عید پرمرغن اوردیر ہضم غذاؤں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے:طبی ماہرین

175

لاہور( نیوزنامہ) بسیار خوری یا پر خوری ہمیشہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔اعصابی تناؤ،دماغی کمزوری،ہائی بلڈ پریشر ،شوگر اور پیٹ کی بیماریاں زیادہ کھانے ہی سے پیدا ہوتی ہیں۔مہینہ بھرروزے رکھنے کے بعد ہمیں انپے معدہ انتڑیوں جگر گردوں اور پٹھوں کو آرام دینے کا سنہری موقعہ میسر آیا تھا کوبسیار خوری سے ایک دن ہی میں ضائع کر دیتے ہیں۔عید کے دن مرغن غذائیں مثلاً روسٹ،مرغ قومہ ،بریانی،کڑاہی گوشت،حلوہ پوری،کچوری،نان چنے،سری پائے،کیک، مٹھائیاں،آئس کریم کوک وغیرہ کا جی بھر کے استعمال کرتے ہیں۔نتیجتاً بیمار ہوکر بستر سے لگ جاتے ہیں۔ایک ماہ تک اپنے جملہ اعضاء کو آرام دینے کے بعد ہلکی اور زودہضم غذا کی ضرورت ہوتی ہے لہذا مرغن اوردیر ہضم غذاؤں سے مکمل پرہیز کرنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر محمد محسن، ڈاکٹر عامر دائود، ڈاکٹر محمد افضل میو، ڈاکٹر محمد علی بلال، ڈاکٹر صومیہ دائود،ڈاکٹر انعم ہاجرہ نے میڈیکل آکو پنکچر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر اہتمام ’’ عید سعید اور ہماری صحت‘‘ کے حوالے سے منعقدہ مجلس مذاکرہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ ناشتہ میں سویاں بنائیں اور اس میں دودھ ڈال کر استعمال کریں۔دوپہرکے کھانے میں سبزی گوشت ،جپاتی کے ساتھ اور رات کے کھانے میں بھی ہلکی زود ہضم غذا کا استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ آج کل سیب ،امرود،انگور،کیلا،وغیرہ عام دستیاب ہیں۔ان میں سے کسی ایک پھل کو استعمال کرنے سے جسم کو بھرپور توانائی حاصل ہوتی ہے۔ان پھلوں سے نشاستہ دار اجزائ،قدرتی نمکیات مثلاً سوڈیم، کیلشیم،پوٹاشیم، فولاد،فاسفورس اور مقطر پانی کا فی مقدار میں حاصل ہوتا ہے۔یہ پھل قبض نہیں ہونے دیتے اور انسان تندرست و توانا رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں سگریٹ،نسوار کثرت چائے نوشی اوردیگر منشیات کے عادی افراد دن بھر ان چیزوں سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایک ماہ تک ان مضر صحت اشیا سے پرہیز کرنے کے بعد عید پرتمام کثریں نکال لیتے ہیں۔حالانکہ رمضان شریف کا مہینہ ان منشی اشیاء کے عادی افراد کے لئے ہمیشہ کے لئے ان بری عادتوں سے نجاب کا سنہری موقعہ فراہم کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ موٹاپے سے پریشان حال لوگوں کے لئے بھی رمضان شریف کا مہینہ ایک نعمت ہے۔اگر فربی کی جانب مائل افراد اس مرض سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو رمضان کے بعد بھی اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے موٹاپے سے مکمل نجات حاصل کر سکتے ہیں۔رمضان المبارک کا مہینہ ہمیں نظم و ضبط اور ہر بات میں اعتدال کے تحت زندگی بسر کرنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے۔رمضان کے بعد بھی اسی نظم و ضبط اور اعتدال کو برقرار رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔

اسے بھی پڑھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.