"ٹرین کے بڑھتے ہوئے حادثات "

186

تحریر: اسماء طارق۔۔
ہمارے ملک میں حادثات کی وجوہات جاننے یا وجوہات ختم کرنے کے بجائے قدرت کالکھا کہہ کر معاملے کو ختم کر دیا جاتا ہے یا پھر زیادہ عوامی ہمدردی اورزیادہ چستی و ذمہ داری دکھانا ہو تو ایک دو کمیٹیاں بنا کر معاملے کو کمیٹیوںکی رپورٹ آنے تک لٹکا دیا جاتا ہے۔ عموماً بڑے واقعات کی کمیٹی یا جوڈیشلکمیٹی یا انکوائری رپورٹ بہت تاخیر سے آتی ہے جسے قومی مفاد ۔یہ امر واقعی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی فضائی و زمینی حادثات ہوتےہیں۔زمینی و آسمانی آفات بھی آتی ہیں،سیلاب و زلزلے بھی آتے ہیں مگر ترقییافتہ ممالک ان حادثات سے نمٹنے کے لیے ریاستی سطح پہ تیار ہوتے ہیں۔ہماراالمیہ البتہ مختلف ہے۔ ہمارے ہاں اگرفضائی حادثہ ہو جائے تو اس کی تحقیقات کےلیے ٹیم بھی مغرب سے آتی ہے۔ریلوے کے حادثات ہمارے ہاں تو یوں ہوتے ہیں جیسےبڑے شہروں میں موٹر سائیکل کے۔قومی اداروں کی زبو ں حالی کا نوحہ ایک طرف،جوادارے جس طرح چل رہے ہیں ان میں بہتری کے لیے بھی توجہ نہیں دی جاتی۔جیٹی روڈکی ٹریفک کے بر عکس ریل گاڑیوں کے آنے جانے کے اوقات ہوتے ہیں اور ہر پھاٹکوالے تو اس حوالے سے معلوم بھی ہوتا ہے۔نیز ریل گاڑی جب کسی شہر یا پھاٹک کےقریب پہنچتی ہے تو چنگھاڑتی بھی ہے۔اس کے باوجود ہمارے ہاں ریل گاڑیاں مسافرگاڑیوں سےیا موٹر سائیل رکشوں سے ٹکرا جاتی ہیں۔پاکستان میں ریلوے حادثات کی سالانہ اوسط سو کے لگ بھگ ہے۔صرف دو ہزار چھ میںایک سو پچیس چھوٹے بڑے حادثات ہوئے جن میں سے زیادہ تر کے اسباب میں سگنلنگ کافرسودہ نظام، ریلوے ٹریک کی کہنہ سالی اور انسانی غفلت شامل ہے۔ریلوے کو خسارےسے دوچار کرنے والے عوامل کاتعین کرکے انہیں دورکرنے کے ساتھ ساتھ یہ امربھیملحوظ رکھناچاہئے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آ بادی کے ساتھ ساتھ ریلوے ٹریکس،ریلوے ورکشاپس اور گاڑیوں میں بھی اضافہ ہو۔ عام طورپرتویہی دیکھاگیاہے کہہماری ریل گاڑیاں مسافروں سے بھری رہتی ہیں ۔ اس کے باوجوداگرخسارہ ہے تویقینا کہیں ٹکٹوں کی بکنگ میں کوتاہی ہوگی ۔ اس نظام کی اصلاح کے لئے آ ج کےجدیدکمپیوٹرائزڈ نظام سے استفادہ کرنا ہوگا۔ حادثہ کسی عام گاڑی کاہویاریلگاڑی کا یقینی طور پر اس میں کہیں نہ کہیں انسانی غلطی کاعمل دخل ہوتاہے۔ریلوے حادثات کے خاتمے کے لئے ان غلطیوں کا امکان کم سے کم کرنے کی ضرورتہے۔ہماراریلوے نظام پٹڑی سے اتر چکاہے ۔ اسے فعال، منافع بخش اورجدیدترینبنانے کے لئے ایک مربوط حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔اس حکمت عملی میںقلیل المدتی اورطویل معیاد کے منصوبے شامل کرنے کی اشدضرورت ہے ۔ ہدایات کو میڈیا میں عام بھی نہیں کیا جاتا نہ ہی کسی جوڈیشل یا انکوائری کمیٹیکی سفارشات پر عمل کیا جاتا ہے۔اس حوالے سے فضائی حادثات سے لے کر زمینی حادثات تک ایک ہی کلیہ پر عمل کیا جاتا ہے۔ایئر بلیو اور ایک دوسری نجی کمپنی کے مسافر طیاروں کے حادثات سے لے کر ، پی آئی اے کے اے ٹی آر طیارے کے حادثے تک،حکومت اور محکمانہ حکام کی اولین ترجیح کسی نہ کسی طرح ایسی کمیٹی کی تشکیل ہوتی ہے جو مہینوں معاملے پر تحقیق کرتی رہے اور اس عرصے میں نہ صرف متاثرین کے غم کم ہو جاتے ہیں بلکہ نئے حادثات نئی کمیٹیوں کی راہ ہموار کر دیتے ہیں اور لوگ پچھلے حادثے کو کسی حد تک بھول کر نئے زخموں کی پرورش میں لگ جاتے ہیں۔اس ذمر میں جہاں حقائق اور تحقیق اور حکومتی کارروائی ضروری ہے وہاں اس کےساتھ ساتھ کچھ احتیاطی تدابیر بھی ضروری ہیں جو ہم خود ہی کر سکتے ہیں جب ٹری آنے کی اطلاع مل جائے تو مہربانی کر کے ریلوے کی پٹریوں سے کافی فاصلے پر فورا منتقل ہو جایا کریں خاص طور پر ان افراد کو احتیاط برتنی چاہیے جو ریلوے ٹریک کے پاس رہتے ہیں یاں کاروبار کرتے ہیں انہیں گاڑی آنے اور جانے کے ٹائم کو خاص طور پر مدنظر رکھنا چاہیے اور ان اوقات میں ٹرین کے ٹریک سے دور ہی رہیں ۔ہم ٹرین کو بھی دوسری گاڑیوں کی طرح ہی لیتے ہیں اور اتنی اختیاط نہیں کرتے جو پھر بہت خطرناک ثابت ہوتی ہے ابھی حال ہی میں دو بچے اس لاپرواہی کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے وہ بھی یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ ایک عام گاڑی ہی تو ہے اور اس سے تھوڑا پرے ہوجاتے ہیں اتنا ہی کافی ہے مگر ان لاعلمی ان کو موت کے منہ میں لے گئی اور دنیا کے حسن دیکھے بغیر ہی چلے گئے ایسے کتنے ہی حادثات ہیں وہ دن بدن بڑھتے ہی جا رہے ہیں ٹریفک حادثے ہوں یاں ریلوے کے فضا میں ہوں یاں سمندر میں سب میں اصل وجہ کئی حد تک لاپرواہی ہے ۔ا س میزائیلی دور میں انسانی جانیں بہت بےوقعت ہو گئ ہیں انسان زندگی کی بھاگ دوڑ میں اس قدر مصروف ہوچکا ہے کہ جو اپنے آپ سے بیزار ہے اس کے پاس اپنا خیال رکھنےکا وقت نہیں ۔ خیر ٹرین ایک بڑی گاڑی ہے جودوسری گاڑیوں میں سے سب سے زیادہ میس )mass) گھیرتی ہے ۔مگر جب یہ چلتی ہے تو اس کی سپیڈ بہت زیادہ ہوتی ہے دوسری تمام گاڑیوں کی نسبت جو اپنے ساتھ کو لے بہتی ہے جس سمت ٹرین چلتی ہے اس کےاردگرد کئی فٹ تک ہوا اسی سمت بہتی ہے جس طرف گاڑی چلتی ہے ۔جیسا کہ گاڑی کی سپیڈ بہت زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس پر پریشر کم ہوتا ہے مگر گاڑی کے اطراف میں اس وجہ سے پریشر بہت حد تک بڑھ جاتا ہے اور یہی پریشر گاڑی کے آس پاس کی ہر چیز کو گاڑی کی طرف دھکیلتا ہے جو انتہائی خطرناک ہے جس وجہ سے آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں ۔ اپنی جانوں کی پروا کیجئے کیونکہ یہ اللہ کا دیا ہوا عظیم تحفہ ہے جو ایک ہی بار ملنا ہے اس لئے اپنا خیال رکھیں، بقول شاعر : ہر شخص ہے ملت کے عروج کا ستارہ کیا بتا ہماری کس لاپرواہی سے کون سا ملت کا ستارہ ہم سے روٹھ جائے اس لیے اپنی اور دوسروں کی پروا کیجئے تاکہ ملت کا عروج ممکن ہو سکے ملت کو چاہیے کہ وہ اس زمر میں آگاہی پہنچائے ہمارے ہاں تو میڈیا کا یہ حال ہے کہ کوئی کام کی خبر دو منٹ سے زیادہ چلائی نہیں جاتی مگر انجلینا جولی کا کتامر جائے تو سوگ دو ہفتے تک چلتا ہے ۔خیر ہم کو ہے ان سے وفا کی امید جو نہیں جانتے وفا کیا ہے ۔

نوٹ:نیوزنامہ پر شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کی ذاتی رائے ہے،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.