غزل

174

گل و غنچہ مداح اس کے،نغمہ بلبل میں بات اس کی
ذکر ہر وقت اس کے ہیں،لاحاصل یہ تو نہیں ہوتا

سہانا ہی صحیح حسن اس کا،خیر مقدم ہم بھی کرتے ہیں
شاید اسے معلوم نہیں ،یہ وصف امر نہیں ہوتا

میں کیوں کہوں اس کو، میری خبر گیر کو آئے
اسے معلوم تو ہوگا،کہ میرا گزر نہیں ہوتا

وہ سمجھتا ہے کہ چپ ہوں تو گزر اچھے ہیں
اسے کیا خبر کہ ہر مکان گھر نہیں ہوتا۔
قاسم علی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.