سارا قصور عورت کا!!!

8,629

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔۔کچھ مہینے پہلے خانیوال کے علاقے مخدوم پورہ میں وہ اپنے والد کی زمین پر اس حصے کا قبضہ لینے پہنچیں جو عدالتی حکم کے ذریعے انکے حصے میں آیا تھا لیکن واپس وہ اپنے پاوں پر چل کر نہ آسکیں کیونکہ اپنا شرعی حصہ مانگنے پر بھائیوں نے انکی دونوں ٹانگیں توڑ دیں بھائیوں کی ڈھٹائی دیکھیں کہتے ہیں کہ گالی گلوچ کرنے پر بہن کی ٹانگیں توڑی ہیں۔ بیٹی، بہن،بیوی یا کسی خاتون رشتہ دار کو وراثت میں حق طلب کرنے پر بد ترین تشدد کا نشانہ بنانے کا یہ پہلا یا الگ تھلگ واقعہ نہیں ۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں عورت کو وارثتی حقوق یا جائیداد کی ملکیت دینے کی شرح کم ترین ہے جائیداد میں حصہ اور ملکیت کے حقوق سے متعلق کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم آئی، پی ،آر ،آئی نے اس حوالے سے 127 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کو 121 ویں نمبر پر رکھا ہے۔ اس معاملے میں بلوچستان سب سے پیچھے ہے ۔ اقوام متحدہ کے ادارے برائے ترقی کے مطابق بلوچستان میں خواتین کو وراثت میں حق دینے کی شرح صفر ہے اگرچہ قانون کے مطابق کسی بھی خاتون کو حق وارثت سے محروم کئے جانے پر دس سال قید اور دس لاکھ جرمانے کی سزا متعین کی گئی ہے لیکن اس قانون کا اطلاق نہ ہونے کے برابر ہے۔
خواتین کیلئے عدالتوں کے ذریعے اپنے حق کا حصول انتہائی کٹھن اور مہنگا ترین قدم ہوتا ہے لیکن جو یہ قدم اٹھاتی بھی ہیں انھیںسالہا سال تک وکیلوں اور کچہریوں کی فیسیںادا کرنے کے باوجود ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے خواتین کو وراثتی حقوق سے محرومی کے واقعات کا سلسلہ لامتناہی ہے۔اب اگر خواتین کے خلاف جرائم ، تشدد اور ہراسگی کے معاملات پر نظر ڈالیں تو صورتحال انتہائی تاریک ہے۔ برطانیہ میں قائم ادارے تھامسن فاونڈیشن کے سروے کے مطابق خواتین کے حوالے سے سب سے خطرناک ممالک کی جو لسٹ جاری کی گئی ہے اسمیں پہلے دس ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔ کھلے عام خواتین پر تشدد اور مارکٹائی کے واقعات عام ہوتے رہتے ہیں ۔ ایک خاتون جس کو دن دیہاڑے چاقو کے پے درپے حملوں سے شدید زخمی کردیا گیا تھا اس زخمی خاتون کیلئے انصاف کی مانگ کرنے میں کئی اہم شخصیات بھی سامنے آئیں ۔ پارلیمنٹ میں بھی اس کیس پر بات ہوئی۔ سوشل اور مین سٹریم میڈیا پر بھی یہ brutal حملہ زیر بحث رہا۔ اس قدر exposure ، ثبوت و گواہان کی موجودگی کے باوجود خاتون ابھی تک انصاف کیلئے برسرپیکار ہے۔کیونکہ ایک اعلی عدالت کے مطابق یہ لازمی نہیں کہ victim ہمیشہ سچ ہی بولے!محنت و مشقت کرکے خاندان کا سہارا بننے والی ایک نوجوان لڑکی کو سرعام گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ میڈیا میں اس لڑکی کو گولی مارنے کی فوٹج بے حسی سے بار بار چلائی جاتی رہی۔ موقعہ پر موجودکسی فرد کو یہ ہمت اور جرات نہیں ہوئی کہ اس لڑکی کو ہسپتال پہنچا دے ،ایمبولینس بلوا لے ، پولیس کوکال کرے یا کسی بھی طرح لڑکی کی مدد کرے جو کہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک بات ہے اور یہ معاشرے کے اس بے حس اور جابرانہ رویے کا کھلا ثبوت ہے جو وہ خواتین سے متعلق رکھتا ہے۔ کام کاج کے لیے نکلی خواتین کو کسی قسم کا تحفظ حاصل نہیں ہے دفاتر اور کام کی جگہوں پر تو کیا ،تعلیمی اداروں میں طالبات جسمانی ہراسگی کو برداشت کرنے پر مجبور ہیں۔گھروں میں خواتین کو جس violance کا سامنا ہے اسے تو خاندانی معا ملات کہہ کر یکسرنظرانداز کر دیا جاتاہے یہ تمام خواتین انصاف کے حصول سے کوسوں دور ہیں کیونکہ مارنے اور ہراساں کرنے والے انکے بھائی ،باپ، شوہر، دوست، استاد یا جاننے والے ہیں یہ عورتوں کا قصور ہے آخر کیوں ان کا تعلق ایسے لوگوں اور رشتوں سے ہے اور وہ ان سے انصاف کی امید کیوں رکھتی ہیں؟ کہنے کو تو بہت ساری باتیں کہی جا سکتی ہیں لیکن کیوں نہ آپ کو ایک کہانی سنائی جائے۔کہتے ہیں زمانہ قدیم میں ایک یونانی فلسفی ہمہ وقت اس سوچ میں غرق رہتا تھا کہ انصاف کیا ہے؟ کیونکرممکن ہے ؟ اور کیسے یہ کسی معاشرے کی راہ متعین کرتا ہے؟ اسی مسلہ پر غوروفکر کرتے ہو ئے ایک دن وہ باغ میں سے گزر رہا تھا کہ اس نے وہاں دو طویل قامت خواتین کو بیٹھا دیکھا اسے ان کی باتیں سننے کا تجسس ہوا وہ قریب ہی جھاڑیوں میں چھپ کر بیٹھ گیا ابھی وہ بیٹھا ہی تھا کہ اس نے وہاں کے شہزادے کو جس کے کان سے خون بہہ رہا تھا خواتین کی طرف آتے دیکھا پاس آکر شہزادے نے کہا کہ مجھے انصاف چاہیے میرے بڑے بھائی نے میراکان کاٹ دیا۔ اتنے میں بڑا بھائی بھی تلوار ہاتھ میں لیے وہاں آگیا۔ خواتین نے کہا ہم تمھیں انصاف دلایں گی کیونکہ ہم تو ہیں ہی انصاف کی دیویاں۔ کہو ہم دونوں میں سے تم کس کی مدد لینا چاہو گے؟ شہزادے نے پوچھا تم دونوں میں کیا فرق ہے ؟ اس پر پہلی دیوی جو نسبتا کم لمبی تھی نے کہا کہ میں تمھارے بھائی سے پوچھوں گی کہ وہ اپنے فعل کی وضاحت پیش کرئے؟ اور اسے حکم دونگی کہ آئندہ وہ تمھاری جان کی حفاظت اپنی جان سے بڑھ کر کرئے اگر وہ کوئی تکلیف تمھیں پہنچائے گا تو وہی تکلیف اسے بھی پہنچے گی ۔وہ تمھارے لیے ایسا خوبصورت ہلمٹ تیار کرئے جس سے تمھارا زخم چھپ جائے اور وہ تمھارے لیے کان کا کام بھی کرئے۔ دوسر ی دیوی نے کہا میں تمھارے بھائی کو اس کے کئے پر سو کوڑے ماروں گی پھر تمھارے ہاتھ میں تلوار دے کر کہوں گی کہ اس کے دونوں کان کاٹ دو۔زخمی شہزادہ جو درد سے نڈھال ہو رہا تھا اس نے دوسری دیوی سے کہا کہ میں تمھارے فیصلے کو قبول کرتا ہوں میں اپنے بھائی سے محبت کرتا ہوں لیکن میں یہ بھی چاہتا ہوںکہ اس کو اس کے کئے کی سزا بھی ملے۔ تو چھوٹے بھائی نے تلوار سے بڑے بھائی کے کان پر اتنا ہی زخم لگا دیاجیتنا کہ اسکو ملا تھا ۔ شہزادے چلے گئے تو لمبی والی انصاف کی دیوی نے کہا ،دیکھا میں نے نہیں کہا تھا کہ انسان کے انصاف کا مطلب بدلہ ہے۔
شہزادے نے جس فیصلے کا چنائو کیا اس نے دونوں بھائیوں کے درمیان ایک بڑی جنگ کی نیو رکھ دی ہے۔ انصاف تبھی ہو سکتاہے جب ماضی اور مستقبل کے درمیان امتیازکرکے فیصلہ کیا جائے۔اس واقعہ سے فلسفی کو سمجھ ٓائی ، آنے والے وقت کو مظلوم کیلئے بہتر بنانے والے فیصلے ہی انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہیں ۔ گذری اور موجودہ غلطیوں کو سدھارے بنا آنے والے وقت میں ان غلطیوں، کوتاہیوں اور خامیوں کی پیش بندی نہیں ہو سکتی یعنی انصاف ممکن نہیں ہو سکتا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.