مُبَّشِرَاتْ

204

تحریر:محمد آمین خالد
قران و حدیث کی روشنی میں آخری زمانے کے مبشرات(یعنی خوشخبریاں)
حضور نبی پاک ؐ نے فرمایا’’میرے بعد نبوت ختم ہے مگر مبشرات ہیں‘‘ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی یا رسول اﷲ ؐ مبشرات کیا ہیں؟ تو حضورؐ نے فرمایا کہ ’’الرویا الصالح‘‘ (نیک لوگوں کی خوابیں)۔
حضرت عباس بن صامتؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ……’’مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے‘‘۔……
(ابن داؤد5018باب فی الرویا)
اسی حدیث پاک کو حضرت انس بن مالک ؓ نے اس طرح روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نیک آدمی کے اچھے خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک ہیں۔……(صحیح بخاری2178)
مومنین کیلئے ایک اورخوشخبری کے طور پر قر آن پاک کی یہ آیت بھی بہت بڑی سند ہے کہ
(سورۃ النحل آیت16)……’’اور بے شک ہم نے مومنین کی مدد کرنا اپنے ذمہ کرم میں لے لیا ہے‘‘
تفسیر:اور جس طرح پچھلی چودہ صدیوں سے اﷲ تعالیٰ نے مومنین کی مدد کرنا اپنے ذمہ کرم میں لیا ہوا ہے اسی طرح زمانہ آخر کے متعلق بھی قرآن پاک میں خوشخبریاں دی گئی ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب روئے زمین پر دین حق غالب ہو جائے گا تمام دیگر ادیان کا خاتمہ ہو جائے گا ۔روئے زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی جس طرح کہ پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔ تمام انبیاء کرام کی پیش گوئیاں پوری ہوں گی ،پوری دھرتی پر قرآن کی حکومت قائم ہو گی ،اسلام کا قانون اور نظام واحد خالب اور رائج ہو جائے گا۔
(سورۃ کہف آیت18)……’’’’اور تمہارا خیال ہے کہ وہ جاگ رہے ہیں حالانکہ وہ عالم خواب میں ہیں اور ہم انہیں داہنے باہیں کروٹ بھی بدلوا رہے ہیں اور ان کا کتا ڈیوڑھی پر دونوں ہاتھ پھیلائے ڈٹا ہوا ہے اگر تم ان کی کیفیت پر مطلع ہو جاتے تو الٹے پاؤں بھاگ نکلتے اور تمہارے دل میں دہشت سما جاتی‘‘۔
اسی طرح اصحاب کہف کے حوالہ سے علامہ جلال الدین اسیوطی نے کہا ہے کہ قرآن و حدیث کی دی ہوئی معلومات سے ثابت ہے کہ اصحاب کہف آپ ؑ(اما م مہدی علیہ السلام) کے انصار میں سے ہوں گے اور ان کی موت تاخیر کا راز اس (آخری) زمانہ تک اس میں ہے کہ ان کو امت محمدیہ میں داخل ہونے کا شرف کرامت اور عزت اﷲ تعالیٰ دینا چاہتا ہے اور یہ کہ وہ خلیفہ برحق کی مدد کریں ۔اسی طرح بندہ ٔ مومن کے لئے ایک اور خوشخبری یہ ہے کہ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ……
’’اور بے شک ہم نے زبور( کتب ِ سماویہ) میں لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہوں گے‘‘(انبیاء105)
(سورۃ اعراف129)……’’بہت قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے دشمنوں کوہلاک کر دے اور خود تمھیں ہی زمین کاخلیفہ بنا دے پھر دیکھ لے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو‘‘
(سورۃ الفتح آیت22-23)……’’اور اگر یہ کافر تم سے لڑیں تو ضرور تمہارے مقابلے میں پیٹھ پھیر دیں گے پھر کوئی حمایتی نہ پائیں گے نہ مدد گار،اﷲ تعالیٰ نے کافر کیلئے یہی دستور کر رکھا ہے جو پہلے سے چلا آتا ہے اور ہرگز تم اﷲ کا دستور بدلتا نہ پاؤ گے‘‘۔
تفسیر……:مندرجہ بالا حدیث پاک اور آیت قرآن پاک سے یہ امر اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آخری زمانے میں جب یہود و نصاریٰ مسلمانوں کے خلاف نبرآزما ہوں گے تو آخری فتح مومنین اور مسلمین ک ہی ہوگی اور اﷲ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ اس نے کفار کے لئے یہی اصول وضع کر رکھا ہے۔جب یہ حقیقی مسلمانوں کے مقابل آتے ہیں تو شکست و ذلت ان کا مقدر بن جاتی ہے۔اب ظاہری طور پر جو بھی مسلمان ہیں ان کو یہ امر ذہن میں رکھنا چاہئے کہ آخری زمانہ میں فتح و نصرت صرف روحانی اور دلی طور پر جومسلمان ہوں گے ان مسلمانوں کو ملے گی۔ باقی سب دجال کے گروہ میں شامل ہو جائیں گے اور جب کفار و یہود تہ تیغ ہو جائیں گے تو مسلمانوں کو زمین کی سربراہی مل جائے گی۔
(سورۃ مائدہ آیت54)……’’اے ایمان والو تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر جائے گا تو عنقریب اﷲ تعالیٰ دوسری قوم لے آئے گا کہ وہ اﷲ کے محبوب اور اﷲ ان کا محبوب،مسلمانوں پر نرم اور کافروں پر سخت اﷲ کی راہ میں لڑیں گے اورکسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ کریں گے۔یہ اﷲ تعالیٰ کا فضل ہے جس کو چاہیں عطاء فرمائیں اور اﷲ تعالیٰ بڑے وسعت والے اور عطا والے ہیں‘‘۔
تفسیر……: اﷲ تعالیٰ بے نیاز کر دے گا، ہر ایک کو اپنی وسعت سے ،زمین اپنے خزانے اگل دے گی۔ زرعی زمین اپنی پیداوار بڑھا دے گی۔مومنوں کے دلوں میں علم ڈال دیا جائے گا۔علم ان کے دلوں میں القا کیا جائیگا۔ مومنین کا خواب آخرالزمان میں سچا ہوگا، اور ایک گم شدہ اور چھوڑے ہوئے ’’امر‘‘(دین اسلام) کی طرف رجوع کریں گے ،اﷲ کی زمین پر نور الٰہی سے روشن چراغ ہیں(یعنی مومنین)۔
(سورۃ محمد آیت38)……’’اور اگر تم منہ پھیرو گے(دین سے) تو اﷲ تعالیٰ تمہیں دوسری قوم سے بدل دے گا جو پھر تم جیسے نہ ہوں گے‘‘۔
تفسیر……:مندرجہ بالا آیت کی دلیل میں واضح ہے کہ پہلے ایک ہزار سال میں مجدد عرب میں آتے رہے اور پھر اس کے بعد عجم میں اب تک مجدد پیدا ہو رہے ۔ہیں۔ابن کثیر لکھتے ہیں کہ اگر اس کی(اﷲ کی) شریعت کی تابعداری چھوڑ دی تو وہ تمہارے بدلے تمہارے سوا اور قوم لے آئے گا جو تم جیسی نہ ہوگی اور سننے اور ماننے والے حکم بردار ہوں گے اور نافرمانوں سے بے زار ہوں گے اور ابن حاتم اور ابن جرید میں بھی ہے جب حضور نبی پاک ؐ سے پوچھا گیا کہ حضورؐ وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے بدلے لائے جائیں گے اور ہم جیسے نہ ہوں گے تو آپ ؐ نے اپنا ہاتھ حضرت سلمان فارسیؓ کے شانے پر رکھ کر فرمایا ’’یہ اور ان کی قوم‘‘ اگر دین ثریا کے پاس بھی ہوتا تو بھی اسے فارس کے لوگ لے آتے۔(مسلم2546،عبدالرزاق19923،الصحیہ1017)۔
(سورۃ جمعہ آیت3)……’’اور آخرین بھی انہیں میں سے ہیں جو اب تک ان سے نہیں ملے‘‘۔(زمانہ اعتبار سے)
جب حضور نبی پاک ؐ نے اس زمانے کی فتوحات اور پھر آخر الزمان کی فتوحات کی خوشخبری سنائی توکفار نے طنزاً اور اعتراضاً کہا کہ آپ جن فتوحات کا ذکر کرتے ہیں کہ تم ہم پر فتح پاؤ گے اور آخری زمانے کی فتوحات بھی یہ توبتا دیں وہ وقت کب آئے گا ۔ہم تو مدتوں سے تمہیں مغلوب اور زیر ہی دیکھ رہے ہیں ۔اگر سچے ہو تو اپنے غلبے کا اور اپنی فتح کا وقت تو بتا دو تو اﷲ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان کفار کو اور دشمنوں کو ان الفاظ میں جوا ب دیا۔
(سورۃ زخرف آیت44)……’’بے شک وہ شرف ہے( قرآن) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کیلئے(یعنی خلافت و امامت اس امت کے اول و آخر میں رکھی گئی ہے)اور عنقریب تم سے سوال ہوگا‘‘۔
(سورۃ صف آیت13)……’’اورآپ کو ایک دوسری نعمت بھی دے گا (آخر والی) جو آپ کو بہت پیاری ہے،اﷲ تعالیٰ کی مدد اور جلد آنے والی فتح اور ایمانداروں کو خوشخبری دے دیں‘‘۔
(سورۃ النساء آیت159)……’’کوئی کتابی ایسا نہیں جو اس کی (حضرت عیسیٰ ؑ) کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے‘‘۔
(سورۃ سجدہ نمبر28-29’’ آیت یوم الفتح‘‘)……’’اور (کفار)کہتے ہیں کہ یہ فیصلہ یعنی فتح کا دن کب آئیگا اگر آپ سچے ہیں تو بتلا دیجئے،آپ جواب دیجئے کہ فیصلے یعنی فتح والے دن کسی کا ایمان لانا بے ایمانوں کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی،آپ ان سے اعراض کیجئے اور ان کا خیال بھی چھوڑ دیجئیاورآپ انتظار کیجئے اور وہ بھی انتظار کریں‘‘۔
تفسیر……: قرآن پاک کی سورۃ سجدہ کی آیت(یوم الفتح) کے نام سے تعبیر کی گئی ہے۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ یہ آخری زمانے کی مسلمانوں کو آخری فتح کا ذکر ہے۔ اس معرکے کے بارے میں نبی کریم ؐ نے فرمایا ہے،مسلمانوں کی طاقت(یا جمنے) کی جگہ اس جنگ کے غوطہ سے دمشق کی طرف ہوگی جو کہ ملک شام کے سب شہروں سے زیادہ بابرکت ہوگا۔
آخری زمانے میں گو کہ ابتدا میں دجال اور اس کے پچاریوں کی طاقت و حکومت وسیع تر ہو گی مگر حضرت امام مہدی ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ اور ان کی فوج کے ہاتھوں یہود و نصاریٰ کو بہت بڑی شکست ہوگی۔علما ء یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں بھی اس کی بڑی تفاصیل آئی ہیں۔
معرکہ ّآخر الزمان سے متعلق حدیث مبارک ملاحظہ فرمائیں……
’’اس دن ایسی کوئی مخلوق نہ پائیں گے جو کہ ان کے اور رومیوں کے درمیان داخل ہو سکے‘‘۔(کنز،ابن عساکر219-652)۔
حضرت جابر ؓؓ سے روایت ہے کہ ……
ہم نہیں دیکھیں گے کہ دجال نکل آیا ہے جب تک روم فتح نہ ہوجائے گا۔(مسلم ص18-26)(احمد الفتح24-54)۔
ابوفداء ابن کثیر نے سورۃ نور کی تفسیر میں بارہ اماموں کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ امام مہدی ؑ بارہویں اور آخری امام ہوں گے یہ اﷲ تعالیٰ کے سچے خلیفہ ہیں اور خلفائے راشدین مہدین میں سے ایک ہیں اﷲ تعالیٰ ان کے لئے ایک رات میں معاملات درست کر دے گا اور الہام کے ذریعے ان کی مدد کرے گا۔
حضرت شاہ نعمت اﷲ ولیؒ بنی اسرائیل کی آیت81کے بارے میں فرماتے ہیں کہ (اس میں آخرالزمان کی فتوحات کے بارے) یہ آیات آخری زماناے کی فتوحات کی دلالت کرتی ہیں۔
حدیث……:علامات کبریٰ میں سے زیر نظر حدیث مبارک سے واضح ہو جاتی ہے کہ حضرت عبداﷲ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا کہ ’’مشرق سے کچھ لو گ نکلیں گے جو امام مہدیؑ کیلئے خلافت کو آسان کر دینگے‘‘۔
آج پاکستانی قوم ایک بہت بڑے امتحان میں ڈال دی گئی ہے ۔دشمن اس کے چاروں طرف بیٹھے ہیں مگر قرآن و حدیث کی روشنی میں پاکستان اس امتحان میں سے اﷲ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اورحضور نبی پاک ؐ کے اہل بیت کی فیوض اور برکات سے اس سے نہ صر ف کامیاب و کامران ہو کر نکلے گابلکہ دنیا کی سپر پاور بن کر ابھرے گا،اہل مغرب اب جنگ کو آرمجدون کا نام دیتے ہیں۔
جیسا کہ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں کہ آخری زمانے کی بین الاقوامی جنگوں کی ابتداء غزوہ ہند سے ہوگی اور اس کی انتہا ’’آیت یوم الفتح‘‘ کے مطابق القدس میں ہوگی اور ان جنگوں کا دورانیہ نو ،دس سال رہے گا ۔
(سورۃ بقرہ آیت247-248)……’’غرض جب طالوت اپنی فوجیں لے کرروانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ اﷲ ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا اس کی (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ)وہ میرا نہیں اور جو نہ پئے گا وہ(سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو پھر پانی لے لے۔(تو خیر جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔پھر جب طالوت اور لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر پار ہوگئے تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو اﷲ کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسا اوقات تھوڑی سی جماعت نے اﷲ کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور اﷲ استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے‘‘۔
عالم اسلام کے لئے آخری زمانے کی ایک اور خوشخبری……آسمان سے دم دار ستارہ نمودار ہوگا۔
یوم الارتقب
(سورۃ دخان آیت10-11)……’’پس آپ ان کے لئے اس روز کا انتظار کیجئے کہ آسمان کی طرف سے ایک نظر آنے والا دھواں پیدا ہو جو ان سب لوگوں پر عام ہو جائے گا۔یہ بھی ایک درد ناک سزا ہے‘‘۔
تفسیر……:دُم دار ستارہ(ارتقب):قرآن کریم میں ایک لفظ ارتقب آیا ہے جس کامطلب ہے دُم دار،اس دُم دار کا اثر پوری انسانی تاریخ پر ہے اور اس دُم دار کو دریافت کرنے والے نے اس کو پوری دنیا کے لئے دریافت کیا ہے۔ اس کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ پہلے پہل یہ مستقلاً زمین کے قریب تر ہوتا تھا اور اب ہر76سال بعد زمین کے قریب ہوتا ہے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ یہ دُم دار ہوتا ہے ۔ماہرین نجوم نے اس کی دُم کی لمبائی تیس ملین کلومیٹر بتائی ہے ۔جو کہ دھوئیں اور مٹی سے جلی ہوئی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک نے اس پر اپنے خلائی مشن بھی بھیجے ہیں ۔کوئی معلومات حاصل نہیں کر سکے۔ چند برس قبل جو تو نامی ایک خلائی جہاز جب اس دُم دار کے قریب گیا تو 2سیکنڈ کے اندر ہی اس دُم دار میں موجود مٹی اور دھوئیں نے اس جہاز کا کام تمام کر دیا۔
آئمہ اسلام کے مطابق یہ دُم دار حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور کے موقع پر ظاہر ہو چکا ہے اور قسطنطنیہ ( رومن کا پایہ تخت اور آج کا استنبول ترکی میں)کے محمد الفاتح کے ہاتھوں مفتوح ہونے پر بھی یہ ظاہر ہو چکا ہے۔ واضح ہو کہ اہل مغرب اس دُم دار کو اپنے لئے نحس اور پریشانی کی خبریں لانے والا ستارہ سمجھتے ہیں، کیونکہ فتح قسطنطنیہ کے موقع پر اس سلطنت کے دارالخلافہ کی چولیں ہل گئی تھیں۔ اسی بناء پر بابا کا لیکس نے اس دُم دار کو شیطان کے مدد گار کے نام سے موسم کیا ہے۔(نعوذ باﷲ)۔
اب بشارت یہ ہے کہ یہی دُم دار حضرت(محمد) مہدی المنتظر علیہ السلام کے ظہور پر بھی نمودار ہوگا جس کے ظاہر ہونے پر روم تباہ ہو جائے گا اور اس پر مسلمان غالب آجائیں گے یقینا مسلمانوں کاغلبہ اﷲ کی جانب سے پیغام نصرت ہوگا۔یہ دُم دار تو اﷲ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ہے جو کہ اپنے اندردھواں لئے ہوئے ہے اور یہی دھواں نفاق کی چھاؤنی کو ایمان کی بستی والوں سے علیحدہ کردے گا۔
دُم دار سے برآمد ہونے والے اس دھوئیں کے مومنوں پر اثرات یہ ہوں گے کہ وہ زکام،نزلہ جیسی کیفیت محسوس کریں گے مگر یہ دھواں منافقوں کے نتھنوں میں داخل ہوگا تو وہ فوراً سوج پھول جائیں گے اور مرض الموت میں مبتلا ہو جائیں گے۔
جیسا کہ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ……
’’یہ دھواں اس چھاؤنی پرآخری حجت ہوگی‘‘۔
پھر دابۃ الارض نکلے گا اس کا نکلنا بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام کے زمانے میں ہوگا تا کہ لوگوں کو ایمان والی چھاؤنی میں علیحدہ کر دے کیونکہ منافق تو اس دھوئیں کو سونگھتے ہی پھول کر کپا ہو جائے گا حالانکہ وہ منافق قیادت والے دنیاوی منصب پر یا اہل اقتدار کے حامیوں میں ہوں گے یا پھر عام لوگ ہوں گے۔
امام مہدی علیہ السلام کی حکومت کی علامت:دُم دار ستارہ سے متعلق نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کا ایک اور ارشاد پاک ہے کہ ……
’’مہدی(علیہ السلام)کی حکومت قائم ہونے کی نشانیوں میں ایک یہ (دُم دار) بھی ہے‘‘۔
ایک اور حدیث نبوی صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم ہے کہ ……
’’ایک ایسا ستارہ نکلے گا جس کی دُم چمکدار ہوگی‘‘۔
نعیم بن حماد نے عقدار میں ص111میں روایت کیا ہے کہ یہ وہی ستارہ ہے یا دم دار ہے جو کہ دھوئیں کو اپنے اندر لئے ہوئے ہے جس کا ذکر اﷲ تعالیٰ کی کتاب میں آیا ہے۔
احادیث مبارکہ میں یہ بات کثرت سے بتا دی گئی کہ دجال اور حضرت مہدی علیہ السلام ایک ہی زمانے میں آئیں گے جبکہ ابن کثیر کے مطابق دھواں آنے والی نشانیوں میں سے ایک بڑی نشانی ہے۔
یہ دُم دار(ستارہ) ،دھواں امت مسلمہ کے اہل ایمان،اہل یقین کے لئے یقینا بڑی خوشخبری ہوگا اور منافقین و کفار کے لئے عذاب ہوگا۔ مغرب کی تمام تر ترقی کے باوجود ان پر عذاب الٰہی نازل ہوگا اور مومنین بے شک تعداد میں تھوڑے اور وسائل سے بے نیاز ہوں گے لیکن اﷲ تعالیٰ کی رحمت اور کرم سے وہ مالا مال ہو ں گے۔آخرالزمان میں ہی مومنین کے لئے انعامات و کرامات کا نزول شروع ہو جائے گا اور پھر وہ تا ابد الآباد انعامات کی بارش میں ہی زندہ رہیں گے جبکہ کفار و منافقین کے لئے درد ناک عذاب تیار کر کے رکھا گیا ہے۔ آج بھی وقت ہے کہ ہم تقویٰ و پرہیز گاری کو شعار بنا لیں ،کفار کی تقلید چھوڑ دیں اور امت مسلمہ کے لئے کچھ ایسا کر جائیں کہ فلاح دارین ہمارا مقدر بن جائے۔آمین

یوم الخلاص
یوم الخلاص وہ دن ہے جس دن دجال مدینہ منورہ کے قریب احد پہاڑ پر چڑھ جائے گا اور اس کے بعد عاجز آ جائے گا اور رعد(گرج کڑک) سے خوفزدہ ہوگا کیونکہ وہاں اﷲ تعالیٰ کے فرشتے حفاظت کرتے ہوں گے۔
حضور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا……
حدیث:’’یہ(یوم الخلاص) ہے اور یوم الخلاص کیا ہے،تو لوگوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ ؐ یوم الخلاص کیا ہے ۔آپؐ نے فرمایا مدینہ المنورہ میں زلزلے یا جھٹکے آئیں گے ۔یکے بعد دیگرے ،حتیٰ کہ وہاں سے ہر کوئی جو ایمان میں مخلص نہیں ہوگا یعنی منافق نکل جائے گا اور وہاں وہ ہی رہ جاے گا جو کہ خالص مومن ہوگا جس پر دجال کا کوئی اثر نہیں ہوگا۔(فتح الباری جلد4ص82،ابن مجر)
تو پھر وہاں کوئی منافق یا منافقہ نہیں رہے گی اور جو کوئی فاسق یا فاسقہ ہوگی وہاں سے نکل جائے گی اور پھر مدینۃ المنورہ ان سب لوگوں سے پاک اور صاف ہو جائے گا وہی’’یوم الخلاص‘‘ ہوگا ۔جس کا ذکر آیا تھا اور نبی پاک ؐ نے فرمایا تھا کہ یوم الخلاص ہوگا۔
یوم الرعد
آخر الزمان میں اﷲ تعالیٰ کڑک اور بجلی سے لوگوں کو ڈرائے گا ۔
(سورۃرعد آیت11-12)……’’وہی اﷲ ہے جو تمہیں بجلی کی چمک ڈرانے اور امید دلانے کیلئے دکھاتا ہے اور بوجھل بادلوں کو پیدا کرتا ہے ،گرج اس کی تسبیح و تعریف کرتی ہے اور فرشتے بھی اس کے خوف سے ،وہی آسمان سے بجلیاں گراتا ہے جس پر چاہتا ہے اس پر ڈال دیتا ہے،کفار اﷲ کی بابت لڑ جھگڑ رہے ہیں ،اﷲ سخت قوت والا ہے‘‘۔
تفسیر:طبرانی میں لکھا ہے کہ آخری زمانے میں بکثرت بجلیاں گریں گی ،مسند کی حدیث میں ہے کہ قیامت کے قریب بجلی بکثرت گرے گی ۔
حدیث مبارکہ:حضور صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ ایک جماعت میری امت میں سے ہمیشہ حق پر رہ کرغالب رہے گی ان کے دشمن انہیں ضرر نہ پہنچا سکیں گے۔ان کے مخالف انہیں رسوا اور پست نہ کر سکیں گے یہاں تک کہ قیامت قائم ہو جائے گی۔
(بخاری،کتاب المناقب باب28،مسلم کتاب العمارہ)
حدیث مبارکہ:حضور نبی پاک صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا’’میں عرب ہوں مگر عرب میرے اندر نہیں ہے،میں ہند سے نہیں مگر ہند میرے اندر ہے‘‘۔
حدیث مبارکہ:نبی پاک صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا……
’’میری امت میں سب کے سب مغلوب نہ ہوں گے‘‘۔(احمد170/5)
حدیث مبارکہ:نبی پاک صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا……
’’ابن قیم اپنی مشہور کتاب الافہام ص185میں لکھتے ہیں کہ’’اہل بیت کی برکات میں یہ بات شامل ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی قوت ان کے ہاتھوں سے ظاہر ہوگی ،جس میں دنیا و آخرت کی سب برکات شامل ہیں ،یہ ظاہر نہیں ہونگی مگرصرف اور صرف اہل بیت کے ہاتھوں سے‘‘۔
حدیث مبارکہ:نبی پاک صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا……
’’میری امت میں ایسے لوگ بھی آئیں گے کہ اگر ان کو کہا جائے کہ مجھے خواب میں دیکھنے کے عوض اپنے بال بچوں اور مال کے بدلے میں خرید لو ،تو وہ خرید لیں گے‘‘۔(اس کو حاکم نے روایت کیا ہے جلد نمبر4،ص85 اور ذابہی نے بھی اسے پڑھا ہے)
حدیث مبارکہ:نبی پاک صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا……
حضرت معقل بن یسارؓ(مسلم) فتنے کے زمانے میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کا ثواب رکھتی ہے‘‘۔
حدیث مبارکہ:نبی پاک صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا……
’’علامات کبریٰ میں سے زیر نظر حدیث مبارکہ سے واضح ہو جاتا ہے کہ ’’حضرت عبداﷲ بن حارث فرماتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا کہ ’’مشرق سے کچھ لوگ نکلیں گے جو امام مہدی علیہ السلام کیلئے خلافت کو آسان کر دینگے‘‘۔
سورۃ واقعہ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آخری زمانے میں بھی کچھ لوگ سابقون اور مقربون ہوں گے ۔
آج پاکستان کے حالات و واقعات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات بہت ضروری ہوگئی ہے کہ ہم بحیثیت ملک و ملت ’’اجتماعی توبہ ‘‘کی طرف رجوع کریں۔بالکل اسی طرح جس طرح کہ بنی ا سرائیل کے بارے میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بیان کر دیا ہے کہ وہ بھی صدیوں تک فقہی اختلاف کے فتنوں میں پڑے رہے اور آپس میں دست و گریبان رہے اور ایک دوسرے کو ہی قتل کرتے رہے ،مگر جب انہوں نے فقہی اور قبائلی اختلاف کو ایک طرف رکھ کر اﷲ کے نبی ؐ کے پاس گئے اور اقرار کیا کہ ہم اجتماعی توبہ کی طرف آتے ہیں اور ہم متحد ہیں آپ اﷲ سے درخواست کریں اور ہمارے اوپر ایک بادشاہ مقرر کر دیں تا کہ ہم ایک قوم بن جائیں ،تو اﷲ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے ان کے اوپر ایک بادشاہ (طالوت) مقرر کر دیا اور ان کو حضرت داؤد اور حضرت سلیمان کے زمانے میں خلافت ،امامت اور ایک عظیم الشان اور طاقت ور سلطنت عطاء کی ۔
پاکستان کے لئے بھی اسی طرح آخری زمانے کی خلافت انتظار کر رہی ہے اور اگر ہم اجتماعی توبہ کریں گے تو اﷲ تعالیٰ ہمارے اوپر بھی اﷲ کے نیک بندے حکمران مقرر کر دیں گے، جیسے کہ اﷲ اور اس کے رسول ؐ کا وعدہ ہے اور ہمیں بھی امامت،خلافت اور عظیم الشان اور طاقتور ترین سلطنت عطاء کی جائے گی جس کا وعدہ قرآن پاک میں بھی ہے اور اﷲ کے پیارے رسولؐ نے بھی کیا ہے۔
پھر یہی التماس ہے اور ہماری قوم کے لئے یہ لازم ہے کہ انتشار ، اختلاف کے فتنہ و فساد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہو جائیں تا کہ اﷲ تعالیٰ کی نصرت حاصل ہو جائے اور شکوک شبہات اور وسوسوں سے بھی نجات مل جائے ،اور وہ کامیابیاں اور کامرانیاں جو ہماری منتظر ہیں وہ ہمیں مل جائیں ۔
(آمین ثمہ آمین)
اجتماعی توبہ تو ہمارے مقدر میں لکھی ہوئی ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ علامات کبریٰ یعنی بڑے عذابوں کے آنے سے پہلے پہلے یہ کرلیتے ہیں یا عذابوں کے آجانے کے بعد۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے سورۃ شعرا ٔ آیت4میں فرما دیا ہے’’اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی اتار دیں جس کے سامنے ان کے بڑے بڑوں کی گردنیں جھک جائیں‘‘۔ تو بہتر ہے کہ ایسا ہونے سے ہی ہم اجتماعی توبہ کرلیں۔علامات کبریٰ کے ظہور تک عذاب کو موخر کر دیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.