Urdu News and Media Website

ادھورا انصاف۔۔

تحریر:امتیاز احمد شاد۔۔۔
سب دسمبر گزرنے کے منتظرتھے،حدف طے ہو چکے،للکار ا جا چکا،میدان سج چکے،ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی غرض سے آخری معرکے کا اعلان ہو چکا،چہار سو یلغار کے منتظر تلواریں میان سے نکال کر فیصلہ کن گھڑی کے آخری مقدس سیکنڈ گننے میں مصروف،سب حق اور سچ کے داعی اپنے اپنے مئوقف پر قائم،معرکہ حق و باطل کے نعرے مجبور جمہور کے دل ودماغ میں سرائیت کر چکے،کوئی اپنے مئوقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ،دوسری جانب کسان کھڑی فصلیں جلا چکے،عوام ننگے پائوں پیٹ پر پتھر باندھے پھر ایک دفعہ پکار پر لبیک کہنے کو تیار۔انجام گلستاں سے بے خبرسب کے سب گھمسان کا رن پڑنے کے منتظر ۔2017کے تمام واقعات کا فائنل رائونڈ جنوری 2018میں ہونے جا رہا ہے۔تمام ادارے صفائیاں دینے اور دفاعی پوزیشن پر آ چکے۔تاریخ میں پہلی مرتبہ اداروں کے سربراہان اپنی اپنی صفائی دینے پر بھی تنقید کی زد میں ، کوئی فرد یا ادارہ ایسا نہیں بچا جس پر انگلیاں نہ اٹھی ہوں،سوشل میڈیا شطر بے مہار،ریاست ہیجان کی کیفیت میں ،بیرونی قوتیں اپنا کھیل کھیلنے میں مصروف،سب کے سب اپنا اپنا بیانیہ پوری شد و مد سے دینے اور لاگو کرنے پر بضد بصدافسوس ریاست کا بیانیہ غالب کے خطوط بن کر رہ گیا۔نوبت یہاں تک آگئی کہ چند لوگ عدالتوں کے باہر وہ وہ تماشے لگا چکے کہ دنیا ہمارے نظام عدل پر ہنس رہی ہے،پارلیئمنٹ کی بے توقیری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، بعض مبصرین تو 2018کو خونی سال کرار دے چکے۔تمام سٹیک ہولڈرز ایک دائرہ ہے کہ ٹوٹتا ہی نہیں،خود سے نکلوں تو تجھ سے بات کروں کے مصداق اتنے الجھ چکے ہیں کہ ریاست کی سالمیت کی کسی کو کوئی پرواہ نہیں۔خدا نہ کرے،میرے منہ میں خاک ، مگر بدقسمتی سے حالات اس طرف جارہے ہیں جب انگریز ہندوستان میںچھوٹی چھوٹی ریاستوں کے راجے مہاراجے اپنے ساتھ ملا کر ان کے ذاتی نوعیت کے مفادات کو ہوا دے کر قابض ہو رہا تھا اور مغلوںکی آخری نشانی بھی نشان عبرت بن رہی تھی۔وطن عزیز پہلے بھی زخموں سے چور خونی کھیل تماشے بہت دیکھ چکا،سیاست سیاست کھیلنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ بن بانس بانسری نہیں بجتی ،آپ پہلے ہی اقتدار کے چکر میں اقدار کا جنازہ نکال چکے۔ کہیںپانامہ کا شور تو کہیں ماڈل ٹائون کا دل دہلادینے والا واقعہ،بلوچستان میں لگی آگ تو کہیںشعلوں میں گھری فصلیںاورسب سے بڑھ کر ختم نبوت کا معاملہ۔ ان حالات کے ساتھ 2018میںداخل ہونا ،سینٹ اور پھر عام انتخابات کا انعقاد یہ سب 2018کوخونی سال بنانے کے لئیے کافی ہیں۔ اس کھیل تماشے میںمفادپرست عناصرموقع کا فائدہ اٹھاکر ملک کو 1999والی پوزیشن پر لا سکتے ہیں۔مشرف نے جو این آر اوکیا اس سے احتساب کا عمل اس حد تک پراگندہ ہوا کہ اس کی قیمت ملک اور قوم آج تک ادا کر رہے ہیں۔رہی کسرمشرف نے اپنے باہر جانے میں راحیل شریف کا کردار بیان کر کے نکال دی۔ اس وقت پھر احتساب کا عمل جاری ہے،فیصلے عدالتوں نے کرنے ہیں۔مگر حالات و واقعات پھرایک دفعہ نئے این آر او کی طرف بڑھنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔سب کا سعودی عرب میں اکٹھے ہونا کوئی حسن اتفاق نہیںبلکہ یہ سب وہ اشارے ہیں جن سے این آر او کی واضع تصویر نظر آرہی ہے۔اب کے بار ایسی کوئی غلطی نہ کی جائے ورنہ بابے رحمت پر سب کا اعتبار اٹھ جائے گااور گائوں کے لوگ پھر کبھی بابے رحمت پر اعتبار نہیں کریں گے۔اب تو بابا جی خود بھی کہہ چکے کہ دبائو ڈالنے والا کوئی پیدا ہی نہیں ہوا اس کو بعد اگر فیصلہ کہیں اور سے وارد ہوا تو اس ملک میں انتشار پھیل جائے گا۔نظام عدل پر سوال اٹھیں گے دیگر ادارے الزامات کی زد میں آئیںگے،قادری،رضوی،سیالوی اپنا جلوہ پہلے ہی دکھا چکے اب کی بار مذید شدت آئے گی اور عمران خان،آصف علی زرداری سڑکوں پر آنے کا اعلان کر چکے،طلالوں اور دانیالوں کی فنکاریاں ایک طرف اب خواجہ سعد رفیق کے بیان کا نوٹس بھی لیا جا چکا ان حالات میں انصاف کا اگر قتل ہوا تو اس کے خون کے دھبے بہت سے چہروں پر واضع نظر آئیں گے۔پاناما ہو یا آقامہ ،لوٹ مار ہو یا قتل و غارت سب معاملات عدالتوں سے طے ہونے چاہیے۔یہ بات واضع ہے کہ اگر کوئی این آر او ہواتو ان خاموش آوازوں میں بھی جان پڑ جائے گی جو ابھی تک بابا رحمت کو ہی گائوں کا متفقہ منصف گردانتے ہیں۔بقول شیخ سعدی ناانصافی تباہی لاتی ہے جبکہ ادھورا انصاف نظام انصاف کو طوائف کے پائوں کے ٹوٹے گنھگرو بنا دیتا ہے جو اپنے ہی چاہنے والوں کو زخمی کر بیٹھتی ہے۔این آر او وہی ٹوٹے گھنگرو ہیں جس سے 20کروڑ نہ صرف زخمی ہوں گے بلکہ ان کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔آئیندہ کوئی عدلیہ بحالی کی تحریک نہیں چلائے گااور نہ ہی کوئی کسی ادارے پر اعتبا رکرے گا۔عام آدمی یہ سمجھنے میں حق بجانب ہو گاکہ انصاف امراء کے گھر کی باندی ہے۔

تبصرے