مغربی این جی اوز پاکستان کے اندرونی ودینی معاملات میں مداخلت نہ کریں : علماء

149

اسلام آباد( نیوزنامہ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر شیخ الحدیث مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ،نائب امراء مولانا پیرحافظ محمدناصرالدین خاکوانی، مولانا صاحبزداہ عزیز احمد ،مرکزی ناظم اعلی مولانا عزیز الرحمن جالندھری ،مولانا اللہ وسایا ،مولانا محمداسماعیل شجاع آبادی ،مولانا عزیز الرحمن ثانی ،مولانا عبدالنعیم نے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطالبہ کہ ۲۰۱۸ء کے الیکشن میں قادیانیوں کو بطور مسلمان ووٹ کاسٹ کرنے کا حق دیا جائے۔ ورنہ اس کے بغیر الیکشن کو منصفانہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہیومن رائٹس کا یہ مطالبہ سراسر حقائق کے منافی اور خلاف حقیقت اور خلاف آئین ہے پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جس کی منتخب قومی اسمبلی وسینٹ نے کئی ماہ کے مسلسل غورفکر کے بعد متفقہ طورپر آئینی اور قانونی طورپر منکرین ختم نبوت قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قراردیا ۔پاکستان کی سول عدالتوں سے لے کر سپریم کورٹ تک سب ہی نے کئی کیسوں کی مکمل چھان بین، تحقیق وتفتیش اور دونوں فریق (قادیانی ومسلم) کو سننے کے بعد فیصلے دئیے کہ قادیانی امت مسلمہ کا حصہ نہیں ہیں۔دنیا بھر کے تمام مسلم ادارے، شخصیات، دارالافتاء اس پر متفق ہیں کہ قادیانی مسلمان نہیں۔رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس مکہ مکرمہ میں پوری دنیا کی مسلم تنظیموں کے سربراہان نے متفقہ طور پر قراردیا کہ قادیانی مسلمانوں سے ایک علیحدہ گروہ ہے۔ ان کا اسلام اور اہل اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے۔ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے ایک مغربی این۔جی۔او کو کیا حق پہنچتا ہے کہ منتخب حکومت کی منتخب پارلیمنٹ، ایک آزاد جمہوری ملک کی آزاد عدالت عظمیٰ اور عالم دنیا کے ممتاز مسلم اداروں کے فیصلے کے خلاف یہ مطالبہ کرے کہ انہیں مسلمانوں میں شامل کیا جائے۔علماء نے کہا کہ کیا کسی این۔جی۔او کو حق حاصل ہے کہ وہ امریکہ وبرطانیہ، چائنا ورشیا(روس) کی پارلیمنٹ کے فیصلوں کو چیلنج کرے۔ ان کے فیصلہ کے خلاف اپنی رائے کو منوانے کی جرأت کرے؟ اگر نہیں اور قطعاً نہیں تو پھر پاکستان کی جمہوری پارلیمنٹ اور عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کو وہ کیوں چیلنج کرنے کی جرأت کر رہے ہیں؟ علماء نے کہا کہ دنیائے جمہوریت میں پارلیمنٹ، عدالتوں کے فیصلوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔پاکستان کے ساتھ دوہرامعیارکیوں؟ قادیانی خود کو نہ ظعف جعلی طورپرخود مسلمان کہتے ہیںبلکہ ساتھ ہی روئے زمین کے تمام مسلمان جو مرزاقادیانی کی جعلی نبوت کے قائل نہیں ان تمام عالم دنیا کے مسلمانوں کو غیرمسلم کہتے ہیں۔ علماء نے کہا کہ ہیومن رائٹس کمیشن کو یاد رکھنا چاہئے کہ دنیا کی کوئی طاقت اب قادیانیوں کو مسلمانوں کی صفوں میں شامل نہیں کر سکتی۔ پنجاب کے عبوری وزیراعلیٰ حسن عسکری سے ملتان میں ایک اخباری نمائندہ نے پوچھا کہ ملتان کے آر۔پی۔او خدا بخش نتھوکہ قادیانی کا تبادلہ کیا جائے گا تو عبوری وزیراعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی عقیدہ کا شخص کہیں بھی ملازم ہوسکتا ہے وزیراعلی کو یہ معلقوم ہوناچاہیے کہ قادیانی صرف غیرمسلم اقلیت ہی نہیں بلکہ وہ آئین پاکستان کے بھی باغی ہیں اکھنڈ بھارت ہر قادیانی کا الہامی عقیدہ ہے اس لیے کسی بھی کلیدی عہدے پر قادیانی کی تعیناتی ملکی سلامتی کے منافی ہے خدابخش نتھوکہ کا اس سے قبل بطور ڈی ،پی او خوشاب قادیانیت کو پروموٹ کرنے اور قادیانیت کی تبلیغ تشہیر جیسے اسلام و آئین پاکستان دشمن واقعات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔کہ انہوں ۔ کیا جناب عسکری صاحب یہی چاہتے ہیں کہ وہی کھیل ملتان میں بھی قادیانی آزادی سے کھیل سکیںیہ وزیر اعلی کی بھول ہے کہ پاکستان کا قادیانی، قادیانیت کی تبلیغ سے مسلمانوں کو مرتد بنائے۔ یہ کسی بھی طرح قابل قبول نہیں۔نگران وزیراعلیٰ قادیانیوں کی وکالت، قادیانی پاکستان کی ملازمت کریں، غیرمسلم بن کر، مسلمانوں میں قادیانیت کی تبلیغ کر کے افراتفری، اشتعال، لاقانونیت پھیلائیں تو اس کی نہ قانون اجازت دیتا ہے نہ اخلاق۔ نہ وقت کے حالات، اور یہی ہمارا مطالبہ ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.