Urdu News and Media Website

اعلیٰ تعلیمی وسائل پر جھنگ کے باسیوں کا بھی حق ہے!!

 تحریر: ملک شفقت اللہ
مجھے بارہا جھنگ میں یونیورسٹی کے قیام کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے بارے میں لکھوں ،سوال پوچھنے والوں کی خدمت میں عرض کرتا چلوں کہ میں کوئی بیوروکریٹ یا سیاسی شخصیت تو نہیں ہوں ورنہ میں بنا دیتا اور لکھنے کیلئے حکم دینے والے احباب کی نظر یہ تحریر پیش کر رہا ہوں۔2013 کے عام انتخابات سے قبل اس کی ہوا چل رہی تھی اور بعد میں یہ ہوا یہاں کے سیاسی امیدواروں کا نعرہ بن گیا ۔اس نعرے کو شہری حلقے کے صوبائی اور قومی اسمبلی کے امیدواروں نے خوب کمایا جبکہ میری نظر میں جھنگ میں یونیورسٹی آف جھنگ کا قیام بالکل غلط اور بیوقوفانہ مطالبہ ہے ۔جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ حالیہ مردم شماری میں جہاں پہلے پورے ضلع کی آبادی چودہ لاکھ تھی وہیں اب صرف شہری آبادی چودہ لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے ۔آبادی کے بڑھنے اور گلوبلائزیشن کی وجہ سے جہاں تعلیم عام ہوئی وہیں شرح خواندگی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔فیصل آباد بورڈ کے سابقہ میٹرک کے امتحان میں پہلی چھ پوزیشنز لینے کا اعزاز بھی ایک نیم سرکاری کالج چناب کالج جھنگ کو حاصل ہوا ۔اگر ہم ضلع جھنگ کی تاریخ کا ایک مبہم سا جائزہ لیں تو اس کے تیس سال فرقہ واریت جیسے تعصب کی آگ میں جھونک دئیے گئے لیکن اب یہاں پوری طرح امن و امان کی صورتحال ہے اور کافی حد تک عوام میں شعور بھی آ چکا ہے یہی وجہ ہے کہ اب والدین اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر پوری ذمہ داری کے ساتھ زور دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس میں کوئی کوتاہی نہ رہے۔لیکن اگر ہم دیکھیں تو جھنگ کی پچانوے فیصد قابلیت و اہلیت ضائع ہو رہی ہے۔کچھ لوگ تو یہ سمجھتے ہیں کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ جھنگ میں آج بھی جاگیردارانہ اور سرمایا دارانہ نظام چلتا ہے جو نہیں چاہتا کہ یہاں کے لوگ بھی پڑھ جائیں اور ان کی قابلیت ملک و قوم کیلئے سو د مند بنے اور وہ کسی حد تک ٹھیک بھی ہیں اسی سرزمین جھنگ سے تعلق رکھنے والے کتنے ہی عوامی نمائندے وفاقی وزیر رہ چکے ہیں جنہوں نے اس شہر کی ترقی کیلئے کچھ بھی نہیں کیا اور نا ہی کبھی سوچا ،پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں فیصل صالح حیات وفاقی وزیر برائے خارجی امور رہے لیکن ان کے دور میں بھی جھنگ کی پسماندگی جوں کی توں رہی ،ان کے بعد شیخ وقاص اکرم جو شہری نشست سے ایم این اے منتخب ہوئے اور وفاقی وزیر برائے تعلیم رہے ہیں، لیکن جھنگ کی سر زمین کو حق نہیں دلا سکے ، تعلیم کے وسائل سے ضلع جھنگ محروم رہا کیونکہ ہمیں اس وقت بھی سب سے اہم اور اشد ضرورت یونیورسٹی اور اس کے بعد میڈیکل کالج کی تھی اور اب بھی ہے۔اگر یہاں یہ کہا جائے کہ جھنگ کی پسماندگی میں سب سے بڑا ہاتھ یہاں کے نا اہل سیاسی اور اشراف طبقے کا ہے تو غلط نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ سو میں سے صرف پانچ فیصد ہی طلبہ و طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کر سکتے ہیں اور اس طرح نہ صرف اس سرزمین بلکہ ملک بھر کیلئے قابلیت کے فقدان کا اور خوشامد پرستی کا المیہ پیدا ہوتا ہے ۔ کسی بھی مملکت کے نوجوان ہی اس کے معمار کہلاتے ہیں اور ان کی قابلیت ملک و قوم کی امانت۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب قابل اور اہل لوگ وسائل کی کمی کی وجہ سے پیچھے رہ جائیں گے تو ملک کی باگ دوڑ خود بخود اشرافیہ اور جاگیرداروں کے ہاتھوں آ جائے گی جو خود خوشامد پسند اور انجمن افزائش اولاد چاہتے ہیں اس لئے وہ لوگ اپنے ساتھ کام کرنے کیلئے بالکل ایسے ہی لوگو ں کا انتخاب کرتے ہیں جو خوشامد پرست ہوں اس طرح جو قابل اور اہم لوگ ہوتے ہیں ان کی قابلیت بھی ضائع ہو جاتی ہے ۔انتخابات میں کامیابی کے بعد شہری حلقے کی منتخب منسٹر صوبائی اسمبلی راشدہ شیخ یعقوب نے جھنگ میں یونیورسٹی آف جھنگ کے قیام کا اعلان کیا جس کیلئے اراضی اور بجٹ کی منظوری وغیرہ کے نوٹیفیکیشنز سوشل ،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر وائرل بھی کئے گئے اورجہاں تک مجھے یاد ہے یہ 2015 کی بات ہے جب راشدہ شیخ یعقوب جو اب نا اہل ہو چکی ہیں کی جانب سے جاری کئے گئے ایک اخباری بیان میں کہا تھا کہ ایک ارب روپے کی خطیر رقم کی پہلی قسط ہمیں موصول ہو چکی ہے اور یونیورسٹی آف جھنگ کی تعمیر کا آغاز کر دیا گیا ہے لیکن بعد میں صرف یونیورسٹی آف جھنگ کے نقشے ہی منظر عام پر آتے رہے عملی اقدامات بالکل نہیں کئے گئے اور اب خبریں یہ بھی مل رہیں ہیں کہ یونیورسٹی والا کام بھی کھٹائی میں پڑ چکا ہے ۔میں نے شروع میں لکھا ہے کہ یونیورسٹی آف جھنگ کا قیام ایک بیوقوفانہ مطالبہ ہے اس کے پیچھے بڑی وجہ یہی ہے کہ یہ کام جب سیاسیوں کے زیر اثر کیا جائے گا تو ضد بازی اور مقابلہ بازی میں جو کام ایک سال کا ہے وہ دس سال میں مکمل ہو گا اور اس مد میں جو کرپشن کی جائے گی اس کی مثال نہیں ملے گی ۔دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم تعلیمی معیار کا جائزہ لیں تو یونیورسٹی آف جھنگ کو اپنا معیار بنانے اور مقام حاصل کرنے میں جانے کتنے ہی سال لگ جائیں اور تب تک اس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کا مستقبل تباہ ہوتا رہے گا۔اس کے بعد سیاسی مداخلت اور اقرباء پروری اس یونیورسٹی میں کبھی بھی قابل سٹاف تعینات نہیں ہونے دے گا ۔جھنگ میں یونیورسٹی کا قیام تو اب نا گزیر ہو چکا ہے لیکن میرے نزدیک اس کا بہترین حل یہ ہے کہ یہاں پنجاب یونیورسٹی کا کیمپس بنا دیا جائے اس طرح سے حکومت کو کئی سارے معاملات اور مشکلات سے چھٹکارہ مل جائے گا ۔ضلعی حکومت کی طرف سے صرف عمارت اور سہولیات دینی ہوں گی جبکہ انتظامی امور تو خود یونیورسٹی آف پنجاب سنبھالے گی اس طرح سے جھنگ میں ہی یونیورسٹی آف پنجاب کا معیار تعلیم بھی میسر ہو گا اور بچوں کا مستقبل بھی روشن ہو جائے گا۔
تبصرے