امریکی شہریوں کو جب اس سانحے کی مکمل خبر ہوئی تو پورے ملک میں شاک اور دہشت کی لہر دوڑ گئی ۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود امریکی حکومت اور میڈیا نے لاس ویگاس کے حملے کو دہشت گردانہ حملہ قرار نہیں دیا۔جیسے ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ بندوق بردار جس نے اپنے ہوٹل کے لگژری کمرے کی کھڑی سے قتل وغارت گری کا یہ بازار گرم کیا تھا ایک سفید فارم امریکی شہری تھا تو پورا زور اس بات پر لگایا گیا کہ اس پر دہشت گرد کا لیبل لگایانہ جاسکے۔دو ہفتے قبل ایک جنونی حملہ آور نے لاس ویگاس (امریکہ) کے ایک میوزک فیسٹیول میں اندھا دھند فائرنگ کر کے 58کوگوں کو موت کے گھاٹ اتاردیا اور 500سے زیادہ افراد کو زخمی کر دیا۔بعد میں درجنوں ہتھیاروں سے مسلح اس 64سالہ شخص نے جس کا نام اسٹیفین پیڈوک تھا خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی۔بلاشبہ اس نوعیت کا یہ اب تک کا سب سے بد ترین سانحہ تھا جس میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔سوموار کی صبح کو امریکی شہریوں کو جب اس سانحے کی مکمل خبر ہوئی تو پورے ملک میں شاک اور دہشت کی لہر دوڑ گئی ۔ حیرت ہے کہ اس کے باوجود امریکی حکومت اور میڈیا نے لاس ویگاس کے حملے کو دہشت گردانہ حملہ قرار نہیں دیا۔جیسے ہی یہ بات واضح ہو گئی کہ بندوق بردار جس نے اپنے ہوٹل کے لگژری کمرے کی کھڑی سے قتل وغارت گری کا یہ بازار گرم کیا تھا ایک سفید فارم امریکی شہری تھا تو پورا زور اس بات پر لگایا گیا کہ اس پر دہشت گرد کا لیبل لگایانہ جاسکے۔وائٹ ہائوس کی ترجمان سارہ سینڈرس نے میڈیا کے سوالوں کے جواب میں کہا کہ لاس ویگاس کے قتل عام کو داخلی دہشت گردی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمیت تمام امریکی لیڈروں نے پیڈوک کو پاگل ،ذہنی بیماراور نفسیاتی مریض تو کہا لیکن اس کے لئے دہشت گرد کا لفظ اپنی زبان پر نہیں لا ئے۔یہ اغیارکے متحد ہونے کی ایک ناپاک اور اعلی مثال تھی۔جو کہ ہم میں نہیں ، ہم پاک صا ف ہوتے ہوئے بھی برے، جبکہ غیر اس کے بالکل الٹ۔ بہر کیف 58نہتے بے گناہوں کے قتل ناحق کو نفرت کا نتیجہ ، خالص بدی اور شیطانی حرکت تو قرار دیا گیا لیکن اسے دہشت گردی کہنے کی ہمت کسی نے نہیں دکھائی۔لاس ویگاس کی واردات سے ملتی جلتی واردات فلوریڈا کے اور لینڈو کے ایک نائٹ کلب میں گزشتہ برس جون میں ہوئی تھی۔اس واردات میں بھی ایک ہی شخص نے تن تنہا اندھا دھند گولیاںبرسا کر 49لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔وہ حملہ آور بھی ایک مقامی شخص تھا لیکن صدر براک اوبامہ نے بلا تاخیر اس واقعہ کو دہشت گردانہ حملہ قرار دے دیا تھا کیونکہ بندوق بردار عمر متین نام کا شہری تھا۔لاس ویگاس کے قتل عام نے اس بات کی ایک بار پھر تصدیق کر دی ہے کہ امریکی حکومت کی نگاہ میں دہشت گرد کی اصطلاح صرف کسی مسلم شخص کے لئے ہی استعمال کی جا سکتی ہے۔بڑے دکھ کی با ت ہے کہ ہم تو ہر حال میں برے ،اچھے تو بس رہ گئے غیر اس جہان میں۔لاس ویگاس کے واقعہ کے بعد صدر ٹرمپ نے نہایت سلجھاہوا اور نپاتلا بیان دیاکہ برائی اور تشدد کے ذریعہ ہمارے اتحاد کو نہیں توڑا جا سکتا اور حالانکہ ہمیں اپنے ہم وطنوں کے قتل پر بے حد ناراضگی ہے تاہم یہ ہمارا محبت کا جذبہ جو آج ہماری شناخت ہے اور ہمیشہ رہے گا۔یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ اتنا عمدہ اور دل کو چھو لینے والا مدبرانہ بیان ٹرمپ نے دیا ہو گا۔یہ وہی ٹرمپ ہیں جو لندن، پیرس یا دنیا کے کسی بھی کونے میں تخریب کاری کے کسی واقعہ کی خبر سنتے ہی اسے بلا تا خیر اسلامی دہشت گردی قرار دیکر اسلام اور مسلمانوں کو معتوب کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔ہماری صحافت کو اس جانب بھی مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ اس امتیازی سلوک کا بھی تو کوئی توڑ کرے ، جہان یہ کئی اچھے اچھے اور احسن کام سر انجام دے رہی ہے وھاں عالمی سطح پر بھی ہمیں اپنے خلاف ہوتے ہر حملے کاجواب دینے کے لئے بھی ہر دم تیا ر رہنا چاہیے تاکہ صورت حال کو متوازن بنانے کے بعد تمام حقائق نہ صرف دنیا کے سامنے رکھے جا سکیں بلکہ ان کو منوایا بھی جا سکے۔خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکی میڈیا نے بھی لاس ویگا س قتل عام کے بعد کھل کریہ نکتہ اٹھایا ہے کہ مسلم حملہ آوراور سفید فام عیسائی حملہ آور کے ذریعہ کی گئی قتل و غارت گری کو الگ الگ خانوں میں کیوں رکھا جاتا ہے۔بین الاقوامی شہرت کے حامل صحافی اور نیو یارک ٹائمز کے کالم نویس تھامس فریڈ مین نے اس واقعہ پر جو مضمون لکھا ہے اس کا عنوان "If only Stephan Paddock were a Muslim” ہی یہ نکتہ اجاگر کر دیتا ہے کہ امریکی حکام کی نظر میں دہشت گرد صرف ایک مذہب کے افراد ہوتے ہیں۔ فریڈ مین لکھتے ہیںکہ اگر لاس ویگاس کا بندوق بردار قاتل مسلمان ہوتا، اگر اس نے میوزک کنسرٹ میں شرکت کرنے والے نہتے امریکیوں پر فائرنگ کرنے کے قبل اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا ہوتا ، تو کوئی بھی ہمیں یہ نصیحت نہیںکرتا کہ ہم مہلوکین کی بے عزتی نہ کریں اور مستقبل میں اس طرح کی خون ریزی کے سدباب کے لئے اقدام کرنے ضرورت کے موضوع پربات کرکے ایک سانحے کو سیاسی رنگ نہ دیں۔فریڈمین کے مطابق اگر لاس ویگاس کے اجتماعی قتل کا ارتکاب کسی مسلم ملک کے باشندے نے کیا ہوتاتو امریکی حکام فوراََ اس ملک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا منصوبہ بنا لیتے ،لیکن جب مجرم امریکہ کا شہری ہوتا ہے تو امریکی صدر اور حکمران جمہور ی پارٹی اس بات پر پوری توانائی لگا ریتے ہیں کہ کچھ نہ کیا جائے۔’’شام میں داعش جنگجوؤں کا قلع قمع کرنے کے لئے ہم دنیا بھر میں اتھل پتھل مچادیتے ہیں۔ایک ایک دہشت گرد کو ٹھکانے لگانے کے لئے ہم ملک کے بہترین نوجوان مرد اور عورتوں کی زندگیوں کو دائو پر لگا دیتے ہیں ،جبکہ داعش نے مشرق وسطیٰ میں مشکل سے پندرہ یا بیس امریکیوں کو ہلاک کیا ہوگاــــ۔دہشت گردی مخالف جنگ کے نام پر امریکہ نے گزشتہ سولہ سالوں میں افغانستان ،عراق،لیبیا،صومالیہ،یمن اور شام سمیت متعدد مسلم ممالک کو تاراج کیا ہے ۔نائن الیون کے حملے یقینا قابل مذمت تھے، لیکن ان حملوں میں تقریباََ تین ہزار امریکی شہری مارے گئے تھے ، جبکہ امریکی افواج کے ہاتھوں مختلف ممالک میں ان سولہ برسوں میں لاکھوں بے گناہ اور شہری جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکہ کی آبادی ساری دنیا کی صرف 4.4فی صد ہے لیکن ساری دنیا میں ذاتی استعمال کے جتنے ہتھیار ہیں ان کا نصف حصہ صرف امریکہ میں ہے۔امریکہ میں مہلک آتشیں ہتھیاروں سے مرنے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے دور دراز کے ممالک میں دہشت گردوں کو ڈھونڈ کر  ہلاک کرنے کی بجائے امریکی صدر کو چاہئے کہ وہ ملک کے اندر رہائش پذیر ان دہشت گردوں کے خلاف کوئی کاروائی کریں جو امریکی شہری ہیں۔بیرونی دشمن سے کہیں زیادہ خطرناک اندرونی دشمن ہوتے ہیں۔Gun violenec Achieveامریکہ کا ایک غیر منافع بخش اور غیر جانبدار پرائیوٹ ادارہ ہے جو ملک میں گن کلچر کی وجہ سے برپا ہونے والے تشد د میں مرنے اور زخمی ہونے والوں کے متعلق حقائق اور اعداد وشمار فراہم کرتاہے ۔اس ادارے کے مطا بق سال رواں میں اب تک اجتماعی (Mass)شوٹنگ کی 274 وارداتیں ہوئی ہیں اور بندوق کو گولی سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد 11765 ہوگئی ہے۔واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2017ء میں امریکہ میں گن تشدد میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں بارہ فیصد کااضافہ ہواہے۔ایساکیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امریکہ میں زندگی بجانے والی دوائیں خریدنے کے لئے کیمٹ کو کسی ڈاکٹر کا نسخہ دکھانا ضروری ہے لیکن بہت سی ریاستوں میںجن میں نیو اڈا شامل ہے جہاں لاس ویگاس سانحہ ہوا، پستول ،ریوالور ،ہینڈگن جیسے جان لیوا ہتھیار خریدنے کے لئے لائسنس یا پرمٹ لازمی نہیں ہے اگر گن کی خریدای پر تھوڑی سی بھی سختی ہوتی تو کیا پیڈوک 42بھاری اسلحے اتنی آسانی سے حاصل کرلیتا؟حقائق کیا ہیں ، دنیا کس جانب جا رہی ہے،یہ آج کے دور کی سب سے اہم ضرورت ہے۔اب طاقت ور اور کمزور کی بنیاد پر یہ امتیاز تارتار ہونا چاہیے،سو ہمیں اس بات کا قوی یقین رکھنا چاہیے کہ وہی تہذیب رنگ لائے گی جو صادق و امین ہوگی۔باقی سب بستیاں بے نشاں ہو گی۔

تبصرے