نہتے مظاہرین پراسرائیلی فوج کی فائرنگ،5فلسطینی شہید، 500سے زائد زخمی

161

مقبوضہ غزہ(مانیٹرنگ ڈیسک)فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے پانچ فلسطینی شہید اور500 سے زائد زخمی ہوگئے جن میں سے چار کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔زخمیوں میں چھ بچے، تین طبی عملے کے کارکن اور دیگر شہری شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے زخمیوں کو اسپتالوں میں لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ادھر غزہ کی مشرقی سرحد پر فلسطینی سپریم مزاحمتی کونسل برائے حق واپسی نے گزشتہ روز سرگرمیوں کوختم کرنے کا اعلان کیاہے، حق واپسی مزاحمتی کونسل میں حماس، اسلامی جہاد اور دیگر فلسطینی تنظیمیں شامل ہیں۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق غزہ کی مشرقی سرحد پر جمع ہونے والے فلسطینی مظاہرین پراسرائیلی فوج نے فائرنگ کی اور آنسوگیس کی شیلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 13 سالہ بچے سمیت پانچ فلسطینی شہید ہوگئے۔غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا کہ مشرقی خان یونس میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ایک 13 سالہ لڑکا سرمیں گولی لگنے سے شہید ہوگیا۔ شہید ہونے والے لڑکے کی شناخت نہیں کی گئی ۔ایک دوسرے بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں مشرقی رفح میں 24 سالہ محمد فوزی محمد الحمایدہ شہید ہوگیا۔ الحمایدہ کے سر، سینے اور ٹانگوں میں گولیاں ماری گئیں۔اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ اور آنسوگیس کی شیلنگ کے نتیجے میں کم سے کم 500 فلسطینی زخمی ہوئے جن میں سے چار کی حالت خطرے میں بیان کی جاتی ہے۔زخمیوں میں چھ بچے، تین طبی عملے کے کارکن اور دیگر شہری شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے زخمیوں کو اسپتالوں میں لے جانے والی ایمبولینسوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ادھر غزہ کی مشرقی سرحد پر فلسطینی سپریم مزاحمتی کونسل برائے حق واپسی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران گزشتہ روز سرگرمیوں کوختم کرنے کا اعلان کیا۔ حق واپسی مزاحمتی کونسل میں حماس، اسلامی جہاد اور دیگر فلسطینی تنظیمیں شامل ہیں۔خیال رہے کہ 30 مارچ سے غزہ کی مشرقی سرحد پر جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ کے نتیجے میں ڈیڑھ سو فلسطینی شہید اور پندرہ ہزار سے زاید زخمی ہوچکے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.