بلا عنوان

7,196

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔شیکسپیر نے کہا تھا کہ دنیا ایک سٹیج ہے اور ہم ایکٹر ۔ اتنے بڑے رائٹر نے کہا تھا تو ٹھیک ہی کہا ہو گا ۔ ہمیں تو یہ دنیا ایک رنگا رنگ عجائب خانہ لگتی ہے جہاں موجود متحرک عجوبوں کی حرکات و سکنات آپکو بیک وقت ہنساتی بھی ہیں اور رلاتی بھی ۔ عید سے پہلے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کے بعد کا بل سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں کئی طالبان آئے اور دو دن تک آزادانہ گھومتے رہے، لوگ ان کے ساتھ سلفیاں بناتے رہے کسی نے پوچھا آپ کا بل کیا پیغام لے کر آئے ہیں؟ تو ان کے کمانڈرکا جواب تھا ہم پاکستان یا کسی اور ملک کیلئے نہیں لڑ رہے ہیںنہ ہمیں کوئی فنڈنگ نہیں ملتی ہے ہم صرف خدا کیلئے لڑ رہے ہیں جب تک یہاں امریکہ ہے یہ لڑائی جاری رہے گی ۔ ٹی وی پر یہ مناظر دیکھتے ہوئے ہم سوچ رہے تھے کہ اگلے طالبانی خودکش حملے میں چالیس پچاس افغانی بچے ، عورتیں، مرد اور معمر افراد مارے جائیں تو اس میں فنڈنگ سے محروم طالبان کا کیا قصور؟ اب امریکی بازاروں ، سکولوں، فوجی بارکوں اور تھانوں میں نہ ملیں تو کوئی بتائے کہ طالبان کیا کریں ؟ ایسے ہی حالات میں آپکے رونے میں بے بسی کی ہنسی شامل ہو جاتی ہے۔
ایسی ہی کیفیت ہماری تب ہو گئی جب اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق سے امریکہ بہادر یہ کہتے ہوئے علیحدہ ہو گیا کہ یہ کونسل منافق اور اسرائیل مخالف ہے۔ نکی ہیلی جو اقوام متحدہ میں امریکی سفیر ہیں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس کونسل نے انسانی حقوق کا مذاق بنا رکھا ہے کیونکہ چین ، سعودی عرب ، روس ، ویتنام وغیرہ جیسے ملک اس کے رکن بنا دئیے گئے ہیں جن کا انسانی حقوق کا ریکارڈ بہت خراب ہے انھیں اس بات کا بہت ملال تھا کہ کونسل بے چارئے اسرائیل کو مسلسل ٹارگٹ بنائے ہوئے ہے دیکھیں جناب! آپ امریکہ کے لاکھ مخالف سہی ،اسکی پالیسیوں سے آپکو شدید اختلاف سہی لیکن یہ بات تو ماننا پڑئے گی کہ امریکہ غلط نہیںہے۔اتنے اداروں اور کونسلوں کے ہوتے ہوئے دنیا بھر میں حقوق انسانی کی جو پامالی ہے اس کے بعد آپکو نکی ہیلی کی بات میں وزن محسوس نہیں ہوگا تو کیا ہو گا ؟ امریکہ تو دن رات ایک کئے ہوئے ہے انسانی حقوق کو محفوظ بنانے کیلئے ۔ تارکین وطن کے 2000 سے زائد بچوں کو ان کے والدین اور گھر والوں سے علیحدہ کرکے انھیں پنجرہ نما بارکوں میں رکھنا ، امریکیوں کے حقوق کا تحفظ ہی تو ہے ۔ کیونکہ میکسیکو اور دیگر غریب ملکوں سے آنے والوں سے اہل امریکہ کی ملازمتوں ، تعلیمی اداروں ، ہسپتالوں اوررہائشی آبادیوں کو شدید خطرہ ہے۔ اب 2.3 ملین افراد امریکی جیلوں میں بند ہیں اور یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے تو یہ سب بھی لوگوں کی سکیورٹی کیلئے۔ کالے اور دوسرے رنگوں کے لوگ تعصبات کا شکار ہیں تو بے چارہ امریکہ کیا کرئے اس نے تو آٹھ سال تک ایک کالے صاحب کو صدر بنا کے رکھا اب اس سے بڑا عہدہ کیا ہوسکتا ہے ؟ کالو ں کو پولیس بنا ہچکچاہٹ گولیوں کا نشانہ بنائے تو اس کا مطلب تفریق تھوڑی ہے۔ پاپا نیو گنی کے بعد اگر امریکہ وہ واحد ملک ہے جہاں مٹیرنٹی لیوبمعہ تنخواہ کے گارنٹی کا قانون نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کا آجر معاشرتی ذمہ داریوں سے پوری طرح آگاہ ہے اور وہ قوانین کا مرہون منت نہیں۔ بڑی آبادی کی جاسوسی ، قیدیوں پر تھرڈ ڈگریوں کا استعمال ، بنا مقدمات کے جیلیں، سب دہشت گردوں سے نپٹنے کے اقدامات ہیں کسی کے حق پر لات مارنا نہیں ۔ یروشلم جیسے متنازع علاقے میں دنیا کی مخالفت کے باوجود سفارت خانہ کھولنا تو اسرائیل جیسے تنہا ملک کی اخلاقی مدد تھی ۔ فلسطینوں کی علیحدہ ریاست کی تشکیل کے خواب کی مسماری کی طرف ایک اور قدم نہیں تھا۔ ڈرونز سے دوسرے ملکوں پر فضائی بمباری اور وہاں کی آبادی کا قتل وغارت ایک بڑے مقصد یعنی امن کی بحالی کیلئے ہے۔150 ملکوں میں 170,000 امریکی فوجیوں کی تعنیاتی تو صرف امریکیوں کو روزگار فرہم کرنے کا بہانہ ہے ۔
فلسطین ، افغانستان سے لے کرساوتھ امریکی ممالک ، مڈل ایسٹ سب کے سب امریکی غیر جانبداری اور حقوق کے تحفظ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ کوئی ایسی جنگ نہیں جو امریکہ نے مظلوم عوام کی دادرسی میں شروع نہ کی ہو۔ اب امریکہ انسانی حقوق کی کونسل کی ناقص کارکردگی پر مایوسی اور غصے کا اظہار نہیں کرئے تو کیا کرئے۔ امریکہ کو چاہیے ان تمام اداروں سے لاتعلقی کو یقینی بنائے ۔ یہ تمام ادارے اجلاس بلانے ،مذمت کرنے اور قراردادیں پاس کرنے کے علاوہ کرتے ہی کیا ہیں ؟ انکی مذمتی قراردادیں کاغذات کا قبرستان ہیں ۔ یہ ادارے ہونگے نہ ان کی قراردادوں کے لئے بے دریغ کا غذ کا استعمال ہو گا۔ کم کاغذ مطلب کم درختوں کی موت۔ یہ تو واضح ہے کہ قراردادوں کی بجائے اہل دنیا کو درختوں کی زیادہ ضرورت ہے۔ ویسے بھی صدر ٹرمپ ایک دور اندیش انسان ہیں زمینی معاملات تو سبھی deal کر لیتے ہیں even پاکستانی سیاستدان بھی۔ لیکن صدر ٹرمپ کی پرواز اونچی ہے انھیں زمین سے زیادہ خلا میں دلچسپی ہے خصوصا جب سے انھوں نے سنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک کے ایک سابقہ وزیر اعظم خلائی مخلوق سے مقابلہ کررہے ہیں تو ان کے کان کھڑے ہو گے ہیں ۔ انھوں نے امریکی فوج کو حکم دیا ہے کہ جلد از جلد وہ اپنی چھٹی شاخ یعنی خلائی فوج کی تیاری کریں انھیں لگ رہا ہے کہ روس اور چین تو دور کی بات پاکستانی اس قابل ہو گئے ہیں کہ خلائی مخلوق کا سامنا کر رہے ہیں یہ بات امریکہ کیلئے کا فی embarrassing ہے چنانچہ ٹوئیٹر سے ٹائم نکال کر صدر ٹرمپ نے ایک خطاب میں کہا کہ خلا میں صرف امریکی موجودگی کافی نہیں بلکہ زمین کی طرح وہاں بھی ہمارا غلبہ ہونا چاہیے۔ پچھلے دنوں ہم نے بھی چاند پر آبادکاری کی بات کی تھی لگتا ہے وہ بھی ٹرمپ صاحب تک پہنچ گئی تبھی تو انھوں نے حکم دیا کہ خلائی فوج کے ذریعے چاند کے ساتھ ساتھ مریخ پر بھی فورا قبضہ کر لیا جائے ۔ جب نظر چاند اور مریخ پر ہو تو زمین کے چھوٹے موٹے انسانی حقوق کے ادارے کیا حقیقت رکھتے ہیں سوال یہ ہے کہ خلا کے باسیوں کا کیا بنے گا؟زمین والے تو امریکیوں کی عجوبہ گیریوں سے بچنے کی ترکیب تو ڈھونڈنہیں پائے۔ دیکھا ہنسی میں رونے کی ملاوٹ کے بہانے اس عجائب خانے میں کم نہیں ہیں۔ایسے ہی ایک با کمال اور ہمہ جہت مصنف جن کی تحریروں کو پڑھ کر مسکراہٹ آپکے ہونٹوں سے شروع ہو کر آنکھوںکے رستے دل تک پہنچ جاتی تھی جنھوں نے اس عجائب خانے کے کرداروں کو ایسی مہارت ،روانی اور سادگی سے پیش کیا کہ پڑھنے والوں کو سب کردار جیتے جاگتے محسوس ہوتے ہیں اردو کے یہ مایہ ناز مصنف مشتاق احمد یوسفی ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن مشتاق احمد یوسفی جیسے اعلی پایہ کے ادیب کی زندگی سانس ختم ہونے سے ختم نہیں ہو جاتی ۔ جب تک ان کی تحریریں پڑھی جاتی رہیں گی اور وہ اپنے readers کو انسپائر کرتے رہیں گے وہ ہمارے درمیان رہیں گے ۔ مشتاق احمد یوسفی صاحب ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں اور یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ نے ہمارے لیے ایسے لافانی مضامین لکھے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.