پس آئینہ ۔۔۔۔۔

8,351

تحریر:آئمہ محمود۔۔۔چاند کو ہماری روایتی قصوں اور کہانیوں میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اگر چاند نہ ہوتا تو شاعر حضرات خوبصورت چہروں کو اور مائیں اپنے بچوں کو کس سے تشبیہ دیتیں؟ شاعری کا بڑا حصہ تخلیق سے محروم رہ جا تا ۔ چندا ماموں اور اس میں چرخاکاتتی بوڑھی اماں عرصہ تک ہمیں fascinate کرتی رہی۔ یہ سحر اس وقت ڈانوں ڈول ہوا جب اردو کی کتاب میں ہم نے ،چاند پر پہلا قدم، پڑھا ۔ ارے ۔۔۔۔یہ تو ویران بیاباں اور بنجر جگہ ہے جہاں پہنچ کر انسان نے کا ئنات کو تسخیر کرنے کی کوششوں میں ایک اور باب کا اضافہ کیا ہے عرصہ تک یہ مانتے رہے کہ چاند گاڑی میں بیٹھ کر فانی انسان نے لافانی مثال قائم کر دی ہے۔ جب پڑھنے اور جاننے کی کھوج میں آگے بڑھے، تو دھک سے رہ گئے ۔۔یہ کیا ؟ قمر پر جو کمند ڈالی گئی تھی وہ اتنی سیدھی اور کھری بات نہ تھی جتنی کہ درسی کتابوں میں درج ہے ۔اس حوالے سے بے شمار شکوک وشہبات ہیں اور مدلل دلائل دئیے جاتے ہیں کہ چاند تک انسان کبھی پہنچا ہی نہیں ۔ وہ سب تو ہوکس Hoaxes’ ‘ تھا ہولی وڈ کے سٹوڈیز میں تیار کردہ سیٹ پر مون لینڈنگ کا ڈراما رچایا اور ٹیلی کاسٹ کیا گیا۔ یہ بات ذہین میں آتی ہے کہ اگر واقعی 1969 میں سائنسدانوں کے پاس چاند تک جانے کی ٹیکنالوجی تھی تو اس میں پیش رفت کیوں نہیں ہوئی ؟ ٹیکنالوجی کی ترقی کے حساب سے تو اب تک چاند پر آباد کاری شروع ہو چکی ہوتی۔یہ پہلا موقع تھا کہ کتاب میں درج ایک تاریخی واقعہ کے بارے میں doubts نے سر اٹھایا۔ جو ں جوں معلومات تک رسائی ہوتی گئی ،ہونے پر نہ ہونے کا گمان بھی پیدا ہوتا گیا۔مون لینڈنگ کو چیلنج کرنے جیسی conspiracy theories بے شمار ہیں ۔نائن الیون کے بارئے میں بھی لا تعداد تھیوریز ہیں ۔جن میں سے ایک یہ ہے کہ یہ سب کچھ امریکی حکومت کا خود کا کیا دھرا تھا۔ 2014 میں ملائشیا ء ایرلائن کی فلائیٹ 370 اچانک لاپتہ ہو گئی ۔ 4 سال بعد اور جدید ترین ٹیکنالوجی کے باوجود اس فلائیٹ اور اس کے بد قسمت مسافروں کے ساتھ کیا بیتی اسکا کوئی حتمی جواب نہیں ،اگر ہے تو ایک کے بعدایک تھیوری۔اسی سال کچھ مہنیوں پہلے برطانیہ نے پوری دنیا کے سامنے واویلا مچایا کہ روس کا ایک سابقہ ایجنٹ جو برطانیہ میں پناہ لیے ہوئے تھا اس کو بیٹی سمیت روس نے زہر دے کر مارنے کی کوشش کی ہے ۔اس واقعہ کو انتہائی اہمیت دیتے ہوئے امریکہ، برطانیہ اور اس کے تمام حواری یورپی ملکوں نے روس کے ساتھ شدید احتجاج کرتے ہوئے اس کے سفارتی عملے کو اپنے ملکوں سے نکل جانے کا حکم دیاصورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ کہا جانے لگا کہ سرد جنگ کے بعد یہ پہلی دفعہ ہے کہ مغرب اور روس کے درمیان کشیدگی اتنی شدت اختیار کر گئی ۔ روس نے بہرحال برطانیہ کے دعوی کو ماننے سے انکار کر دیا اور موقف اختیار کیا کہ برطانیہ نے خود زہر دیا ہے اور وہ بچوں کا کھیل کھیل رہا ہے ۔ برطانیہ میں کئی آزادانہ حلقے حکومت کے بیانیہ کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں غرض کئی سازشی پلاٹ تلاش کیے جا رہے ہیں ۔ اصل میں کیا ہوا ،کیا ہونے جا رہا ہے؟ صرف اور صرف اندازے ہیں۔
باقی دنیا کی طرح ہمارا ملک بھی Conspiracy theories میں کسی سے پیچھے نہیں ۔ قائد اعظم اور فاطمہ جناح کی وفات ہو یا لیاقت علی خان کا قتل ، سقوط ڈھاکہ کے ذمہ داروں کا تعین ہو یا بے نظیر بھٹو کی شہادت ،ہر المیہ پیاز کے چھلکوں کی مانندکئی پرتیں لیے ہوئے ہے۔ ملک میں جو کچھ ہوا یا ہو رہا ہے، کیا وہ وہی ہے جو ہمیں دیکھائی اور سنائی دے رہا ہے یا پس پردہ حقائق کچھ اور ہیں ؟ حقائق واقعی حقیقی ہیں یا تصورات کی کار ستانی ہے ؟پچھلے دو ہفتوں سے ٹی وی چینلز ، اخبارات اور سوشل میڈیا پر نظر ڈالیں تویہی سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ ویسا ہی ہے جیسا بتایا جا رہا ہے یا دبیز پردوں کے پیچھے قصہ کچھ اور ہے ؟ مرکزی کردار وہی ہیں جو نظر آرہے ہیں یا کسی کا cover up ہیں؟ واقعات کی نوعیت واقعی سنگین ہے یا سنگین بنانے کی سعی ہو رہی ہے ؟ ملک کی نجات دھندہ سمجھی جا نے والی شخصیت اور ان کے تعلق داروں کے بارے میں انہی کے خیر خواہ حضرت جو طوفان بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہیں اسکے سچ یا جھوٹ ہونے کا سوال تو بعد میں اٹھتا ہے پہلے تو ان صاحب کے صحیح الدماغ ہونے پر شبہ ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ کوئی اپنے کو سر عام محض اس لیے گالیاں دے کہ اسے خبر ہوئی ہے کہ کوئی ،دوسرا، ایسا کرنے والا ہے۔بذریعہ ٹاک شوز وہ ایسی باتیں ہرخاص و عام تک پہنچا رہے ہیں جو اگر کسی فلم یا ڈرامے میں ہوں تو اس پر پابندی لگ جائے یا اس کو ,A, سرٹیفکیٹ ملے۔ وہ نام لے لے کر ہر حیات و وفات شدہ عورت مرد کے ایسے کارنامے بیان کررہے ہیں کہ جو دیواروں سے بھی نہیں کیے جاتے کیونکہ انکے بھی کان ہوتے ہیں۔ ایسا کرتے ہوئے وہ یہ تاویل دے رہے ہیں کہ یہ سب آنے والی ایک بک میں ہے جو کہ ابھی شائع نہیں ہوئی۔ ملک کی نامور سیاسی ہستی جنھیں آبادی کا بڑا حصہ اپنا رہبر و راہنما مانتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ وہ ملک وقوم کو ترقی اورکامیابی کے راستے پر گامزن کرنے کے اہل ہیں۔مختلف سیاسی پارٹیوں کے افراد جوق در جوق انکی پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں جو نہیں ہو پا ئے وہ بھی ہاتھ باندھے انکے در پر کھڑے نظر کرم کی آس لگائے ہوئے ہیں ایسی اعلی و افضل شخصیت کے امیج کو ایک ایسی کتاب سے شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے جس کا ابھی کو ئی وجود نہیں اور جس کی مضنفہ کی کریڈبیلٹی بقول ان کے صفر ہے ۔یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ کیوں ملک کہ تمام ٹی وی چینلز، ٹاک شوز کے ہوسٹ ، کالم نگار اور سوشل میڈیا ایک ان دیکھی کتاب کے مواد کو زیر بحث لائے ہوئے ہیں ۔کیا یہ سب غیبی کتاب کی کرامات ہی بیان ہو رہی ہیں یا کچھ اور ہے ؟ ایک انسان جس کی آپ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں جسکے ساتھ بنا رشتہ ایک موبائل میسج سے ختم ہو سکتا ہے اسکی آواز اسقدر طاقت ور ہو گئی کہ آپ کی راتوں کی نیند اور دن کا چین ختم ہو گیا؟ ہاتھیوں کو چیونٹوں سے ڈر لگنے لگا؟ کیا یہ کتاب ہی کا ذکر ہے یا آنے والے واقعات کا پیش منظر تیار ہو رہا ہے ۔سازشی تھیوریز میں ایک اور تھیوری کے اضافے کی کوشش ہے یا کھودا پہاڑ نکلا چوہا والی ضرب مثل کی طرف جا یا جا رہا ہے ؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.