بازیگریاں

8,118

تحریر”:آئمہ محمود۔۔۔سن ہے 1938 اور مقام ہے علی گڑھ یونیورسٹی جہاں ایک مباحثہ کا انقعاد کیا گیا دیگر شرکا کے علاوہ محمد علی جناح بھی مدعو ہیں جو بات جناح صاحب کو دیگر شرکا سے منفرد کرتی ہے وہ یہ ہے کہ انھیں یونیورسٹی سٹوڈنٹ یونین کی لائف ٹائم ممبر شپ دی گئی اور انکی تصویر یونین ہال میں آویزاں کی گئی ۔ یونیورسٹی کی یہ روایت رہی ہے کہ جس شخصیت کو لائف ٹائم ممبر شپ دی گئی اسکی تصویر یونین ہال میں لگائی جاتی ہے اپنے قیام سے لکر آج تک علی گڑھ یونیورسٹی یہ ممبر شپ 35 شخصیات کو دے چکی جوکہ مختلف پس منظر ، شعبے اور خیالات کے حامل افراد رہے ہیںجن میں سے چند ایک دلائی لاما، مہاتما گاندھی ، خان عبدالغفار خان ، برطانوی مصنف ای ایم فاسڑ، کماری امرت کور، جوہر لال نہرو، سروجنی نائیڈو، مولانا آزاد، جمال عبدالناصر اور مدرٹریسا ہیںحال ہی میںہندوستان کے سابق نائب صدر محمد حامد انصاری وہ 36 وین شخصیت ہیں جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا گذشتہ 80 سالوں سے علی گڑھ یونیورسٹی کے یونین ہال میں لگی قائداعظم کی یہ تصویر متحدہ ہندوستان کی تحہ درتحہ تاریخ کی عکاس ہے۔لیکن اچانک اس سال حکومتی پارٹی کو اس تصویر کی یاد آئی اور انھیں یہ ملک کیلئے بڑا خطرہ محسوس ہوئی تو انھوں نے تصویر کو یونین ہال سے ہٹانے کیلئے باقاعدہ مہم کا آغاز کر دیا ۔ حکمران جماعت بی جے پی کے رکن پارلیمان نے یونیورسٹی کے چانسلر کو خط لکھ کر پوچھا کہ وہ وضاحت کریں کہ جناح کی تصویر آج تک یونیورسٹی میں کیوں لگی ہوئی ہے؟ انتہا پسند طلبا تنظیم ہندو یوا واہنی نے تصویر کو ہٹانے کے لیے سر توڑ کوشیشیں شروع کر دی جسمیںسوشل میڈیا کا activisim بھی شامل تھا جس سے شدید تنائو کا ماحول پیدا ہوگیا 2 مئی کو طلبہ کے درمیان لڑائی جھگڑئے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے غرض کہ ہندومسلم فساد کیلئے زمین کافی حد تک ہموار کردی گئی لیکن تمام تر دباو کے باوجود یونیورسٹی نے اس مطالبے کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے تصویر ہٹانے سے انکار کر دیا ۔ آخر کیا وجہ تھی کے آٹھ دہائیاںگزرنے کے بعد 2018 میں جب تقسیم کو ہوئے بھی 70 سال بیت گئے ہیں ایک رہنما کی تصویر پر اتنا وبال کیوںکھڑا کیا گیا ؟ اس سوال کے جواب میں کئی وجوہات بیان کی جاسکتی ہیں جن میں سے ایک اہم ترین وجہ یہ تھی کہ انڈیا کی دس ریاستوں کے چار پارلیمانی اور گیارہ اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات ہونے والے تھے انگریز کے لڑائو اور حکومت کرو کے فارمولے پرعمل کرتے ہوئے حکومتی پارٹی نے مذہب اور ملک دشمنی کے کارڈ کو کھیلنا شروع کر دیا ۔ قائد اعظم کی تصویر کو سب سے بڑا Threat اور ہندوستان کیلئے بے عزتی قرار دیتے ہوئے لوگوں کو communal بنیادوں پر تقسیم کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ ان مسائل اور مصائب کے خاتمے کی بات نہ کریں جو وہ ذات پات اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر برداشت کر رہے ہیں لیکن لگتا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے عوام تو شائد ہوشیار ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں وہاں کی اپوزیشن پارٹیوں کو یہ خوب علم ہوگیا ہے کہ بی جے پی کی کیمیونل سیاست کا مقابلہ صرف باہمی اتحاد سے ہی کیا جا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتا ئج میں لوک سبھا اور اسمبلیوں کی پندرہ سیٹوں میںسے صرف 2 سیٹیں بی جے پی کو ملیں باقی سب متحدہ اپوزیشن کے حصے میں آئیں ۔ حکمران جماعت کو سب سے بڑی شکست اتر پردیش کے کیرانہ پارلیمانی حلقے میں ہوئی۔ یہ وہ حلقہ ہے جہاں پچھلے انتخابات میں بی جے پی کو 50 فیصد ووٹ ملے تھے۔ ضمنی الیکشن میں متحدہ اپوزیشن کی جماعت راشٹریہ لوک دل کی امیدوار تبسم حسن کامیاب ہوئی ہیں یہ وہی حلقہ ہے جہاں حکمران پارٹی نے عوام خصوصا کسانوں ،مزدوروں اور پچھڑے طبقے کے مسائل پر بات کرنے کی بجائے قائد اعظم کی تصویر پر ہنگامہ کھڑا کرکے مذہب اور پاکستان دشمنی جیسے حربے استعمال کئے تھے لیکن ضمنی الیکشن کے نتائج نے ثابت کر دیا کہ غیر متعلقہ ایشوز کو آپ چالاکی و مکاری سے کچھ عرصہ کیلئے تو relevant ظاہر کرسکتے ہیں لیکن لمبے عرصہ تک آپ دوسروں کو اس جال میں پھنسا کہ نہیں رکھ سکتے انڈیا کے ضمنی انتخابات میں پاکستانی عوام اور سیاستدانوں کیلئے سیکھنے کو بہت کچھ ہے اگر ہم سیکھنا چاہیں تو۔ جولائی میں متوقع الیکشن میں سیاسی پارٹیوں کو اپنی حکمت عملی کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہاںقومی اور صوبائی حکومتیں اپنی مدت پوری کرکے تحلیل ہو چکی ہیں لیکن صوبوں میں نگران وزیر اعلی کے بارے میں فیصلوں کے حوالے سے کچھ سیاسی جماعتیں جسطرح کا اناڑی پن، غیر سنجیدگی اور مضحکہ خیز رویے کا مظاہرہ کر رہی ہیں اسے عوام کولمحہ فکریہ کے طور پر لینا چاہیے پارٹیوں کے اب تک الیکشن پلان سامنے آئے ہیں ان میں نہ تو کوئی ربط ہے اور نہ ہی کوئی تسلسل ۔ کرپشن کے خاتمے کا نعرہ پچھلے پانچ سالوں میں اسقدر تواتر سے لگایا گیا ہے کہ اسکا وہی حال ہو گیا ہے جو ہوا نکلے غبارے کا ہوتا ہے۔ کسی معاملے کی افادیت واہمیت کے خاتمے کیلئے اتنا کافی ہوتا ہے کہ اس پر باتوں کے محل کھڑے کر دئیے جائیں ۔ کرپشن کے مدعے کیساتھ بھی یہی ہوا حتی کہ عدالت اعظمی تک اس کو اپنے فیصلے کی بنیاد نہیں بنا سکی ۔ دس یا پندرہ نکات ہوں ، 100 دن کا پلان ہو یا ووٹ کو عزت دینے جیسے لفظی نعرے ، قائد اعظم کی تصویر ہٹاو مہم سے قطعی مختلف نظر نہیں آتے۔
موجودہ سیاسی صورتحال خصوصا کچھ سیاسی پارٹیوں کی لیڈر شپ کی سوجھ بوجھ کو دیکھتے ہوئے ہمیں اس واقعہ کی یاد آگئی جو پچھلے دنوں فرانس میں ہوا۔ فرانس کے شہر ایلنئے میں موجود تیرس (Terrus) عجائب گھر میں مصور ایچین تیرس کے نام سے منسوب 82 فن پاورں کے بارئے میں اب یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ تو مصور نے کبھی تخلیق ہی نہیں کیے۔ آرٹ کے ماہر ایرک فورکاڈا نے کئی ماہ قبل عجائب گھر سے رابطہ کرکے ان پیٹنگز کی اصلیت پر شکوک و شہبات کا اظہار کیا اس کے بعد ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جس نے بتایا کہ 82 پیٹنگز کا مصورکیساتھ کوئی تعلق نہیں ۔مصور ایچین تیرس 1857 میں پیدا ہوئے اور 1922 میں ایلنئے میں انتقال کر گے یہی وجہ ہے کہ ایلنئے میں انکے نام پر عجائب گھر بنا ہے اور بڑی تعداد میں مقامی اور غیر ملکی سیاح اس کا visit کرتے ہیں آج تک جن پیٹنگز کو اس لیے admire کر رہے تھے کہ وہ ایک عظیم مصور کے شاہکار ہیں وہ دراصل کسی اور انسان کے فن کا کمال تھیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ بہترین پیٹنگز ہوں لیکن انکی وہ قدرو قیمت اور تاریخی ویلیو نہیں جو ایچین تیرس کی پیٹنگز کی ہے۔
یہاں عوام کوبتانے تو آرٹ کا کو ئی ماہر نہیں آئے گا کہ جن سیاسی فن پاروں کی وہ ستائش کر رہے ہیں کیا وہ وہی ہیں جس کے ہونے کا دعوی کیا جا رہا ہے یا وہ بھی کسی اور فنکار کی کاریگر ی ہیں اس کے لیے ہمیں اپنی عقل وفکر سے کام لینا ہو گا ورنہ اگلے کئی سال کس کی تصویر لگائی جائے اور کس کی اتاری جائے جیسی بازیگریوں کی نظر ہو جائیں گے۔

اسے بھی پڑھیں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.